Powered by UITechs
Get password? Username Password
 
 
1 2
Next page >>
Page 1 of 2

  Reply to Topic    Printer Friendly 

AuthorTopic
isfi22

PAKISTAN
Topic initiated on Monday, October 25, 2010  -  4:41 AM Reply with quote
Some Healthy Comments and Debates


ڈئیر آل! سلام و آداب و احترامات۔ پچھلے دنوں اتحادِ اسلامی گروپ، جس کا میں ایک ممبر ہوں، میں میری چند ڈیبیٹز ہوئیں یا میں نے کچھ تبصرے کیے، آپ کے مطالعے اور تبصرے کے لیے وہ یہاں نقل کررہا ہوں:
isfi22

PAKISTAN
Posted - Monday, October 25, 2010  -  4:50 AM Reply with quote
ایک میل میں جیو چینل کو یہودی ایجنٹ قرار دیا گیا اور پھر دوسرے بہت سے لوگوں نے بھی اسی بات کی تائید کی۔ اس میں ہوسکتا ہے کہ کچھ صداقت ہو بھی یا یہ کہ جیو چینل جس انداز اور ماڈرن اطوار اور جدید کلچر کو اپنائے ہوئے ہے اس کو بنیاد بناکر یہ مفروضہ قائم کرلیا گیا ہو۔ تاہم یہ چونکہ ہمارے ہاں ایک عام رویہ بن چکا ہے کہ ہمارے علما اور دانشور اور ہمدردانِ قوم و ملت اس طرح کے نئے نئے انکشافات فرماتے اور قوم کو ان کے خلاف ہونے والی سازشوں اور مکر و فریب پر مبنی مخالفانہ منصوبوں سے آگاہی دیتے رہتے ہیں۔ اس عمومی رویے نے قوم کو بے حد نقصان پہنچایا ہے، وہ اپنی کمزوریوں اور خامیوں کو دیکھنے اور دور کرنے کے بجائے ہر نازک وقت اور مشکل و پریشانی کا سبب کسی سازش اور چال کو بتاکر فارغ ہوجاتے ہیں۔ پھر اس طرح کی روز روز کی خبروں کی بھرمار نے ان کی قوتوں اور صلاحیتوں کو بالکل مفلوج و ناکارہ بنادیا ہے کیوں کہ اس طرح کی خبریں دینے والے قوم کو کوئی تعمیری رہنمائی نہیں دیتے بلکہ بس اس طرح کے انکشافات اور نقاب کشائیوں ہی پر اکتفا فرماتے رہتے ہیں جس سے قوم پر یہ اثر ہوتا ہے کہ ہمارا تو جینا ہی مشکل ہے، ہم تو سروائیو ہی نہیں کرسکتے، جب ہمارے خلاف اتنے بڑےء پیمانے اور اتنے زوردار طریقے سے سازشیں رچی جارہی ہیں تو پھر تو ہمارا باقی رہنا ہی محال ہے۔ اس طرح قوم میں مسلسل بے ہمتی، مایوسی اور بے حوصلگی بڑھتی جارہی ہے۔ مگر ہمارے یہ نادان دوست ہیں کہ اپنے انہی ڈھنڈوں اور مشغلوں میں مگن ہیں۔ اسی طرح کی یہ ایک ای میل تھی جس پر میں نے درج ذیل تبصرہ کیا:


ہمارے معاشرے کے لوگوں کا یہ عمومی مزاج بن گیا ہے کہ وہ اپنے دشمنوں اور بدخواہوں کا سراغ لگاتے رہتے اور ایسے اداروں اور تنظیموں کی کھوج میں لگے رہتے ہیں جو ان کے خیال میں اسلام، مسلمانوں یا پاکستان کے لیے برے اور خطرناک جذبات رکھتے اور پاکستان اور پاکستانی مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لیے سازشوں اور چالوں میں مصروف ہیں۔ یہ مزاج اس سے زیادہ بھیانک و سنگین صورت میں ہمارے علما کا ہے کہ وہ کسی بھی نمایاں ہونے والے دانش ور اور مذہبی اسکالر کے خیالات میں اپنی دانست میں کوئی نہ کوئی شوشہ یا قابلِ اعتراض بات ڈھونڈ نکالتے ہیں اور پھر یہ شور اور تشہیر شروع کردیتے ہیں کہ فلاں اسکالر یا ادارہ ہندوؤں یا امریکیوں کا ایجنٹ ہے اور دینی لبادہ اوڑھ کر سادہ لوح مسلمانوں اور پاکستانیوں کو دھوکہ دے رہا ہے۔ اس کا اصل مقصد اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات پھیلانا اور شروع سے متفقہ طور پر مقبول چلی آتی اسلامی روایات میں اختلاف کی دڑاڑیں کھڑی کرنا ہے۔


بات اصل میں یہ ہے کہ یہ دنیا مقابلے اور چیلنج کی دنیا ہے۔ یہاں جس طرح افراد باہم مسابقت کرتے اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے اور ممتاز و فائق مرتبہ حاصل کرنے کی تگ و دو کرتے ہیں اسی طرح مختلف گروہ اور جماعتیں اور ادارے اور اقوام بھی باہم دوڑ لگاتے اور ایک دوسرے کو مات دے کر آگے نکل جانا چاہتے ہیں۔ اس صورتحال کی وجہ سے جہاں ایک فرد کو دوسرے افراد کی طرف سے مشکلات اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے اسی طرح اقوام اور گروہوں کو بھی ایک دوسرے کی طرف سے رکاوٹیں، سازشیں، چالیں اور مخالفانہ منصوبے پیش آتے ہیں۔ یہ ایک فطری چیز ہے۔ اس کا علاج و حل یہ نہیں ہے کہ ہم اس صورتحال پر چین بجبیں ہوں، واویلا مچائیں، شور و ہنگامہ کریں، مخالفیں کے خلاف اور ان کی سازشوں اور منصوبوں کے بارے میں لفظی بمباری اور بیانی گولہ بارودی کی مہم چلائیں۔ بلکہ اس کا صحیح توڑ اپنی تعمیر اور خود کو اتنا مضبوط و توانا بنانا ہے کہ ہر طرح کی مخالفانہ سرگرمیاں آپ کو نقصان پہنچانے سے عاجز ہوجائیں۔ آپ خود کو اتنا اونچا اٹھائیں اور اتنی بلندی پر لے جائیں کہ ہر طرح کی سازشوں اور چالوں کی زد سے باہر ہوجائیں۔ جو لوگ قوم کو پریشانیوں، مشکلات اور چیلنجز کے بارے میں تو فراوانی کے ساتھ اطلاعات دیتے رہتے اور حالات کی تاریکیوں ہی کے رخ دکھاتے رہتے ہیں اور قوم کو یہ سبق نہیں پڑھاتے کہ وہ خود کو توانا اور مضبوط بنائے۔ ان حالات سے گھبرانے اور بے حوصلہ ہونے کے بجائے اپنی تعمیر و استحکام کی کوششوں میں لگی رہے، وہ دراصل قوم میں مایوسی اور بزدلی اور بے ہمتی پھیلاتے ہیں۔ ایسے لوگ بزعمِ خود قوم کے خیرخواہ اور ہمدرد ہوتے ہیں لیکن وہ جو خدمت انجام دیتے ہیں وہ نادان دوست کے محاورے کے مصداق قوم کے حق میں الٹا نتیجہ پیدا کرنے والی ثابت ہوتی ہے۔ وہ ان خبروں اور انکشافات کے ذریعے قوم کو بیدار کرنا اور چوکنا بنانا چاہتے ہیں اور ہوتا یہ ہے کہ قوم ان بری خبروں اور تابڑ توڑ سازشوں کے احوال سن سن کر مایوس و بے حوصلہ ہوجاتی ہے۔


اصل کام مخالفانہ منصوبوں کا سراغ لگانا اور ان سے قوم کو آگاہ کرنا نہیں ہے بلکہ اصل اور حقیقی کام یہ ہے کہ آپ قوم کو اپنی تعمیر کے لیے بیدار کریں۔ اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے پکاریں اور جگائیں۔ اپنے اندر اعلیٰ اخلاق و کردار اور مضبوط و ناقابلِ شکست ڈسپلن پیدا کرنے کے لیے ابھاریں۔ فرد فرد کا علم و آگہی اور سوجھ بوجھ اور فہم و بصیرت سے آراستہ کریں۔ اور دشمنوں اور سازشوں کے خلاف لفظی چیخ پکار کرنے کے بجائے ٹھوس تعمیری انداز میں اور صبر و ثابت قدمی کے ساتھ خود کو اتنا مضبوط و جاندار بنانے کی سعی کریں کہ مخالفین کی تمام چالیں اور سازشیں بے اثر ہوکر رہ جائیں۔ مسلمان جب سے سیاسی طور پر مغلوب ہوئے ہیں وہ اپنے مخالفین کے خلاف صدیوں سے شور و شکایت کرنے اور قلمی و لسانی احتجاج میں مشغول ہیں۔ ان کے چھوٹے بڑے نمائندگان روز نئی نئی سازشوں اور مخالفانہ منصوبوں کی نقاب کشائی کے کارنامے انجام دے رہے ہیں لیکن اس ساری تگ و دو سے حاصل کچھ بھی نہیں ہوا۔ مسلمانوں نے اگر کچھ عرصہ بھی اپنی تعمیر و استحکام کے لیے خرچ کیا ہوتا اور اپنے افراد کو علم و شعور اور اخلاق و کردار کے حوالے سے بلند و ممتاز بنانے کی جدوجہد کی ہوتی تو آج صورتحال بالکل مختلف ہوتی۔ مسلمان دوسری ترقی یافتہ اور مستحکم قوموں کی صف میں جگہ پائے ہوئے ہوتے اور ان کے دشمن اور مخالف ان کے خلاف اپنے کسی منصوبے اور سازش کو کارگر بنانے میں کامیاب نہ ہوتے۔ دیکھیے مسلمانوں کے خداوند نے اپنی آخری ہدایت میں کیا ارشاد فرمایا ہے کہ


"اور اگر تم صبر و تقویٰ کی روش پر قائم رہو گے تو ان کی چال تمہیں کچھ بھی نقصان نہ پہنچاسکے گی۔"، (آلِ عمران: 120)


اس فرمان کے مطابق ہمارا دھیان چالوں اور سازشوں اور ان کی نقاب کشائی کی طرف ہونے کے بجائے اپنی داخلی کمزوریوں کو دور کرنے اور خود کو مضبوط و توانا بنانے کی طرف ہونا چاہیے۔ اپنے اندر صبر (ثابت قدمی اور مشکلات کے مقابلے میں ڈٹ جانے) اور تقویٰ (خدا خوفی اور برائیوں سے پرہیز) کی صفات پیدا کیجیے۔ اپنی تعمیر کیجیے۔ اپنا احتساب کیجیے۔ اپنے اخلاق و کردار کو نبوی ماڈل و نمونے کے مطابق بنائیے۔ پھر انشاء اللہ آپ کے اندر وہ استحکام و قوت اور اندرونی جماؤ اور ثبات پیدا ہوگا کہ کسی کی مخالفانہ کاروائیاں اور برے ارادے آپ کا بال بھی بیکا نہ کرسکیں گے۔ یہی کرنے کا کام ہے۔ اور یہی ہمیں اور ہمارے سبھی ہمدردوں کو کرنا چاہیے۔ افراد اور اداروں کے بارے میں یہ خبریں دینا کہ وہ دشمنوں کے ایجنٹ اور بدخواہوں کے ہاتھوں کی کٹھ پتلیاں ہیں اور مسلمانوں اور پاکستانیوں کو نقصان پہنچانے کے لیے سرگرم ہیں، قوم کو مایوسی اور بے ہمتی کی طرف دھکیلنے کی نادان دوست کی سی حرکت ہے۔ اس سے ہر ایک کو پرہیز کرنا چاہیے۔


جس چینل پر یہاں گفتگو ہورہی ہے۔ مان لیا کہ وہ کسی کے ایجنڈے پر کام کررہا اور کسی کے اشاروں کو جامۂ عمل پہنارہا ہے تو اس بات کو بار بار نشر کرنے اور اس پر زبانی احتجاج و ہنگامہ کرنے سے آخر کیا حاصل ہوگا۔ یہ تو محض دل کی بھڑاس نکالنے والی بات ہے جو معاف کیجیے گا، کمزوروں اور پست ارادہ و ہمت لوگوں کا کام ہے۔ شیر دل اور فتوت و مردانگی سے بھرپور نوجوانوں کا کام ان باتوں میں الجھنا نہیں بلکہ اصل تعمیری میدانوں اور استحکام کے حصول کی سرگرمیوں میں لگ جانا ہے۔ ہماری قوم کا معاملہ تو اتنا نازک اور افسوسناک ہے کہ وہ جب کسی بات پر بپھرتی اور احتجاج و سوگ کے اظہار کے لیے سڑکوں پر آتی ہے تو چاہے ان کا دل کسی امریکہ یا برطانیہ یا ڈنمارک کے شہری نے دکھایا ہو، وہ اپنے ہی ملک و شہر کے باسیوں کے جان و مال کے درپے ہوجاتی اور اپنی ہی قومی املاک کو برباد کرنے پر تل جاتی ہے۔ ذرا قوم کی ذہنیت اور کردار کی اس طرح کی خامیوں پر بھی دھیان دیجیے۔ قوم کے شعور کو بلند کرنے کی کوشش کیجیے۔ قوم کو اعلیٰ اخلاقی اوصاف اور بلند نظری و خیالی کے میدان میں آگے بڑھائیے۔ اس کے عمل و کردار کی ایسی خامیوں اور کوتاہیوں کو درست کرنے کی کوشش کیجیے۔ اس کے بعد آپ کو کسی انکشافِ سازش اور کسی مخالفانہ چال کی پردہ کشائی کی ضرورت نہیں ہوگی، قوم کی باشعوری اور بلند کرداری خود ہی اس طرح کے تمام چیلنجز و مشکلات کے مقابلے میں ناقابلِ شکست طاقت بن جائے گی۔
isfi22

PAKISTAN
Posted - Monday, October 25, 2010  -  4:55 AM Reply with quote
ایک صاحب نے ملاقات کے اختتام پر جدا ہوتے وقت "خدا حافظ" کے الفاظ کو خلافِ سنت طریقہ بتاتے ہوئے یہ تلقین فرمائی کہ ہمیں ہر ہر معاملے میں قرآن و سنت اور مسنون طریقوں کی پیروی کرنی چاہیے۔ ان کی اس بات اور نصیحت پر میں نے درج ذیل گزارشات پیش کیں۔ اس میں جس آرٹیکل کا حوالہ دیا گیا ہے اس کا لنک بھی آخر میں آپ لوگوں کے لیے درج کررہا ہوں


محترم فرخ عابدی صاحب نے ملاقات کے اختتام پر بولے جانے والے الفاظ "خدا حافظ"سے متعلق جو سوال اٹھایا ہے اور جس طرح ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور آپ کے بتائے ہوئے آداب اور طریقوں پر کاربند رہنے کی تلقین فرمائی ہے۔ پھر ہمارے ایک مسلمان بھائی اور گروپ ممبر نے، جن کا نام ان کی آئی ڈی سے معلوم نہیں ہوسکا، بااصرار یہی بات کہی ہے کہ ہمیں اپنی زندگی کے تمام احوال و لمحات میں قرآن و سنت اور اسلام کے سکھائے ہوئے کاموں کی پابندی کرنی چاہیے اور اپنی سہولت و راحت کی غرض سے الفاظ و اعمال کے باب میں اپنی طرف سے کوئی تبدیلی اور ترمیم پیدا کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ اپنے ان بھائیوں کی خدمت میں میں یہ گزارش کرنا چاہوں گا کہ اس میں کوئی شک ہی نہیں ہے کہ اسلام خدا کے سامنے آخری درجے میں جھک جانے اور سرافگندہ ہوجانے کا نام ہے اور ایک مسلمان پر لازم ہے کہ وہ قرآن و سنت کی تعلیمات پر مکمل طور پر عمل پیرا ہو۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم الفاظ اور نقشوں اور ظاہری و تمدنی طریقوں کے دائرے میں بھی رسول اللہ اور آپ کے صحابہ کے زمانے کی نقل کرنے کی کوشش کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ اپنے زمانے کے وسائل و معاشرت کے مطابق لباس پہنتے اور کھانے کھاتے تھے۔ اب ہم پر اگرچہ یہ بات لازم ہے کہ ہم شریفانہ و ساتر لباس پہنیں اور حلال غذا کھائیں لیکن اس دورِ رسول وصحابہ والے لباس پہننا اور کھانے کھانا ہم پر فرض نہیں ہے۔ ایسے ہی وہ لوگ اپنی مادری زبان عربی میں بات کرتے تھے جب کہ ہم اپنی مادری زبانوں میں بات کرتے ہیں۔ اس سے بھی ہمارے اسلام و ایمان میں کوئی کمی نہیں آتی اور نہ ہی ہم اتباعِ رسول و صحابہ کے دائرے سے نکل جاتے ہیں۔ اس طرح کی کتنی ہی چیزیں ہیں جو تہذیب و تمدن کی ترقی اور آلات و وسائل کی فراوانی کے باعث بالکل تبدیل و متغیر ہوکر رہ گئی ہیں۔ مساجد و مدارس کے اندازِ تعمیر اور وہاں دستیاب وسائل اور سہولتوں کا معاملہ، اسی طرح سفر کے نئے وسائل اور سواریاں، نئے نئے کاروبار اور معاشی ذرائع، تحریر و تقریر اور ان کی نشر و اشاعت کے ترقی یافتہ ذرائع و وسائل وغیرہ کتنے ہی معاملات ہیں جو اس دور کے لحاظ سے بالکل بنیاد سے لے کر چوٹی تک تبدیل ہوگئے ہیں لیکن اس سے مسلمانوں کی اسلامیت یا ایمانی زندگی میں کوئی فرق و کمی نہیں واقع ہوئی۔ ایک مسلمان کو ایمانیات و اخلاقیات اور عبادات وغیرہ امور میں تو اسی نمونے کی آخری درجے میں پیروی و تابعداری کرنی پڑے گی جو اللہ کے رسول اور صحابہ کا نمونہ ہے۔ لیکن دوسرے بہت سے امور و معاملات میں انہیں تبدیل شدہ حالات کے مطابق تبدیلی اور جدت پیدا کرنے کی نہ صرف اجازت ہے بلکہ اس کے بغیر معاملات کا خوش اسلوبی کے ساتھ انجام پانا ناممکن ہے۔ ہم پر لازم نہیں ہے کہ ہم دعا کرتے ہوئے عربی الفاظ دہرائیں، ہم اپنی مادری زبان میں بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کرسکتے ہیں۔ ملاقات کے موقع پر البتہ السلام علیکم اور اس کا جواب بلاشبہ سنت ہیں۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہم انہیں ہی استعمال کرنا اپنی عادت بنائیں۔ لیکن جہاں تک لفظ "خدا" کے استعمال کا تعلق ہے، اس حوالے سے آئس برگ نے ہماری ویب سائٹ سے اسی مسئلے سے متعلق ایک علمی مضمون "کیا اللہ اور خدا الگ الگ ہیں" نقل کردیا ہے۔ یہ مضمون جناب ریحان احمد یوسفی صاحب کا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ اس طرح کے امور و معاملات میں غور و فکر کرنے کے سلسلے میں ایک نہایت ہی عمدہ مثال اور تربیتی نسخہ ہے۔ میں اسی مضمون کو قارئین کی سہولت کے پیشِ نظر پی ڈی ایف فارمٹ میں اٹیچ کررہا ہوں۔


(آرٹیکل کا لنک یہ ہے: http://ishraqdawah.org/CurrentIshraqArticleDetail.aspx?Id=297)
isfi22

PAKISTAN
Posted - Monday, October 25, 2010  -  5:01 AM Reply with quote
ایک ڈیبیٹ بہت طول پکڑ گئی اور اس میں میں نے الگ الگ کافی لوگوں کو جواب دیا۔ اسے ایز اٹ از آپ کے مطالعے کے لیے الگ الگ کلرز کے ساتھ پیش کررہا ہوں، اس امید پر کہ ان میں پیش کیے گئے نکات کا مطالعہ یقیناً آپ کے لیے مفید رہے گا۔


۔۔۔۔۔۔" اقوام کی سطح پر موجود اچھائی برائی کا معیار کوئی ایک دو اچھی یا بری شخصیات کبھی نہیں ہوتیں۔ اقوام کا بگاڑ و فساد ہو یا تہذیب و نکھار، ان کی اکثریت کے مزاج و کردار اور عادات و رویوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ہم کسی ایک سیاستدان یا سیاسی پارٹی کو ملک کے مجموعی بگاڑ کا ذمہ دار نہیں ٹھہراسکتے۔ ملک کی موجودہ ابتر صورتحال اوپر سے لے کر نیچے تک کے افراد کے اخلاق و کردار کی زبوں حالی کا نتیجہ ہے۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ عام سے عام آدمی بھی اپنی طبیعت، مزاج اور عادات و معاملات کے پہلو سے خرابی اور بگاڑ کی آخری حدوں کو چھو رہا ہے۔ ہم یہ کیوں نہیں محسوس کرتے کہ یہ جدید زمانہ ہے، جمہوریت اور عوامی دباؤ کا زمانہ ہے۔ اس وقت کے غالب افکار و اقدار نے عالمی سطح پر ایسی صورتحال پیدا کررکھی ہے کہ کوئی ایک یا دو لوگ یا بڑی سے بڑی پارٹی بھی کسی قوم و ملک میں اپنی من مانی نہیں کرسکتے۔ قومی و ملکی سطح پر جو کچھ نمودار ہوتا ہے، اُس قوم و ملک کی اکثریت کے ہاتھوں کی کمائی اور ان کی اکثریت کے اجتماعی اخلاق و کردار کا عکس و نتیجہ ہوتا ہے۔ جیسے لوگ ہوں گے، ویسے ہی حکمران ہوں گے اور ویسے ہی اس ملک و قوم کے حالات و معاملات۔ لہٰذا ہمیں ایک یا دو افراد کو نشانے پر رکھ کر یا کسی ایک جماعت کو ہدف بناکر تنقید و تردید کی بوچھار اور مذمت و ملامت کی یلغار کرنے کے بجائے سب سے پہلے اپنا جائزہ لینا اور احتساب کرنا چاہیے۔ اپنی خامیوں اور بدیوں کو دور و ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اور پھر اپنے اپنے دائرے میں قوم و ملک کے افراد کی ذہنیت و سیرت میں بلندی اور نکھار لانے کی جدوجہد کرنی چاہیے۔ جب تک قوم کے اکثر افراد خوداحتسابی اور اپنے قریبی حلقے کی اصلاح کے اس مشن کو اپنی زندگی اور موت کا مسئلہ نہیں بناتے، کسی ایک فرد کے جانے اور اس کی جگہ دوسرے کے آنے یا کسی ایک جماعت کا پانسہ الٹ کر اس کی جگہ کسی دوسری جماعت کو زمامِ اقتدار تھمانے جیسی سطحی تدبیروں سے ملک و قوم کی قسمت کا ڈوبا سورج کبھی بھی دوبارہ طلوع ہوکر نیا سویرا پیدا نہیں کرسکتا۔

افراد کے ہاتھوں میں ہوتی ہے اقوام کی تقدیر

ہر فرد ہے ملت کے تابندہ مقدر کا ستارہ


فرد فرد کے ذہن و عمل کی اصلاح کیجیے۔ قوم کے بچے بچے کو تعلیم یافتہ اور مہذب بنائیے۔ ہر عام و خاص کو اخلاقی اقدار اور مسلّمہ انسانی روایات کا پاسدار بنائیے۔ علم و فکر کے اختلافات کے باب میں برداشت اور اختلاف کے باوجود باہمی احترام کے رویے کو عام کیجیے۔ مسلمان ہونے کے ناطے ہر شخص کو خدا و آخرت کے حوالے سے حساس اور ابدی انجام کے بارے میں بیدار رہ کر جینا سکھائیے۔ ان اصولوں پر ایک لمبا عرصہ قوم کے افراد کی تربیت و تعمیر کا کام کیجیے، پھر اس کے بعد کسی مطالبے، دھرنے، مارچ، احتجاج اور ریلی وغیرہ کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ نہ کوئی خونی انقلاب درکار ہوگا۔ نہ کسی خاص شخص یا جماعت کو برائی کی جڑ اور منبع قرار دے کر اس کے خلاف قوم کو بھڑکانے کی کوئی ضرورت باقی رہ جائے گی۔ قوم و ملک کی قسمت کا ستارہ خود بخود تاریکی کے سمندر سے ابھر کر اجالے کی فضاؤں میں اڑنا شروع کردے گا۔۔۔۔۔۔۔
isfi22

PAKISTAN
Posted - Monday, October 25, 2010  -  5:03 AM Reply with quote
۔۔۔۔۔۔محترم بھائی ذیشان الحق صاحب، سلام و آداب و احترام، امید ہے کہ بمع فیملی خیر و عافیت اور خوشی و راحت کے ساتھ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو دارین کی راحت و عافیت اور حسنات و طیبات نصیب فرمائے اور ہمیں اجتماعی طور پر غیر مسلم دنیا کی ہدایت و فلاح کے لیے کوشاں فرمائے، آمین۔


میرے اور میرے دوست عمران عزیز کے خیالات کو پسند فرمانے کا شکریہ۔ آپ نے جو سوال پوچھا ہے وہ میرے دوست عمران عزیز کی تحریر کے ایک حصے سے متعلق ہے، تاہم وہ تحریر چونکہ میں نے ہی بھیجی تھی، اس لیے میں اس کا جواب بھی عرض کررہا ہوں۔ آپ پوچھتے ہیں کہ سوال جواب کے سلسلے میں شیعہ ہونے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں تو بس "نہیں" کہا گیا ہے لیکن قادیانی ہونے سے متعلق سوال سن کر "استغفرا اللہ" کیوں پڑھ دیا گیا۔ میرے بھائی اب میں آپ کی خدمت میں کیا عرض کروں کہ یہ پورا مضمون اصل میں فرقہ پرستانہ ذہنیت اور گروہ پسندانہ طبیعت ہی کی تردید و تغلیط میں لکھا گیا ہے۔ مضمون نگار کے نزدیک ایک مسلمان کی پہچان و شناخت کے لیے اللہ تعالیٰ کا قرآنِ مجید اور دیگر آسمانی کتابوں میں رکھا ہوا اور انبیاء و رسلانِ گرامی کا اپنے تعارف کے طور پر بار بار ذکر کردہ نام "مسلم" یا "مسلمان" ہی کافی ہے۔ ایک مسلمان کو اس کے علاوہ کسی دوسری نسبت اور نام اور پہچان و شناخت کی قطعا کوئی حاجت نہیں ہے۔ مضمون نگار اپنا ایک واقعہ سنا رہا ہے کہ اس سلسلے میں اس کی منیٰ کے متبرک مقام پر دو نوجوان مسلمانوں سے ملاقات اور گفتگو ہوئی، جس میں انہوں نے اس کے خود کو محض مسلمان بتانے کو ناکافی سمجھتے ہوئے اس سے مزید کسی فرقے اور جماعت یا گروپ سے منسلک و متعلق ہونے کی بابت بہت سارے سوالات کیے۔ وہ ہر سوال کے جواب میں نفی کا اظہار کرتا رہا لیکن وہ نوجوان اس کے ہر جواب کے بعد بجائے خاموش ہونے کے مزید سوالات ہی پوچھتے اور مسلمانوں کے ہر ہر طبقے اور فرقے کا نام لے کر اس کے ساتھ اس کے متعلق ہونے کا قیاس کرتے رہے۔ وہ بار بار ان کے سوالات کہ آپ فلاں ہیں یا فلاں ہیں یا فلانی جماعت اور فرقے سے تعلق رکھتے ہیں، وغیرہ کے جواب میں یہی کہتا رہا کہ نہیں میں ۔۔۔۔۔۔۔ نہیں ہوں، ۔۔۔۔۔ ۔۔ نہیں ہوں اور نہ میرا فلاں جماعت یا فرقے سے تعلق ہے۔ مختلف فرقوں، جماعتوں، ٹولوں اور گروہوں سے اپنے تعلق کی نفی کرتے ہوئے ایک مقام پر اس کی زبان سے "استغفراللہ" کے جو الفاظ نکلے ہیں۔ ان کا مطلب بھی سادہ طور پر اپنی اس گروپ سے ہونے کی نفی ہی ہے۔ ان میں کوئی شدت و برہمی اگر پائی بھی جاتی ہے تو اس کا رُخ کسی طبقے اور گروہ کی طرف نہیں بلکہ سوال در سوال کے سلسلے کے لمبے ہوتے چلے جانے اور ختم ہوکر نہ دینے سے چڑجانے اور اکتاجانے کی طرف ہے۔محض "استغفراللہ" کے الفاظ کو دیکھ کر یہ سمجھنا کہ شاید اس خاص طبقے میں کچھ زیادہ ہی شناعت و قباحت اور برائی ہے جو مضمون نگار نے اپنے اس طبقے سے متعلق ہونے کی بابت نفی کرتے ہوئے سادہ طور پر نہیں کہنے کے بجائے "استغفراللہ" کے الفاظ زبان سے نکال دیے، محض ایک نکتہ آفرینی ہے۔ اور اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ مضمون نگار نے اس خاص طبقے سے تعلق کی بابت سوال کے جواب میں سادہ طور پر نہیں کے الفاظ کہنے کے بجائے "استغفراللہ" کے الفاظ اسی لیے استعمال کیے ہیں کیوں کہ وہ اس طبقے کو زیادہ ناگوار رکھتا اور یا اسے گمراہی کا زیادہ بڑا مرکز و منبع سمجھتا یا اس کے فساد و بگاڑ میں زیادہ ملوث ہونے کا قائل ہے تو اس میں اعتراض کرنے اور چونکنے کی آخر کیا تک ہے۔ ہر شخص کا اپنا علم و فہم اور خیالات و رجحانات ہوتے ہیں۔ اس طرح کے شخصی خیالات و رجحانات پر کسی کو اعتراض کرنے کا آخر کیا حق ہے! اس کو تو آپ یوں سمجھ سکتے ہیں کہ مثلاً کسی بچے کی کسی نادانی پر اس کا بڑا اگر اسے کہے کہ تم تو بالکل گدھے ہو تو وہ اس پر کچھ بھی نہ کہے لیکن کسی دوسرے موقع پر یہی بڑا اس کی کسی اور بیوقوفی پر اسے کہے کہ تم تو بالکل کتے اور سؤر ہو تو وہ اس پر بڑا سیخ پا ہو اور شکوہ کرے کہ یہ آپ نے مجھے کیا کہہ دیا۔ اُس نے گدھا کہنے پر زیادہ ردعمل ظاہر نہیں کیا تھا مگر کتا اور سؤر کہنے پر وہ ایکدم بھڑک اٹھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ کتے اور سؤر کو گدھے کی بنسبت زیادہ برا اور گھناؤنا لفظ محسوس کرتا تھا۔ ایسے ہی اگر کوئی شخص مسلمانوں کے ایک فرقے کے مقابلے میں دوسرے فرقے کے خیالات و اعتقادات کو زیادہ سنگین و گمراہ کن سمجھتا ہے اور پہلے کی بنسبت دوسرے سے اپنی نسبت پر زیادہ ناگواری کا اظہار کرتا ہے تو اس میں آخر علم و منطق اور معقولیت کی رو سے کیا اعتراض وارد ہوتا ہے! اگر ہوتا ہے تو براہِ مہربانی آپ اسے واضح طور پر بیان کردیں تاکہ ہمیں جواب دینے میں آسانی ہو۔ والسلام مع الاکرام۔۔۔۔۔۔۔
isfi22

PAKISTAN
Posted - Monday, October 25, 2010  -  5:07 AM Reply with quote
۔۔۔۔۔۔فوری جواب کےلیے مشکور ہوں۔ آپ نے اپنا اصل اعتراض یہ واضح کیا ہے کہ شیعہ ہونے سے متعلق نفی کا اظہار "نہیں" کے سادہ اسلوب میں کیوں کیا گیا، "استغفراللہ" جیسے سخت و شدید الفاظ میں کیوں نہیں کیا گیا۔ اگر آپ میرا بھیجا ہوا مضمون اور میری لاسٹ تحریر توجہ سے پڑھیں تو ان میں واضح طور پر یہ بات بیان ہوئی ہے کہ ایک مسلمان کو بس مسلمان ہی ہونا چاہیے۔ الف فرقہ، ب فرقہ، ت جماعت اور ج ٹولہ وغیرہ کسی بھی دوسری نسبت و شناخت کو اسے اہمیت دینا اور اپنے تعارف و امتیاز کی اساس نہیں بنانا چاہیے۔ لہٰذا ایک مسلمان کو کسی ایک ہی فرقے سے براءت و لاتعلقی اختیار نہیں کرنی چاہیے بلکہ اسے فرقہ پرستی پر مبنی ساری جماعتوں اور ٹولیوں سے الگ اور دور رہنا چاہیے۔ باقی جہاں تک بات سادہ طریقے سے نفی کرنے یا شدید الفاظ میں لاتعلقی کی وضاحت کرنے کی ہے تو میں عرض کرچکا ہوں کہ اس کا تعلق کسی کے کم ناگوار ہونے اور کسی دوسرے کے زیادہ ناگوار ہونے سے نہیں ہے بلکہ سوال در سوال کی چین کے لمبا ہی ہوتے چلے جانے سے اکتاجانے اور بھنا اٹھنے کی وجہ سے ہے۔


صحابہ کرام کی محبت و تعظیم و پیروی بلاشبہ مسلمانوں کے دین ایمان کا حصہ اور ان کی ہدایت و فلاح و نجات کی شرائط و لوازمات میں سے ہے۔ اس سے کسی مسلمان کو انکار نہیں ہوسکتا، ہمیں بھی نہیں ہے۔ باقی یہ بات کہ جو انہیں سب و شتم کا نشانہ بناتا اور امھات المؤمنین کو اپنی تہمتوں اور زبان درازیوں کا ہدف بناتا ہے، اس سے یقیناً ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ باقی جہاں تک بات کسی فرد یا گروہ کو "کافر" قرار دینے کی ہے تو اس کا حق کسی فرد کو دین نے نہیں دیا۔ کسی خیال کے گمراہ کن ہونے اور کسی عمل کے بظاہر مشرکانہ ہونے کا اظہار کرنا اور بات ہے اور اس کو بنیاد بناکر کسی کے ایمان و کفر کا فیصلہ سنانا الگ معاملہ۔ کسی عام قسم کے فردِ واحدکو ہرگز یہ اختیار نہیں دیا گیا کہ وہ لوگوں کے انفردی یا جماعتوں کے اجتماعی ایمان و کفر کے فیصلے کرتا اور فتوے داغتا پھرے۔ لہٰذا ہم بھی ایسا کوئی اقدام کرنا اپنے حدود سے تجاوز کرنا سمجھتے ہیں۔ لیکن اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ صحابہ کرام ہو یا امھات المؤمنین، ان کی شان میں نازیبا الفاظ استعمال کرنا اور ان کے حوالے سے زبان درازی و بدلگامی کا مظاہرہ کرنا دینی حوالے سے انتہائی سنگین و گھناؤنے افعال ہیں۔ ان کا ارتکاب انسان کو خدا کی گرفت اور عذاب کا شکار بنادے گا۔


باقی آپ نے جن امور و مسائل پر بعد میں بات کرنے کے لیے فرمایا ہے، ہمیں ان پر ڈیبیٹ اور بحث میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ہم مسلمانوں کو عمومی طور پر ایمان و اخلاق و اعلیٰ اقدار کی طرف لوٹنے کی دعوت و ترغیب دینے اور ان میں در آئے دنیاپرستانہ اور ابلیسانہ رویوں کے بارے میں انہیں متنبہ و خبردار کرنے سے زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔ فرقہ وارانہ اختلافات یا گروہ بندانہ معاملات پر الجھنا ہمیں کسی قیمت پر گوارا نہیں ہے۔ آپ سے بھی ہماری درخواست ہے کہ اس طرح کی چیزوں پر اپنی قوتیں اور صلاحتیں خرچ کرنے سے پرہیز ہی کریں تو اچھا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔
isfi22

PAKISTAN
Posted - Monday, October 25, 2010  -  5:09 AM Reply with quote
۔۔۔۔۔۔میرے بھائی میں بھی اسی بات کا قائل ہوں کہ


صحابہ کرام کی محبت و تعظیم و پیروی بلاشبہ مسلمانوں کے دین ایمان کا حصہ اور ان کی ہدایت و فلاح و نجات کی شرائط و لوازمات میں سے ہے۔ اس سے کسی مسلمان کو انکار نہیں ہوسکتا، ہمیں بھی نہیں ہے۔


باقی میرے نزدیک ہر وہ عالم و اسکالر قابلِ احترام و لائقِ پیروی ہے جو قرآن و سنت کا گہرا علم رکھتا، مسلم محققین و مصنفین کے پیدا کردہ علمی ذخیرے کا وسیع مطالعہ رکھتا ہے اور اچھے اور ممتاز اخلاق و کردار کے ساتھ معاشرے میں زندگی گزارتا ہے۔ اختلافی معاملات میں ہمیں اُس عالم و اسکالر کی رائے قبول کرنی چاہیے جس کے دلائل زیادہ قوی و معقول ہوں اور جس پر ہم اپنے علم و تجربہ کی بنیاد پر زیادہ اعتماد رکھتے ہوں۔ باقی رہا کسی فرد یا گروہ کو "کافر" قرار دینے کا معاملہ تو اس حوالے سے میرا فہم و رائے آپ سے مختلف ہے اور کچھ تفصیل طلب بھی۔ باقی میں بھی اپنی ہدایت یابی کے لیے دعا کرتا رہتا ہوں، آپ سے بھی اس کے لیے درخواست ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں باہمی محبت و احترام اور اخروی کامیابی و سرخروئی سے بہرہ مند فرمائے، آمین۔۔۔۔۔۔۔
isfi22

PAKISTAN
Posted - Monday, October 25, 2010  -  5:19 AM Reply with quote
۔۔۔۔۔۔محترم محمد شفیع صاحب، سلام و آداب، آپ نے امتِ مسلمہ کے ایک حدیث کے مطابق بہت سے فرقوں میں بٹ جانے کی جس الجھن کا تذکرہ کیا ہے، اس کا کوئی واضح حل اور سلجھن بتانے کے بجائے آپ نے بس ایک عمومی تبصرہ کرتے ہوئے ہی اپنی بات ختم کردی۔ کاش آپ اس حوالے سے جنت کے طلبگاروں کو کوئی نشانِ راہ بتاجاتے اور اُس فرقۂ ناجیہ مہدیہ کہ کچھ آثار و علامات بتادیتے جو آپ کے نزدیک واقعتا اکلوتا ہدایت یافتہ اور اخروی نجات و فلاح کا حقدار ٹولہ ہے اور اس لائق ہے کہ تمام مسلمان جو آخرت کی فلاح و بہبود چاہتے اور خدا کے عذاب و عتاب سے دڑتے ہیں، اس سے وابستہ ہوجائیں۔


میرے خیال سے آپ کو بھائی عبد العزیز کی توضیح کو بڑے غور سے پڑھنا اور سمجھنا چاہیے کہ تہتر یا کسی بھی اور تعداد میں آئندہ پیدا ہونے والے فرقوں میں سے کوئی ایک مخصوص فرقہ و ٹولہ ہی مستحقِ نجات نہیں ہوگا بلکہ وہ تمام افراد اور لوگ جو مسلمان ہوں گے اور طریقۂ رسول و اصحابِ رسول ہی کو اپنی زندگی کا مرکزی نقطہ اور اور اپنے اتصال و انقطاع کی اساسی بنیاد بنائیں گے، وہی اس کا استحقاق پائیں گے کہ انہیں کل روزِ قیامت فلاح و نجات و سرخروئی نصیب ہو۔ یہ لوگ کسی مخصوص جماعت و فرقے کے ممبران نہیں ہوں گے بلکہ اس پھیلی ہوئی اور کروڑوں کی تعداد پر مشتمل امتِ مسلمہ کے وہ تمام افراد، چاہے ان کا تعلق کسی بھی طبقے، ملک، معاشرے اور تنظیم و جمیعت کے ساتھ ہو، اس زمرے میں شامل ہوں گے جو واقعتا اسلام کے مخلص پیرو اور رسول و اصحابِ رسول کے نقوش و آثار و امثال کی سچی جستجو اور اتباع کرنے والے ہوں گے۔ دنیا کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی امتِ مسلمہ کے درجنوں ممالک میں سے کسی ایک ملک و سماج کی متعدد و بے شمار جماعتوں میں سے کسی ایک جماعت و تحریک و تنظیم کو اس حدیث میں بشارت یافتہ فرقۂ ناجیہ کا مصداق ٹھہراناکم فہمی، ناسمجھی اور کور ذوقی کی ایک شاہکار و عجوبہ مثال کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ ذرا حدیث کے آخری توضیحٰ حصے پر بھی تدبر فرمالیجیے کہ جب سائل پوچھتا ہے کہ وہ فرقہ ناجیہ کون ہوگا؟ تو اس کا جواب یہ نہیں دیا جاتا کہ وہ اس نام یا نشان کا طبقہ ہوگا بلکہ فرمایا جاتا ہے کہ اس کی خصوصیت، صفت اور روش یہ ہوگی کہ وہ میرے اور میرے ہدایت یافتہ اصحاب کے طریقے پر چلے گا۔ آپ کے الفاظ میں فرقہ ناجیہ وہ ہوگا جس کے افعال و اعمال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق ہوں گے۔ آپ کی یہ تشریح بھی یہی بتارہی ہے کہ حدیث کسی ایک طبقے، ٹولے اور مخصوص فرقے کے نجات یافتہ ہونے کی بات نہیں کررہی ہے بلکہ وہ اس خصوصیت، صفت اور طرزِ عمل کو واضح کررہی ہے جس کے باعث کوئی طبقہ نجات یافتہ ٹھہرے گا۔ رسول و اصحابِ رسول کے طریقے سے مطابقت ہی وہ وصف ہوگا جو مسلمانوں کے ان افراد و طبقات کو ایک جماعت "فرقۂ ناجیہ" کا مصداق بنائے گا جن میں یہ وصف و خصوصیت موجود ہوگا اور جنہوں نے اسے اپنا کر زندگی گزاری ہوگی۔


آپ فرماتے ہیں کہ چونکہ حدیث میں ایک فرقے کے ہدایت و نجات یافتہ ہونے کی بات کی گئی ہے اس لیے ضروری ہے کہ مسلمان کسی نہ کسی فرقے میں شمولیت اختیار کرکے اس کے رفیق و ممبر بنیں۔ اچھا جناب تو پھر ذرا یہ بھی بتادیتے کہ آں جناب کی نظر میں اس وقت وہ فرقہ کون سا ہے، کس ملک میں پایا جاتا ہے جس سے مسلمانوں کو اپنا تعلق استوار کرکے اپنی نجات کا سامان کرنا اور اپنی آخرت کے مستقبل کو محفوظ بنالینا چاہیے اور یہ کہ کیا آں جناب اس کے رفیق و ممبر بن چکے اور ہدایت و نجات یافتگی کا سرٹیفیکیٹ حاصل فرماچکے ہیں یا نہیں۔ آپ کی یہ تجویز اور مشورہ جو نتیجہ پیدا کرے گا وہ یہ کہ مسلمانوں میں فرقہ پرستی کا مرض کچھ اور بڑھ جائے اور ان میں فرقہ بندی کا رجحان کچھ مزید ترقی کرجائے، جب کہ حدیث کا صحیح مطالعہ مسلمانوں میں یہ ذہن بنائے گا کہ وہ زیادہ سے زیادہ رسول و اصحابِ رسول کے طریقے کے مطابق ہونے اور اپنے اپنے حلقوں اور جماعتوں میں بھی اسی رنگ کو پیدا کرنے اور گہرا بنانے کی تگ و دو کریں۔ اس طرح کے امور پر ایک فورم پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے میں نے ایک تحریر لکھی تھی، وہ آپ کے لیے پیش ہے اس امید کے ساتھ کہ وہ اس معاملے کو اچھی طرح سمجھنے میں شاید آپ کو مدد دے سکے۔


الجماعہ سے مراد


الجماعہ اسلامی لٹریچر اور احادیث میں اپنے لغوی مفہوم میں بھی استعمال ہوا ہے اور ایک خاص اصطلاحی مفہوم میں بھی۔ جس حدیث میں اہلِ حق فرقے کو جماعت بتا کر اس کا وصف اتباعِ ما انا علیہ و اصحابی بتایا گیا ہے وہاں یہ اپنے لغوی مفہوم، جماعت، گروہ اور ٹولہ کے مفہوم میں ہے اور جن احادیث میں مسلمانوں کو ’الجماعہ‘ سے وابستہ رہنے کی تاکید و تلقین کی گئی اور اس سے علیحدگی اور بغاوت کو جرم اور گمراہی بتایا گیا وہاں یہ اپنے خاص اصلطلاحی مفہوم ’(مسلمانوں کے) سیاسی اقتدار‘ کے معنیٰ میں ہے ۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اس باب کی دوسری روایات میں الجماعہ کی جگہ السلطان کا لفظ موجود ہے جو صراحتاً نظمِ اقتدار کی طاقت اور سیاسی قوت کے مفہوم میں ہے اور واضح ثبوت ہے کہ الجماعہ سے مراد بھی کسی اسلامی معاشرے میں برسرِ اقتدار گروہ اور نظمِ حکومت کے سربراہ کار ہیں ۔ مسلمانوں کو انارکی، طوائف الملوکی اور سیاسی و اجتماعی خلفشار سے بچانے کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد کے زمانے میں فتنوں کے سر اٹھانے ، اسلامی نظمِ اقتدار کے معیاری حالت میں برقرار نہ رہنے اور اس میں خرابیوں اور خامیوں اور حکمرانوں کے اخلاق و کردار میں گراوٹوں کے در آنے کے باوجود انہیں باہم متحد رہنے اور انتشار و خلفشار سے محفوظ رہنے کے لیے یہ تلقین و نصیحت فرمائی ہے کہ وہ ہر حال میں مسلمانوں کی اجتماعی مرضی سے وجود میں آنے والے نظام اور اس کے امراء سے اطاعت و معاونت کا رویہ اپنائے رکھیں اور ہر گز خروج و بغاوت کا راستہ اختیار نہ کریں ۔ اس الجماعہ کا کوئی تعلق مسلمانوں کی کسی اصلاحی و انقلابی جماعت اور اس کے امیر کے ہاتھ پر بیعت اور اس کی کلی و غیر مشروط اطاعت و تقلید سے نہیں ہے ۔ بلکہ یہ سر تا سر مسلمانوں کے اجتماعی سیاسی اقتدار اور اس کے سربراہ کاروں سے متعلق ہے ۔


باقی آج مختلف مسلمان اور ان کی مختلف جماعتیں اور تنظیمیں خود کو معیاری جماعت اور حق یافتہ گروہ ثابت کرنے کے لیے جس طرح ایک حدیث پیش کر کے اور اس میں سے من مانا مفہوم نکال کر ایڑ ی چوٹی کا زور لگاتے ہیں ۔اور یہ گمان کرتے ہیں کہ بس وہی حق پر ہیں اور باقی ہر مسلم گروہ و جماعت اور تحریک و تنظیم گمراہ و بے دین اور اللہ معاف کرے جہنمی اور دوزخی ہے ، اس حوالے سے اسٹڈنگ اسلام ہی کے جنرل ٹاپکز کے سب سیکشن ینگ مائنڈز کے ٹاپک ’سلفی‘ پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے میں نے جو کچھ عرض کیا تھا، اسے یہاں نقل کر دیتا ہوں ۔


سلفی یا اہل سنت و الجماعت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے طریقے پر چلنے والے لوگوں کو کہتے ہیں۔ جو قرآن اور سنت کو اپنی بنیاد بناتے ہیں مگر اس زمانے میں جو لوگ دراصل ایک ٹولہ، جماعت یا فرقہ بن چکے ہیں۔ اپنے آپ کو برسرِ حق گردانتے اور دوسروں کو باطل کا علمبردار ٹھہراتے ہیں۔ ان کے اپنے آپ کو سلفی یا اہل سنت والجماعت قرار دے لینے سے ان کا تعلق اس اصل سلفی و اہل سنت والجماعت طبقے سے نہیں جڑ جاتا۔ کیوں کہ اصلاً یہ ایک صفاتی نام ہے نہ کہ گروہی اور جماعتی۔ مطلب یہ کہ کون سلفی ہے یا اہل سنت والجماعت ہے اس کا فیصلہ اس کا اپنا نام سلفی وغیرہ رکھ لینا یا سلفی اور اہل سنت و الجماعت ہونے کا دعویٰ کرنا جیسی بنیادوں پر نہیں ہوگا بلکہ اس کے اس عمل و طریقے کی اساس پر ہوگا کہ وہ واقعتا قرآن و سنت کو اپنی بنیاد بناتا اور اپنے دینی فکر و اثاثے کی انہیں حقیقی سورس بناتا ہے کہ نہیں۔


اس وقت مسلمانوں کی کتنی ہی جماعتیں اور فرقے اس بات کے دعویدار ہیں کہ تنہا وہی سلف صالحین کے طریقے اور اہل سنت و الجماعت کے راستے پر گامزن ہیں اور دوسرے تمام فرقے اور جماعتیں گمراہ و بے راہ ہیں۔ کیا ان میں سے ہر ایک کے دعوے کو درست تسلیم کرلیا جائے اور کیا پھر یہ بھی ممکن ہے کہ ان سب کو اہل حق اور سلفی اور اہل سنت والجماعت تسلیم کرلیا جائے۔ یقیناً ایسا ممکن نہیں ہے۔


اصل بات یہی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دین قرآن و سنت و احادیث کی شکل میں چھوڑا ہے۔ صحابہ کرام کی طرح اسے مضبوطی سے پکڑا جائے، اس پر پوری وفاداری و استواری سے عمل کیا جائے اور اپنے حق اور دوسروں کے باطل ہونے کے دعوے اور اعلانات کرنے کے بجائے علمی و فکری اختلافات کے حوالے سے وسعت نظری کا ثبوت دیتے ہوئے تمام مسلمانوں کا احترام کیا جائے۔ اور یہ تسلیم کیا جائے کہ نجات کا دار و مدار ہمارے یا کسی دوسرے فرقے اور جماعت سے وابستگی کی بنیاد پر نہیں ہوگا بلکہ اس بنیاد پر ہوگا کہ کون اس طریقے کے مطابق چلا اور کس نے اپنے عقل و ضمیر کے مطابق جس بات کو حق سمجھا اس پر ہر طرح کے حرص و تخویف اور تعصب و ہٹ دھرمی جیسے محرکات سے بالا تر ہوکر ثابت قدمی اختیار کی۔ مسلمانوں کے ایک بہت بڑے امام شافعی کا یہ بیان اس باب میں مثالی نمونے کا مقام رکھتا ہے کہ ہم اپنی راے کو درست سمجھتے ہیں لیکن اس میں خطا کا امکان تسلیم کرتے ہیں اور ہم دوسروں کی راے کو غلط سمجھتے ہیں لیکن اس میں درستی کے امکان کو تسلیم کرتے ہیں۔


حق پسند مسلمانوں کو یہی رویہ زیب دیتا ہے ۔ کیوں کہ ان میں سے کسی پر بھی وحی و الہام نہیں ہوتا کہ وہ یہ گمان کرنے لگے کہ بس اسی کی راے اور روش درست اور مطابق حق ہے اور دوسروں کا تمام کا تمام سرمایہ باطل و خرافات ہے۔ اسی راستے سے مسلمانوں کے اندر رواداری، علمی و فکری آداب، شائستہ و معقول اختلاف کی روایت اور سنجیدگی و استدلال کے دائرے میں رہتے ہوئے تبادلۂ خیالات کا ماحول عام ہوگا۔ آج امت مسلمہ کے افراد میں اتحاد و اخوت پیدا کرنے کے لیے اسی رویے کو سب سے زیادہ عام کرنے کی ضرورت ہے۔"۔۔۔۔۔۔
isfi22

PAKISTAN
Posted - Monday, October 25, 2010  -  5:24 AM Reply with quote
۔۔۔۔۔۔ڈیئر ذیشان الحق بھائی صاحب، سلام و آداب۔ اللہ کرے کہ آپ بمع احباب عافیت و راحت کے ساتھ ہوں۔ آپ سے کافی بات ہوگئی لیکن شاید ہم کسی اتفاقی منزل و نتیجے تک نہیں پہنچ پائے۔ میری خواہش ہے کہ بات کو کچھ مزید واضح کرتے ہوئے کسی اتفاقی بنیاد تک پہنچنے کی کوشش زیادہ مفید ہوگی۔ لہٰذا میں آپ سے براہِ راست چند سوالات پوچھنا چاہتا ہوں۔ آپ مجھے بتائیے کہ آخر وہ کون سی اساسات یا بنیادی اسلامی اعتقادات ہیں جن کو ماننا ایک مسلمان پر لازم ہے اور جس کی بنیاد پر اس کے ایمان و کفر کا مدار ہوتا ہے۔ کیا یہ ضروری ہے کہ ایک مسلمان خدا کی توحید، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوت، قرآن کے آخری الہامی و آسمانی محفوظ و بے آمیز ہدایت اور قیامت کے حقیقت و بر حق ہونے جیسے اساسی اسلامی تصورات پر اعتقاد و اطمینان رکھنے کے ساتھ ساتھ کچھ ٹولوں اور طبقوں کے غلط خیالات اور گمراہی پر مبنی تصورات کو بنیاد بناکر ان کے خارج از اسلام ہونے یا بہت ہی سخت و شدید الفاظ میں کافر ہونے کا ضرور یقین رکھے۔ افراد اور جماعتوں کے کفر و ایمان کا فیصلہ کرنا خدا کا معاملہ ہے یا اس کے بندوں کو بھی اس میں کچھ عمل دخل ہے۔ کسی شخص یا جماعت کے غلط اور انحراف پر مبنی خیالات و اعلانات کن محرکات و احوال پر مبنی ہیں، اس کے جاننے کا کیا ذریعہ انسانوں کے پاس میسر ہے۔ کیا خدا نے اپنے دین میں علما و مفتیانِ کرام کو یہ حق و منصب دیا ہے کہ وہ لوگوں کے بظاہر کفریہ عقائد یا مشرکانہ معمولات کو بنیاد بناکر ان کے کفر اور خارج از اسلام ہونے کے فتوے نشر فرمائیں۔ براہِ مہربانی مجھے ان سوالوں کے بالدلائل جوابات دے دیجیے، اس کے بعد اس موضوع پر مزید بات کرلیں گے۔


باقی جہاں تک میری رائے ہے اسے میں اپنے ایک دوسری جگہ لکھے ہوئے الفاظ کی صورت میں آپ کے سامنے بیان کردیتا ہوں۔


خدا نے کسی بھی انسان کو کسی دوسرے انسان کے ایمان و کفر کا فیصلہ کرنے اور اس کے جنتی یا جہنمی ہونے کے بارے میں کوئی اعلان فرمانے کا کوئی حق و اختیار ہرگز نہیں دیا۔ لہٰذا ہم کسی کی غلطی اور اس کی راے اور مؤقف کی کجی و گمراہی تو بیان کرسکتے اور اس راے اور مؤقف کو غلط، نادرست، خلافِ حقیقت، منافیٔ اسلام اور گمراہانہ وغیرہ قرار دے سکتے ہیں لیکن کسی خاص شخص کے دین و ایمان اور خدا کی بارگاہ میں اس کے مقبول و مردود ہونے کا فیصلہ دینے کا ہمیں کوئی اختیار نہیں ہے۔ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ ایک نہایت سنگین جسارت اور فعلِ شنیع کا ارتکاب کرتا اور خود کو خدا کی بارگاہ میں مأخوذ ٹھہرائے جانے کے لیے خطرے کی کھائی میں جھونکتا ہے۔ یہ غلطی اُس وقت اور زیادہ سنگین و بدترین ہوجاتی ہے جبکہ کوئی شخص ہمارے زعم و فہم میں کسی علمی و عملی شرک جیسی غلطی میں تو مبتلا ہو لیکن وہ اسے شرک تسلیم کرنے کے لیے ہرگز تیار نہ ہو اور اپنے مسلمان ہونے کا باصرار اعلان کررہا ہو۔ ایسی حالت میں کسی کو بددین یا دین سے خارج قرار دینا یقیناً ایک ناقابلِ معافی جرم اور گھناؤنی ترین حرکت ہے۔


میں سمجھتا ہوں کہ ایک حساس، شریف، درد مند اور خدا سے دڑنے والے مسلمان کو سب سے زیادہ فکر اپنی آخرت کی ہونی چاہیے نہ کہ کسی فرد یا جماعت و گروپ کو اہلِ ایمان یا ایمان و اسلام کے دائرے سے خارج قرار دینے کی۔ میرا نہیں خیال کہ کل روزِ قیامت ہمارا خداوند ہم سے دوسرے افراد اور جماعتوں کے اعمال و افعال اور افکار و نظریات کی بابت سوال و مؤاخذہ فرمائے گا اور ان کی غلطیوں اور گمراہیوں کے حوالے سے ہمیں بھی کسی حد تک ذمہ دار ٹھہرائے گا۔ ہمیں فکر و عمل کے باب میں پائی جانے والی چھوٹی بڑی غلطیوں سے لوگوں اور سوسائٹی کو آگاہ و خبردار تو بہرحال ضرور کرنا چاہیے لیکن ان کو بنیاد بناکر ہم اگر لوگوں اور گروپوں کے ایمان و کفر کے فیصلے دینے لگ جائیں، تو یقیناً یہ اپنے حدود سے تجاوز اور خدائی معاملات میں دخل اندازی کے مترادف ہوگا۔ کفر کا مطلب دعوتِ حق کا واضح انکار ہوتا ہے نہ یہ کہ میں اور آپ اپنے طور پر کسی کے خیالات میں کوئی گمراہی اور کسی کے افعال میں کوئی شرک و کفر محسوس کرلیں۔ اگر ہمیں ایسا کوئی احساس ہو بھی تب بھی ہمیں اس عقیدے اور عمل ہی کی غلطی اور شناعت کی وضاحت تک محدود رہنا چاہیے نہ یہ کہ ہم اس کو بنیاد بناکر اس کے حامل کسی فرد اور جماعت کو دائرۂ اسلام سے خارج کرنے کی جسارت فرمانے لگیں۔ لہٰذا میں نہیں سمجھتا کہ کسی مسلمان کو براہِ راست کسی فرد یا طبقے کے بارے میں یہ احساس اور رائے رکھنی چاہیے کہ وہ دینِ اسلام سے خارج اور اہلِ کفر میں سے ہے۔ یہ میرے نزدیک اتنی زیادہ بھاری ذمہ داری اپنے سر مول لینا ہے جس کا تحمل کل قیامت کے دن خدا کے روبرو مؤاخذے کے وقت کوئی بھی مسلمان ہرگز نہ کرسکے گا۔


باقی آپ جو اچھے علما اور ان کی کتابوں کی کچھ تفصیل جاننا چاہتے ہیں تو اس معاملے میں ہر ایک کا اپنا اپنا ذوق و رجحان ہوتا ہے۔ آپ ہر اچھے مسلم عالم کو سنیے اور پڑھیے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی جماعت اور تنظیم سے ہو۔ میں نے آپ کو اپنے نزدیک ایک اچھے عالم و اسکالر کا کیا معیار ہے وہ ان الفاظ میں پہلے ہی بتادیا ہے


میرے نزدیک ہر وہ عالم و اسکالر قابلِ احترام و لائقِ پیروی ہے جو قرآن و سنت کا گہرا علم رکھتا، مسلم محققین و مصنفین کے پیدا کردہ علمی ذخیرے کا وسیع مطالعہ رکھتا ہے اور اچھے اور ممتاز اخلاق و کردار کے ساتھ معاشرے میں زندگی گزارتا ہے۔ اختلافی معاملات میں ہمیں اُس عالم و اسکالر کی رائے قبول کرنی چاہیے جس کے دلائل زیادہ قوی و معقول ہوں اور جس پر ہم اپنے علم و تجربہ کی بنیاد پر زیادہ اعتماد رکھتے ہوں۔


آخر میں آپ سے دعاؤں کی درخواست کے ساتھ اجازت چاہتا ہوں، والسلام مع الحب والاکرام۔۔۔۔۔۔۔


Edited by: isfi22 on Monday, October 25, 2010 5:28 AM
isfi22

PAKISTAN
Posted - Monday, October 25, 2010  -  5:34 AM Reply with quote
۔۔۔۔۔۔محترم ذیشان الحق بھائی صاحب، السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ۔ کافی دیر سے جواب دینے کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ تفصیل بتانا تو مناسب نہ ہوگا۔ بس یہ سمجھ لیجیے کہ بہت سی مصروفیات اور آپ سے ہونے والی ڈسکشن کی اہمیت کے باعث اتنی زیادہ تاخیر ہوگئی۔ آپ کی ساری باتیں پڑھنے کے بعد آپ کے غور و فکر کے لیے چند معروضات ذیل میں پیش کررہا ہوں، ان میں آپ کی باتوں کو جواب بھی آجائے گا اور میرے نقطۂ نظر کی کچھ مزید توضیح بھی ہوجائے گی۔


پورے قرآن کو ماننے لیکن ایک آیت کا انکار کرنے اور تمام ذخیرۂ احادیث پر اعتقاد رکھنے مگر ایک صحیح حدیث کو جھٹلانے جیسے رویوں کا جہاں تک تعلق ہے یقیناً ان کی خرابی و گمراہی میں کوئی شک نہیں ہے۔ کوئی شخص اگر واقعتا کسی غلط فہمی یا فہم و معقولیت کے پہلو سے کسی واقعی اشکال وغیرہ کی بنیاد پر نہیں بلکہ بس یونہی کسی آیتِ قرآنی اور صحیح و مستند روایتِ نبوی کا انکار کررہا ہو تو اس کے غلط اور گمراہی کا شکار ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں رہ جاتا۔ ان مثالوں کے ذکر کرنے کے بعد آپ نے پوچھا ہے کہ جب بڑی تعداد میں احادیث میں صحابہ کرام کی شان و عظمت بیان ہوئی ہے اور پوری امتِ مسلمہ شروع سے متفقہ طور پر صحابہ کرام کو عادل و ثقہ اور قابلِ احترام و توقیر ہستیاں قرار دیتی آئی ہے تو اگر کوئی شخص یا گروہ ان کی شان میں گستاخی کرتا اور ان کے فضائل و کمالات کا انکار کردیتا ہے تو کیا اس رویے کے بعد بھی ہم انہیں غلط اور گمراہ یا کافر کہنے سے پرہیز و گریز کریں؟ میں عرض کروں گا کہ میں دراصل آپ کو یہ بات بتانے کی کوشش کررہا ہوں کہ غلط کو غلط کہنا اور کسی کفریہ عقیدہ و فکر کا تجزیہ کرکے اس کے قائل کا کفر پر ہونا ظاہر کرنا اپنی ذات میں کوئی تشدد، ممنوعہ عمل اور قابل رد و اعتراض بات نہیں ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ کام کس کے کرنے کے ہیں؟ کیا ایک عام مسلمان کھڑے ہوکر ان بنیادوں پر کسی فرد یا جماعت کے کفر و گمراہی کا اعلان کرسکتا ہے؟ یا یہ معاملات عام افراد کے بجائے دین کے علما اور مسلمانوں کے نظمِ اجتماعی اور اس میں موجود بااختیار قاضیوں سے متعلق ہیں؟ قادیانیوں کا جہاں تک معاملہ ہے ذرا بتائیے کہ ان کے کفر و ضلالت کا فیصلہ کس نے دیا؟ کسی ایک چلتے پھرتے عام آدمی نے یا دو چار علما و فقہا نے مشاورت کرکے یا پھر علما کی ایک بڑی تعداد جس میں تقریباً تمام نمایاں مکاتبِ فکر کے علما مجتمع تھے، انہوں نے باقاعدہ ایک بااختیار عدالت میں مقدمہ دائر کیا۔ اور اس کی پیروی کرکے مقدمہ جیتا اور اسی بااختیار عدالت سے انہیں کافر اور غیرمسلم قرار دلوایا۔ آپ کسی دوسرے گروہ اور فرقے کے عقائد و خیالات یا لٹریچر کو اسی درجے میں قابلِ اعتراض سمجھتے ہیں تو اسی قانونی و عدالتی راستے کو اپنائیے۔ اپنی ذاتی حیثیت میں آپ کو یا کسی مفتی و علامہ کو ایسا کوئی حق و اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی فرد یا جماعت کے کفر و ضلالت کا فتویٰ و فیصلہ صادر کرے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہمارے معاشرے میں لوگ اپنی حدود کو نہیں پہچانتے اور اپنے دائرے سے تجاوز کرکے بہت سے فتوے اور فیصلے صادر فرماتے رہتے ہیں۔ لیکن یہ ایک قابلِ اصلاح معاملہ ہے نہ یہ کہ آپ اس غلطی کو بنیاد بناکر مزید اسی طرح کی غلطیوں کے ارتکاب کی تحریک چلائیں۔


جو حدیث آپ نے پیش کی ہے جس میں اپنی استطاعت کے مطابق برائی کو زبانی تلقین سے یا طاقت سے روکنے یا کم از کم دل سے برا جاننے کی نصیحت کی گئی ہے، اس کا مطلب کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ایک عام آدمی بازار میں کسی کو برائی کرتے ہوئے دیکھے تو ڈنڈا لے کر اس پر ٹوٹ پڑے اور اسے اس برائی سے باز رکھنے کی کوشش کرے اور اگر وہ اس برائی کا ارتکاب کربیٹھا ہو تو اسے سزا دے ڈالے۔ میرے بھائی اس حدیث کا تعلق انسان کو اس کے اختیاری دائرے میں مطلوب رویے کے بارے میں تلقین سے ہے۔ یعنی ایک انسان بہرحال اپنا ایک اختیاری دائرہ رکھتا ہے جس میں اس کے بیوی بچے اور ماتحت وغیرہ آجاتے ہیں۔ ان میں سے اگر کوئی برائی کا ارتکاب کرنے جارہا ہو تو اس پر لازم ہے کہ وہ انہیں اس سے بزور باز رکھنے کی کوشش کرے۔ لیکن اگر وہ اتنا مضبوط ایمان نہ رکھتا ہو اور اس کی ذہنی و نفسیاتی استطاعت اتنی ہی ہو کہ وہ بس زبانی تلقین ہی کرسکتا ہو تو اسے اس سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہیے اور اگر وہ اس معاملے میں اتنا کمزور ہو کہ نہ طاقت و زور سے اپنے زیرِ اختیار افراد کو برائی سے باز رکھ سکے یا انہیں زبانی تنبیہ ہی کرنے کی جرأت کرے تو کم از کم اس میں اتنا ایمان و غیرت تو بہرحال ہونا چاہیے کہ وہ دل میں اس برائی کی قباحت کو محسوس کرے اور اسے برا جانے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس روایت کو لے کر آپ مسلمانوں کو یہ درس دیں کہ وہ معاشرے میں خدائی فوجدار بن جائیں اور کسی برے آدمی کو کوئی برا کام کرنے نہ دیں اور پولیس اور قانون کا کام اپنے ہاتھوں میں لے کر بروں کی ان کی بدی و برائی کی سزا خود ہی دے ڈالیں۔ اس عمل سے معاشرے میں خیر کا فروغ اور برائی کا استیصال نہیں ہوگا بلکہ انارکی اور بدامنی پھیلے گی۔ لوگ پولیس اور قانون کی ذمہ داریاں اپنے ہاتھوں میں لے کر جسے چاہیں گے یا تو واقعی برائیوں کی بنیاد پر سزا دے ڈالیں گے یا پھر اپنی ذاتی و خاندانی دشمنیوں کو بنیاد بناکر لوگوں کو غلط طور پر برے کاموں کا مرتکب قرار دے کر انہیں ان برے کاموں کی بطورِ خود سزا دے کر اپنی دشمنیاں نکالیں گے۔ اپنے اس اختیاری دائرے سے، جس کے حوالے سے مذکورہ حدیث میں ہدایت کی گئی ہے، باہر ایک مسلمان کا اپنے معاشرے میں عمومی رویہ کیا ہونا چاہیے، اس حوالے سے مسلمانوں کو یہ بتایا گیا ہے کہ مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ وہ باہم ایک دوسرے کو بھلائیوں کی تلقین کرتے اور برائیوں سے منع کرتے ہیں۔ یعنی زبانی نصیحت و تلقین کے اندز میں آپ سماج میں کسی بھی جگہ کسی بھی شخص کو کسی خیر کی طرف متوجہ کرسکتے اور کسی غلط کام و کاروائی سے رکنے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔ اس سے سوسائٹی میں کوئی انتشار و انارکی نہیں پھیلتی۔ ہاں اگر زبانی نصیحت سے بھی کہیں فتنے اور برائی کے بڑھ جانے کا اندیشہ ہو تو حکمتاً اس سے بھی گریز کیا جاسکتا ہے کیوں کہ سماج میں فساد و بگاڑ اور انتشار و انارکی خدا کے انتہائی ناپسندید امور میں سے ہے، اسے بہرحال گوارا نہیں کیا جاسکتا۔


میرے بھائی مجھے صحیح کو صحیح کہنے اور غلط کو غلط کہنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور نہ ہی اس بات پر کوئی اشکال و شکایت ہے کہ ایک مسلمان صحیح باتوں کی تلقین کرنے اور غلط اور نادرست افکار و معمولات کی نشاندہی کرنے کی روش اپنائے۔ یقیناً یہ دین کی تعلیم و ہدایت کے مطابق ایک بالکل صحیح طرزِ عمل ہے اور مجھے بھی اس سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔ آپ کے اس حوالے سے مجھ سے پوچھے ہوئے سوالات سے یہ لگتا ہے کہ شاید آپ کو میرے بارے میں یہ غلط فہمی ہوگئی ہے کہ میں غالباً ان باتوں سے اختلاف رکھتا ہوں اور صحیح کو صحیح کہنے اور غلط کو غلط بتانے اور صحیح و غلط کے حوالے سے لوگوں کو آگاہی دینے سے منع کررہا ہوں۔ اپنی یہ غلط فہمی دور کرلیجیے، کیوں کہ ان معقول باتوں سے مجھے ہرگز کوئی اختلاف نہیں ہے۔ لیکن اتنی بات ضرور ملحوظ و پیش نظر رکھیے کہ ہر انسان کو معاملہ اپنے حدود و قیود میں رہ کر ہی کرنا چاہیے۔ جس طرح دنیا میں جو کام دھوبی کے کرنے کا ہے وہ نانبائی نہیں کرسکتا اور ڈاکٹر کا کام پلمبر نہیں انجام دے سکتا، اسی طرح دینی حوالے سے بھی ایک عالم و فقیہ کی ذمہ داریاں یا ایک رئیس و سربراہِ مملکت کے فرائض ایک عام آدمی نہیں ادا کرسکتا۔ یہ عالم کا کام ہے کہ وہ دینی ہدایات و احکامات و تعلیمات کی تشریح و توضیح کرے اور یہ بتائے کہ کیا چیزیں ماننا دینی لحاظ سے ضروری ہیں اور کون سے افکار و خیالات دینی لحاظ سے ناقابلِ قبول اور کفر و گمراہی ہیں۔ کسی پر فتویٰ لگانا اور اس کے غیرمسلم یا کافر ہونے کا فیصلہ سنانا ایک عالم کے بھی دائرۂ حدود سے باہر کا معاملہ ہے۔ یہ مسلمانوں کی ایک بااختیار حکومت اور ان کے نظم اجتماعی کے سربراہان کے تحت قائم شدہ بااختیار عدالتوں کا معاملہ ہے۔ جہاں اس طرح کے معاملات میں باقاعدہ مقدمہ دائر کرکے پہلے ثابت کیا جائے گا کہ کسی شخص یا گروہ کے یہ یہ افکار و عقائد ہیں اور یہ ان وجوہات اور دلائل کی بنا پر کفر و گمراہی ہیں۔ ان سارے مراحل سے گزرنے کے بعد یہ عدالت کا کام ہے کہ وہ کسی کو دائرہ اسلام سے خارج، غیر مسلم یا کافر ٹھہرائے۔ ہر ایرا غیرا اور گلی بازار میں چلتا عام مسلمان یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ بس اپنی ذاتی حیثیت میں کسی کے اعتقادات کو گستاخانہ، کفریہ اور شرکیہ قرار دے کر اس کے خارج از اسلام ہونے کا اعلان و فیصلہ نشر کرتا پھرے۔ اس طرح کی باتیں مسلم معاشرے میں انارکی، طوائف الملوکی اور باہمی بغض و بگاڑ کا طوفان برپا کردینے والی ہیں۔ مسلمانوں کی اجتماعی طور پر اسی طرح کی جسارتوں نے آج انہیں باہم دیگر دست و گریباں کررکھا ہے اور آج وہ اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو اپنے زعم کے مطابق کافر و مشرک اور باغی اسلام قرار دے کر ان کا جان، مال، آبرو اور ہر چیز حلال بنائے ہوئے ہیں۔


ایک بات یہ بھی یاد رکھیے کہ بہت سے افکار و معمولات کے بظاہر غلطی پر مبنی اور کفر و شرک نظر آنے کے باوجود یہ ہوسکتا ہے کہ ان کا قائل و عامل کسی غلط فہمی یا تاویل و تعبیر کی کسی کوتاہی کے باعث ان میں مبتلا ہو۔ ایسی صورتحال میں ہمارا کام یہ نہیں ہے کہ ہم بس چھوٹتے ہی اس کے دائرہ اسلام سے آؤٹ ہونے کا اعلان کرنے لگیں بلکہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم اس کی غلط فہمی اور تاویل و تعبیر کی ناسمجھی کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ اس وقت مسلمانوں میں کیسے کیسے افکار رائج ہیں جو سراسر قرآن و سنت کے خلاف ہیں اور ایسے ہی کتنے خلافِ اسلام معمولات مسلمانوں کی عادت و مذہبیت کا جزو لاینفک قرار پاچکے ہیں اور یہ سب کچھ نسل در نسل ان میں منتقل ہورہا ہے۔ وہ مسلمان جو خدا و رسول کو مانتے اور قرآن و سنت پر ایمان رکھتے ہیں، آخرت کے بھی قائل ہیں، فرشتوں اور نبیوں پر بھی اعتقاد رکھتے ہیں، وہ تک نادانی اور ناسمجھی اور غلط سلط تاویلات کی بنا پر انہیں غلط اور خلافِ اسلام نہیں سمجھتے۔ ایسے میں اگر ہم انہیں سمجھانے اور فکر و عمل کی ان غلطیوں کی حقیقت سے واقف کرانے کے بجائے جھٹ انہیں کافر و مشرک اور بدعتی قرار دینا شروع کردیں تو یہ نری زیادتی ہوگی۔ ہمیں چاہیے کہ ہم پیار و محبت اور ہمدردی و اپنائیت سے ایسے مسلمان بھائیوں کی غلط فہمیوں اور فکر و عمل کی کجیوں کو دور و ختم کرنے کی کوشش کریں۔ ان کے سامنے قرآن و سنت کی اصل تعلیمات رکھیں اور انہیں دلائل کی بنیاد پر یہ سمجھانے اور باور کرانے کی جستجو کریں کہ یہ عقیدے اور اعمال دین کی تعلیمات و مزاج کی روشنی میں نادرست ہیں، غلط اور خلافِ اسلام ہیں۔ خدا کے پیغمبروں کا یہ نمونہ کہ وہ سالہا سال تک اپنی قوموں اور اپنے ہم وطنوں کو ہدایت کے راستے پر لانے اور ان کے ہاں پائے جانے والے کفر و شرک پر مبنی خیالات و رسومات سے انہیں دور کرنے کی کوشش کرتے تھے، اس میں ہمارے لیے بڑی روشنی اور رہنمائی ہے کہ ہم اگر کسی مسلمان کے فکر و عمل اور عقائد و معمولات میں کوئی خامی اور خرابی دیکھیں تو بار بار اسے سمجھانے اور اس غلطی و گمراہی سے نکالنے کی کوشش کریں نہ یہ کہ پہلے ہی مرحلے اور اول بار ہی میں اس کی گمراہی کا اعلان فرمانے لگیں۔ باقی اگر کوئی جماعت یا گروہ مستقلاً کسی غلط بنیاد پر جم گیا ہے اور نسلاً بعد نسلٍ وہ اسے اپنائے ہوئے ہے تو بھی ان کے بالمقابل صحیح بنیاد پر قائم مسلمانوں کو انہیں راہِ راست پر لانے کی کوشش جاری رکھنی چاہیے اور اس معاملے میں ہمدردی و خیرخواہی ہی سے کام لینا چاہیے نہ یہ کہ ہم اسے اپنا دشمن اور اسلام کا باغی باور کرکے اس سے دشمنوں اور غیروں جیسا سلوک کریں۔ مسلمانوں کا کام لوگوں کو ہدایت و نجات کے راستے کی طرف لانے کی کوشش کرنا ہے نہ کہ ان کی غلطیوں اور گمراہیوں کو بنیاد بناکر انہیں اپنا دشمن سمجھنا اور پھر مستقل طور پر ان سے نفرت و عداوت کے جذبات میں جینے لگنا۔ جو بات غلط ہے، گمراہی ہے اس کی غلطی و گمراہی کے بارے میں ضرور آگاہی پھیلائیے لیکن یہ کام علما کو کرنے دیجیے اور علمی انداز اور علمی دائرے تک محدود رکھیے۔ اور اگر نوبت اسے بنیاد بناکر کسی فیصلے کے کرنے کی آجائے تو انفرادی و شخصی طور پر فیصلہ کرنے کے بجائے اسے قانون و عدالت کےکٹہرے میں پیش کرکے یہ کام وہاں موجود بااختیار قاضیوں کو کرنے دیجیے۔


ایک مزید بات یہ جو کہ بہت ہی زیادہ اہم اور اساسی ہے کہ قرآن و سنت اور احادیث میں ایک مسلمان کے لیے جن باتوں پر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے وہ بنیادی ایمانیات و اخلاقیات کو دل و جان سے اپنانا اور شرعی فرائض و واجبات کی حسن و خوبی کے ساتھ بجاآوری ہیں۔ لہٰذا ہمیں بھی اپنی دعوت و پیغام رسانی کی بنیاد انہی باتوں کو بنانا چاہیے۔ کسی طبقے اور فرقے کے کیا عقائد و خیالات ہیں اور ان کی بنیاد پر وہ مسلمان رہتے ہیں یا کافر و غیر مسلم ہوجاتے ہیں، یہ باتیں عمومی طور پر لازماً ہر مسلمان کے لیے جاننا اور ماننا قرآن و حدیث کی روشنی میں کوئی ضروری چیزیں نہیں ہیں۔ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ اپنی ساری زندگی میں میں نے کسی قادیانی اور شیعہ کی زبان سے وہ عقائد و تصورات نہیں سنے جو عام طور پر ان حلقوں سے منسوب کیے جاتے اور جن کی بنیاد پر انہیں گمراہ، غیرمسلم اور کافر ٹھہرایا جاتا اور پھر ہر ایک مسلمان سے یہ تقاضا کیا جاتا ہے کہ وہ بھی لازماً ان کے بارے میں یہی باور کرے۔ کیوں، یہ آخر کیوں ضروری ہے کہ ہر مسلمان لازماً گمراہ فرقوں کے بارے میں اور ان کے غلط و نادرست یا کفر و گمراہی پر مبنی خیالات و اعتقادات کے بارے میں جانے اور ان کی بنیاد پر ان کے خارج از اسلام ہونے کا یقین رکھے۔ مجھے بتائیے کہ قرآن و حدیث میں یہ ہدایت کہاں دی گئی ہے۔ جب میں اسلام کے بنیادی پیغام سے واقف ہوں، اسے مانتا ہوں اور اس کے مطابق اپنی زندگی درست طور پر گزار رہا ہوں تو اس کے بعد ان تفصیلات کی میرے لیے کیا اہمیت ہے، میں کیوں انہیں لازماً جانوں اور ان کے باب میں کوئی نہ کوئی مؤقف اور رائے رکھوں؟ کیا میں ان سے بے خبر اور غیر متعلق رہ کر مسلمان باقی نہیں رہ سکتا اور اپنی آخرت کی فلاح اور خدا کی رضا کے لیے کوشش کرنے میں کامیاب و کامران نہیں ہوسکتا؟


آپ سے درخواست ہے کہ میری 23 ستمبر کی ای میل دوبارہ پڑھ لیجیے گا اور اس میں پیش کیے گئے نکات پر ایک مرتبہ پھر غور فرمالیجیے گا۔ جاتے جاتے میں چاہتا ہوں کہ ان دوسرے ضنمی نکات کے حوالے سے بھی اپنا مؤقف واضح کردوں جو آپ نے بیان فرمائے ہیں۔ (۱) عالم کو چیک کرنے سے آپ بڑے عالم نہیں ہوجاتے۔ جس طرح مختلف ڈاکٹروں سے چیک اپ کرانے کے بعد آپ بغیر ڈاکٹر بنے یہ اندازہ لگالیتے اور فیصلہ کرلیتے ہیں کہ ان میں زیادہ قابل و ماہر ڈاکٹر کون سا ہے۔ ایسے ہی مختلف علما کی گفتگو اور تقاریر سن کر یا ان کے مضامین اور تحریریں پڑھ کر آپ کے لیے یہ معلوم کرنا کچھ مشکل نہیں رہتا کہ ان میں سے زیادہ صحیح اور معقول بات کرنے والا کون ہے۔ (۲) برائی کو ہاتھ یا زبان سے روکنے یا دل سے برا جاننے کے حوالے سے جو ہدایت دی گئی ہے، اس کا صحیح محل کیا ہے میں نے اوپر واضح کیا ہے۔ اسے دوبارہ پڑھ لیں تو آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ اس کا تعلق انسان کے اختیاری دائرے سے ہے ورنہ عمومی طور پر دعوت و تبلیغ کا کام کرتے ہوئے یا معاشرے میں جیتے ہوئے روز مرہ زندگی میں اس حوالے سے کیا رویہ ہونا چاہیے، اس سلسلے میں یاد رکھیے کہ صرف اور صرف تلقین کرنے، نصیحت فرمانے اور ترغیب و تشویق دینے کی ہدایت ہے۔ داروغہ اور چوکیدار بننے یا سر پر سوار ہوجانے کی جہاں تک بات ہے یا طاقت سے روکنے کا جہاں تک سوال ہے تو ان کاموں سے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نمائندوں یعنی پیغمبروں اور رسولوں کو بھی سختی سے منع فرمایا ہے۔ (۳) آپ فرماتےہیں کہ صحابہ جن کے شاگردوں اور شاگردوں کے شاگردوں کو بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیر فرمایا ہے۔ اب جو لوگ ان کی بارگاہ میں بے ادبی و گستاخی کے مرتکب ہوتے اور نازیبا الفاظ و بیانات استعمال کرتے ہیں کیا ہم انہیں مسلمان سمجھیں۔ چلیے ٹھیک ہے آپ اپنی ذاتی حیثیت میں یہ گمان مت رکھیے لیکن اس کے بعد کیا انہیں سمجھانے اور اس غلطی سے نکالنے کے لیے کوشش کرنا بھی حرام و ناجائز ہوجاتا ہے اور یہ ضروری اور فرض ہوتا ہے کہ آپ انہیں اسلام دشمن اور ابدی گمراہ قرار دے دیں اور ساری دنیا میں یہ تبلیغ کرتے پھریں کہ جب تک تم انہیں گمراہ اور کافر تسلیم نہیں کرلیتے، تمہارا ایمان و اسلام ہی غیر معتبر اور مشکوک ہے۔ کیا وہ لوگ جو اس زمانے میں صحابہ تو دور رہے خدا ہی کا انکار کرتے اور اس کائنات کے پیچھے کسی خالق و مالک خداوند کے ہونے کے تصور کا کھلے بندوں مذاق اڑاتے ہیں، ان کے بارے میں بھی آپ کا رویہ یہی ہوگا کہ آپ انہیں خدا کے گستاخ اور سدا کے گمراہ و کافرین قرار دے کر ان تک اسلام کا پیغام و کلام پہنچانے کی زحمت ہی نہ کریں۔ یقیناً نہیں بلکہ آپ کو انہیں بھی سچائی اور ہدایت کی طرف بلانا ہوگا۔ ایسے ہی جو لوگ صحابہ کرام کی عظمت و فضیلت کے باب میں شک و انکار کا اظہار کررہے ہیں، انہیں بھی آپ درست بات اور عقیدے کی طرف بلاتے رہیے اور ہمدردی و خیرخواہی کے ساتھ بلاتے رہیے۔ انہیں ابدی شقی و بدبخت قرار دے کر ان کی ہدایت سے مایوس ہوکر انہیں اپنا دائمی دشمن مت سمجھیے۔ (۴) اچھے عالم سے متعلق سوال کے جواب میں میں کسی کا نام لینا مناسب نہیں سمجھتا کیوں کہ میں الحمد للہ مسلمانوں کے مختلف حلقوں سے تعلق رکھنے والے تمام علما و محققین کا احترام کرتا اور ان کے کام و تحریرات سے استفادہ کرتا ہوں۔ آپ بھی اسی وسعت کے ساتھ ہر اچھے عالم و محقق کی کتابوں کا مطالعہ کیجیے، بہت فائدے میں رہیں گے اور آپ کے علم و فکر میں بہت زیادہ روشنی اور اضافہ ہوگا۔۔۔۔۔۔۔
isfi22

PAKISTAN
Posted - Monday, October 25, 2010  -  5:39 AM Reply with quote
۔۔۔۔۔۔ محترمی و مکرمی محمد شفیع صاحب، سلام و آداب و احترامات۔ آپ حدیث زیرِ بحث کے حوالے سے میری پیش کردہ اس توجیہہ سے متفق نہیں ہیں کہ نجات یافتہ گروہ حدیث میں مذکور تہتر فرقوں میں سے کوئی ایک مخصوص فرقہ نہیں ہوگا بلکہ ان تمام لوگوں پر مشتمل ہوگا جو ان تہتر فرقوں یا پوری امتِ مسلمہ میں سے اپنے اقوال و افعال اور اخلاق و کردار کے زاویے سے رسول و اصحابِ رسول کے طریقے اور اسوے پر ہوں گے۔ میری اس توجیہہ کی بنیاد حدیث میں آگے بیان ہونے والی وہ تشریح ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ نجات یافتہ ہونے کی بنیاد رسول و اصحابِ رسول کے طریقے سے مطابقت کا وصف ہوگا نہ کہ کوئی اور دوسری بنیاد۔ میں بہرحال اس حدیث اور دین کی دوسری تعلیمات اور عقل و فطرت اور تاریخ و واقعات کے حقائق کی روشنی میں اس حوالے سے یہی رائے رکھتا ہوں۔ آپ کو اگر اس سے اتفاق نہیں ہے تو یہ آپ کا حق ہے، ضرور اختلاف کیجیے، بھرپور اختلاف کیجیے مگر پھر براہِ راست انداز میں ذرا ہمیں اس حقیقت سے بھی آگاہ کیجیے کہ موجودہ مسلم فرقوں میں سے آپ کے نزدیک وہ کون سا فرقہ و جمیعت ہے جو حدیث زیرِ بحث کے مطابق نجات کا حق دار ہے اور اس کی وجوہات کیا ہیں اور ان کے افکار و معتقدات اور کردار و معمولات میں نقوشِ رسول و اصحابِ رسول سے مطابقت کی وہ کون سی بنیادیں ہیں جن کی بنیاد پر آپ اسے واحد مستحقِ نجات فرقہ باور کررہے ہیں۔مزید یہ بھی بتائیے کہ اس کے علاوہ باقی مسلم فرقوں کو کیا آپ دین سے خارج اور خدا کی گرفت و عذاب اور نارِ جہنم کا مستحق سمجھتے ہیں اور اگر واقعتا سمجھتے ہیں تو اس کی بنیاد کیا ہے اور ان فرقوں کے اعمال و نظریات میں وہ کون سے باطل یا کفر و شرک اور ضلالت کے اجزا ہیں جن کی بنیاد پر آپ کا ایہ احساس شریف ہے؟


آپ کی دوسری بات کہ مسلمانوں کو ان حکمرانوں کی اطاعت و پیروی کرنی چاہیے جو درست راستے پر ہوں۔ اگر حکمران ٹیڑھے راستوں اور انحرافات پر استوار ہوجائیں تو مسلمانوں پر ان کی اتباع اور پیروی لازم نہیں رہتی، یہ سراسر ایک غلط بات اور گہری سوءِ فہمی اور مسلمانوں کے حق میں ایک بدترین تجویز ہے۔ علما و فقہا کا اس باب میں جو متفقہ مؤقف ہے اور اس طرح کے فتنہ انگیز ماحول کے حوالے سے جس میں حکمران بگاڑ اور فسق و فساد کا شکار ہوجائیں، احادیث میں جو تلقین و نصائح موجود ہے، آپ کا یہ ارشاد ان سب کے بالکل برخلاف ہے۔آپ اپنی اس تجویز کے ذریعے مسلمانوں کو انارکی اور طوائف الملوکی کی کھائی میں گرانا چاہتے اور انہیں باہم دیگر مخالفت و عناد اور جنگ و جدال کی خندق میں جھونک دینا چاہتے ہیں۔ آپ کی یہ خواہشات ہوں نہ ہوں، تاہم اپنی اس رائے کو پھیلاکر آپ کارنامہ یہی انجام دیں گے۔وہ صورتحال جس میں حکمرانوں کی اطاعت و پیروی لازم نہیں رہتی اور ان کے خلاف بغاوت کرنا اور ہتھیار اٹھانا جیسے امور جائز ہوجاتے ہیں، ایک تفصیل طلب معاملہ ہے، تاہم اتنی بات ضرور ہے کہ اس کا تعلق حکمرانوں کی طرف سے کھلے کفر کے ارتکاب اور شعائرِ اسلامی کے حوالے سے واضح قسم کے منحرفانہ رویے سے ہے نہ کہ محض کسی بھی قسم کے بگاڑ و بدعملی یا اسلامی تعلیمات سے عملی روگردانی سے۔ اگر یہ کسی کو خارج از اسلام یا مباح الدم قرار دینے کی بنیاد ہے تو پھر اس وقت وہ ڈھیر سارے مسلمان جو نام کے علاوہ کسی کام کے مسلمان نہیں ہیں۔ نماز روزہ تک کے اہتمام سے جنہیں سرے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے لیکن وہ خود کو بڑے ذوق و شوق سے مسلمان ہی بتاتے ہیں، ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہوگا!


آپ کی تیسری بات کے جواب میں گزارش یہ ہے کہ آپ کا یہ فرمانا کہ میں نے جو کچھ فرمایا ہے وہ کوئی اپنی من گھڑت نہیں ہے بلکہ ایک حدیث کے حوالے سے کہی ہوئی بات ہے تو اس کے حوالے سے میں گزارش کروں گا کہ حدیث تو آپ نے واقعتا پیش فرمائی ہے مگر اس سے جو مطالب و مفاہیم اور اصول و کلیات اور مسلمانوں کے لیے نقوش و نصائح اخذ کیے ہیں وہ آپ کا اپنا فہم ہے اور معاف فرمائیے گا سوءِ فہم کی ایک بڑی ناپسندیدہ مثال ہے۔ قرآن و حدیث کا معاملہ یہ نہیں ہے کہ ہما شما میں سے کوئی بھی بس ایک آیت پڑھے یا حدیث تلاوت کرے، پھر اس کے بعد اس آیت یا حدیث کے حوالے سے جو کچھ اپنی سمجھ میں آئے اور اپنے دماغ میں پیدا ہو، اسے آیت یا حدیث کا مدعا قرار دے کر بیان کرنا شروع کردے۔ اور جب اعتراض کیا جائے تو یہ خطبہ پڑھنا شروع کردے کہ میں کوئی اپنے پیٹ کا درد تھوڑی نشر کررہا ہوں بلکہ آیتِ قرآنی اور حدیثِ نبوی کا پیغام پہنچارہا ہوں۔ قرآن و حدیث کو سمجھنے کے لیے بہت سے قواعد و کلیات ہیں جو علما و محققین نے بیان کیے ہیں آیات و احادیث کو ان کی روشنی ہی میں سمجھنا چاہیے ورنہ یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ انسان بظاہر تو کسی آیت یا حدیث کے حوالے سے بات کررہا ہوتا ہے لیکن اس کے نتیجے میں ہوتا یہ ہے کہ اس کا اپنا پسندیدہ حلقہ و ٹولہ تو جنت کی نعمتوں کا مستحق نظر آئے اور باقی لاکھوں کروڑں افرادِ امت جہنم کا ایندھن قرار پائیں۔ کسی صاحبِ ہوش و خرد کا اس دعوے اور نتیجے سے اتفاق کرنا بالکل محال ہے۔


باقی آپ نے اپنے کسی ایک ہی فرقے کے نجات یافتہ ہونے کے فہم کو بنیاد بناکر مجھے جو نصیحت کی ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کو اس نجات یافتہ گروہ کو تلاش کرکے اس سے وابستہ ہوجانا چاہیے تو میں گزارش کروں گا کہ یہ قرآن کی تعلیمات اور احادیث کے مجموعی فہم کے سراسر خلاف و متضاد بات ہے۔ دین کی مجموعی تعلیم تو فرقہ بندی سے آخری حد تک گریز کرنے، گروہوں اور احزاب سے الگ رہنے اور اس طرح کے فتنوں کے بہت بڑے پیمانے پر پھیل جانے کے موقع پر کونوں او ویرانوں میں ڈیرا ڈال لینے کی تعلیم دیتی ہے۔ مسلمانوں کو قرآن نے قرآن کو تھامنے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بے چون و چرا اطاعت و فرمانبرداری کرنے، اپنے حکمرانوں سے معاونت و توافق اور اطاعت کا رویہ رکھنے اور اختلافات کی صورت میں کسی فرقے اور ٹولے اور اس کے اکابرین کی تصنیفات و تحقیقات یا ان کے فرامین و فتاویٰ جات کی طرف رجوع کرنے کی نہیں بلکہ قرآن و سنت کی بنیاد پر اپنے نزاعات و اختلافات کا تصفیہ کرنے کی ہدایات دی ہیں۔ آپ اس حوالے سے جو کچھ فرمارہے ہیں اس آئینے میں وہ سراسر ان تعلیمات کے خلاف باتیں ہیں۔ لہٰذا آپ اپنے ان فرامین و ملفوظات کو اپنے پاس رکھیے۔ ہمیں بہرحال ان کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔


مسلمانوں کے غلط اور انحراف پر مبنی رویے بلاشبہ اس قابل ہیں کہ ان پر تنقید کرکے ان کی غلطی و نادرستی عالم آشکار کی جائے، مسلمانوں کو انہیں ترک کرنے اور درست راہ و روش پر گامزن ہونے کی نصیحت کی جائے اور ان میں سے اپنے اپنے حلقے اور جماعت کے حوالے سے متعصبانہ رویوں کو ختم کرکے حق پسندی اور دلائل کی بنیاد پر بات کو قبول یا رد کرنے کی عادت پیدا کی جائے۔ لیکن انہیں یہ بتانا کہ دیکھو ایک ہی فرقہ نجات کا حق دار ہوسکے گا، اس کے علاوہ باقی تہتر فرقے ہوں یا تہتر ہزار، سب کے سب جہنم میں جائیں گے اور سزا پائیں گے، صرف اور صرف یہی نتیجہ پیدا کرے گا کہ مسلمانوں میں فرقہ پرستی اور جماعتی و گروہی تعصبات مزید پختہ ہوجائیں اور وہ اور زیادہ شدت و حدت کے ساتھ اس غلط اصول پر عمل کرنے لگیں کہ بس جس ٹولے کی ہم نشینی اپنالی ہے، اپنائے رہو۔ جب تک وہ یہ باور کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے کہ نجات و فلاح کا جو اصلی معیار ہے یعنی رسول و اصحابِ رسول کے طریقے سے مطابقت و موافقت، اس کی بنیاد پر ہوسکتا ہے کہ کوئی دوسری جماعت، تنظیم یا فرقہ زیادہ اعلیٰ معیار کا حامل ہو، وہ اپنے اپنے حلقوں سے چمٹے رہنے ہی کو ترجیح دیتے رہیں گے اور جب تک ان میں یہ وسعتِ نظری نہیں پیدا ہوتی کہ نجات کا جو اصلی و حقیقی معیار ہے یعنی اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب و رفقا کی زندگیاں، اس کی بنیاد پر یہ بھی ممکن ہے کہ وہ افرادِ امت بھی کل قیامت میں نجات و سرخروئی کے سزاوار ٹھہریں جو دوسرے حلقوں اور جمیعتوں سے وابستہ ہیں، ان میں باہمی محبت و احترام اور اخوت و اتحاد کی فضا کبھی قائم نہیں ہوسکتی، چاہے اس کے لیے مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے سربرآوردہ لوگ اور نمائندے اور علما و پیشوا کتنا ہی وعظ و نصیحت فرمالیں اور اپنے اپنے متعلقین و معتقدین کو اس کے لیے کتنا ہی سمجھاتے اور تربیت دیتے رہیں اور مختلف سیاسی یا غیر سیاسی مفادات و مشترکات کو بنیاد بناکر بار بار اتحادی گروپس تشکیل دیتے رہیں۔ ایسی تمام کوششیں اور نصیحتیں رائیگاں ہی جائیں گی اور بڑے عرصے سے یہی کچھ ہوبھی رہا ہے۔


آپ کا اس حدیث کے حوالے سے فہم و استدلال مسلمانوں میں فرقہ بندی کے رجحان کو فروغ دیتا ہے۔ وہ انہیں یہی باور کراتا ہے کہ انہیں بہرحال فرقہ فرقہ ہونا چاہیے اور ہر ایک کو یہی سمجھنا اور دعوی کرنا چاہیے کہ بس اسی کا فرقہ و جماعت ہدایت یافتہ ہے اور آخرت کی سرفرازی بس اسی کا مقدر ہے۔ جبکہ حدیث میں اگر وہ سند و درایت کے ہر ہر پہلو سے مضبوط و لائقِ اعتماد ہو بھی تو مطلب یہ نہیں ہے کہ ضرور مسلمانوں کو فرقوں اور گروہوں میں بٹ جانا چاہیے۔ بلکہ اس میں تو آئندہ زمانے میں پیش آنے والے ایک ناگوار و ناپسندیدہ واقعے اور صورتحال کو بیان کیا جارہا اور ایسی تاریک و فتنہ انگیز فضا میں مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے، اس حوالے سے انہیں یہ سوچ فراہم کی جارہی ہے کہ انہیں اپنے اپنے اکابرین، تعصبات اور اپنے اپنے فرقے اور تنظیم کے علما و فقہا کے فتاویٰ اور فیصلوں اور اقوال و ملفوظات کو بنیاد بنانے کے بجائے اپنے اقول و اعمال اور نظریات و معمولات کو رسول و اصحابِ رسول کے اسوے کے مطابق بنانے کی فکر و کوشش کرنی چاہیے۔ کیوں کہ نجات کی بنیاد جس طرح کسی کا قرآن کے مطابق محض مسلمانوں کے گروپ میں شامل ہوجانا نہیں ہے اسی طرح آئندہ زمانے میں مسلمانوں کی بدقسمتی کے باعث ان کے درمیان ابھرنے والے فرقوں اور ان کے مزعومات بھی اس کی بنیاد نہیں ہوں گے بلکہ رسول و اصحابِ رسول کے طریقے اور اسوے کی پیروی اس کا معیار و پیمانہ ہوگی۔


باقی دیوبندی حیاتی گروپ کیا دعویٰ کرتا اور آپ اس کے اس دعوے کو درست یا نادرست سمجھتے ہیں، اس بات کو ذکر کرنے سے آپ کی کیا مراد و خواہش ہے، یہ بات واضح نہیں ہوسکی۔ میں تو اس طرح کے تمام دعاوی کو باطل اور خوش فہمی سمجھتا اور اپنے ماسوا مسلمانوں کے دوسرے گروپوں او جمیعتوں کو برسرِ باطل ٹھہرانے اور انہیں عذاب و جہنم کا مستحق بتانے کو ایک کبیرہ گناہ اور نہایت سنگین جسارت محسوس کرتا ہوں۔ کون واقعتا صاحبِ ایمان و اسلام ہے اور کون نہیں اور کون جنت کا مستحق ہے یا جہنم میں ڈالے جانے کا سزاوار، یہ فیصلے خدا کے کرنے کے ہیں۔ ہمیں انہیں اسی پر چھوڑ دینا چاہیے اور سب سے زیادہ فکر اس بات کی کرنی چاہیے کہ ہم اپنی زندگی اور اس کے تمام مظاہر و ابواب کو خدا و رسول کی تعلیمات اور صحابہ کرام کے نمونۂ حیات کے مطابق و موافق بنانے کی تگ و دو کریں نہ یہ کہ غلط طور پر کسی واحد اور اکلوتے نجات یافتہ فرقے کو تلاش کرنے اور اس کی رکنیت حاصل کرنے کو اپنی جستجوؤں اور کاوشوں کو محور بنانے کی حماقت کریں۔


آپ کی دوسری ای میل سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید آپ کو اپنے خیالات کی غلطی کا احساس ہوگیا ہے اور آپ اس بحث کو یہیں ختم کرنا چاہتے ہیں۔ میں بھی اس طرح کی ابحاث میں کچھ زیادہ دلچسپی نہیں رکھتا تاہم ان کے حوالے سے موجود پیچ در پیچ غلط فہمیاں اور مسلمانوں کے باہمی طور پر متشددانہ جذبات مجبور کرتے ہیں کہ ان کے حوالے سے کچھ نہ کچھ توضیح و تصحیح کی کوشش کی جائے۔ اسی لیے ان کے باب میں کچھ نہ کچھ عرض کرنا پڑجاتا ہے۔ میں بھی آپ سے اتفاق کرتے ہوئے آپ کے بعض سوالات کے جواب جو کہ میرے خیال سے ضروری تھے، عرض کرکے یہی چاہتا ہوں کہ اس بحث کو مزید طول نہ دیا جائے۔۔۔۔۔۔۔
isfi22

PAKISTAN
Posted - Monday, October 25, 2010  -  5:42 AM Reply with quote
۔۔۔۔۔۔ محترم بھائی عبد العزیز صاحب، آپ کو اور دوسرے تمام محترم ممبران کو سلام و آداب ۔ بعدہٗ گزارش ہے کہ محترم شفیع صاحب کی ای میل پر تبصرہ کرتے ہوئے آپ نے جو آیت ذکر کی ہے، جس میں قرآن کے تذکیر و نصیحت اور عبرت و موعظت کے لیے موزوں ترین اور سہل ترین ہونے کی بات پانچ مرتبہ دہرائی گئی ہے۔ اس کی بنیاد پر آپ نے اس توقع کا جو اظہار کیا ہے کہ اگر ہم سب اس آیت کی نصیحت کے موافق قرآن کو اپنے مطالعے اور نصیحت آموزی کی بنیاد بنائیں تو ان شاء اللہ ہمارے درمیان اختلافات باقی نہیں رہ جائیں گے۔ اس حوالے سے آپ کے جذبۂ صادقہ اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے حوالے سے آپ کی نیک خواہشات کا مکمل احترام ملحوظ رکھتے ہوئے بس اتنا عرض کرنا چاہوں گا کہ میرے بھائی یہ مطلوب ہی نہیں ہے اور بالکل خلافِ فطرت و تاریخ ہے کہ انسانوں کے درمیان اختلافات اور فروق پیدا نہ ہوں۔ آپ خواہ کتنے ہی مخلص، نیک نیت اور شریف النفس انسان ہوں، جب کسی مواد و تحریر یا تعلیم و ہدایت یا اصول و قانون کا مطالعہ کرنے جاتے ہیں تو خدا نے انسانوں کے درمیان فہم و ذہانت، ماحول و تجربات اور پس منظر و رجحان وغیرہ کے جو اختلافات و تنوعات رکھے ہیں، وہ لازماً اثر انداز و دخیل ہوکر آپ کے فہم و سمجھ اور حاصلِ مطالعہ کو دوسروں سے مختلف کردیتے ہیں۔ ائمہ اربعہ اور چار فقہی مسالک کے اختلافات ہی کو دیکھ لیجیے کہ کیسی کیسی اعلیٰ علم اور اونچے تقویٰ و تدین کی حامل شخصیات کی موجودگی کے باوجود سینکڑوں اور ہزاروں اختلافات بہرحال موجود ہیں۔ اور اوپر جائیے تو صحابہ کرام جیسی ناقابلِ اعتراض و ریب ہستیوں کے درمیان اختلافات کی موجودگی بھی آپ کو نظر آہی جاتی ہے۔ پھر اُن احادیث کو بھی ملاحظہ کیجیے جن میں خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو اختلافات کے پیدا ہوجانے اور پھیل جانے اور مسلمانوں میں تفرقے اور گروہ بندی جیسی وبا کے پھوٹ پڑنے کے زمانے میں اس صورتحال کے فتنے اور شر سے بچنے کے لیے ڈھیر ساری ہدایات دی ہیں۔ یہ سب حقائق اس بات کو برہنہ اور ناقابلِ رد حقیقت ثابت کرنے کے لیے بہت کافی ہیں کہ انسانوں کے درمیان اختلاف کا پیدا ہونا بہرحال ایک فطری و کائناتی حقیقت ہے۔ خدا نے دنیا اور انسانوں کو جس اسکیم و حکمت کے تحت تخلیق کیا ہے، اسی کا حصہ اور اقتضاء ہیں۔


لہٰذا ہمیں اصلاً جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ہم اس فطری حقیقت کو پوری طرح تسلیم کریں، اختلافات کو بغض و عناد اور باہمی فسادات کی بنیاد نہ بنائیں، اختلاف کرنے والوں کی نیت میں فتور تلاش کرنے، ان کے باطن میں پوشیدہ برے محرکات کی کھوج لگانے اور انہیں ہر حال و صورت میں بد نیت اورفتنہ پرور قرار دینے کے بجائے علمی و فکری اختلافات کے باب میں وسعت، عالی ظرفی اور دلائل و تجزیے کو رد و قبول کی بنیاد بنانے کی روش و عادت اپنائیں۔اختلافات ہر حال میں برے نہیں ہوتے بلکہ وہ اکثر اوقات علم و فکر کو مہمیز لگاتے، افکار و نظریات کی تصحیح کا باعث بنتے، سوچ و معلومات میں نئے مواد کا اضافہ کرتے اور انسانی علم و فن اور تہذیب و تاریخ کو ترقی اور عروج کے مزید زینے طے کرانے کا باعث و سبب بن جاتے ہیں۔ اختلاف سے پاک و ماوراء یا خدا کی ذات ہوسکتی ہے یا پھر جنہیں اس نے براہِ راست اپنی ہدایت اور اپنے کلام سے سرفراز فرمایا۔ باقی انسانوں کے معاملے میں خدا کی طرف سے ایسی کوئی گارنٹی اور ضمانت کہیں نہیں پائی جاتی۔ لہٰذا ہمیں بھی یہ کوشش نہیں کرنی چاہیے کہ سرے سے اختلافات پیدا ہی نہ ہوں یا جو ہوچکے ہیں وہ کسی طرح ختم اور دفن ہوجائیں۔ یہ فطرت، تاریخ اور خدا کی اسکیم سے جنگ لڑنا ہے جس میں ناکامی نوشتۂ دیوار ہے۔ جو کچھ ممکن ہے وہ یہ کہ اختلاف کے آداب کا پاس کیا جائے، دوسروں کے مؤقف اور رائے کا احترام کیا جائے اور اختلافات کے باب میں علمی سنجیدگی و شائستگی اور دلائل و استدلال کے تجزیے تک محدود رہنے جیسے اصولوں کی ہر حال میں رعایت و پاسداری کی جائے۔ اس کے بعد اختلافات تو بہر حال باقی رہیں گے لیکن مسلمانوں کے درمیان باہمی بغض و عناد، آپسی لڑائی جھگڑوں اور تشدد، قتل و خونریزی اور فسادات میں ان شاء اللہ ضرور کمی آئیگی۔۔۔۔۔۔۔
isfi22

PAKISTAN
Posted - Monday, October 25, 2010  -  5:43 AM Reply with quote
۔۔۔۔۔۔ محترم شفیع صاحب، میں عرض کرچکا ہوں کہ جنتی ہونے کے لیے شیعہ یا سنی ہونا کوئی معیار نہیں ہے اور نہ ہی مسلمانوں کے موجودہ فرقے اس کے لیے پیمانہ ہیں۔ میں جس بات کو درست سمجھتا ہوں وہ یہی ہے جسے آپ نے بھی میری طرف سے بیان کردیا ہے کہ ہدایت و نجات کی اصل بنیاد رسول و اصحابِ رسول کے طریقے اور نمونے سے موافقت ہے۔ اسی بنیاد و معیار پر کسی کے جنتی ہونے یا جہنمی ہونے کا فیصلہ سنایا جائے گا۔ آپ چاہیں تو اس سے اتفاق کرسکتے ہیں اور چاہیں تو کسی دوسری رائے کو فوقیت دیں، یہ آپ کا اپنا اختیار اور حق ہے جس کا میں مکمل احترام کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔
isfi22

PAKISTAN
Posted - Monday, October 25, 2010  -  5:51 AM Reply with quote
۔۔۔۔۔۔ ڈیئر ذیشان الحق بھائی صاحب، سلام و احترام و مزاجِ گرامی! بھائی اکثر اوقات مصروفیات گھیرے رکھیتں اور ہجوم کیے رہتی ہیں اسی لیے تاخیر ہوجاتی ہے۔ آج موقع نکال کر آپ کی ای میل پڑھی اور اب جواب میں یہ لائنز لکھ رہا ہوں۔ امید ہے کہ میرا عذر قبول فرمائیں گے اور برا نہیں مانیں گے۔


سب سے پہلے میں آپ کے اس عمدہ و قابلِ قدر رویے کی تعریف کرنا چاہتا ہوں کہ آپ شروع سے بڑے حوصلے اور شائستگی کے ساتھ مجھ سے بات کررہے اور میری گزارشات پڑھ رہے ہیں۔ آپ کو بے شک مجھ سے بہت سی جگہ اختلاف ہے لیکن آپ کی اعلیٰ ظرفی اور تہذیب و شرافت ہے کہ آپ پورے تحمل اور سنجیدگی اور باوقار انداز میں اس کا اظہار کرتے اور کہیں بھی زبان و قلم کو سنجیدگی و متانت کے دائرے سے باہر نہیں جانے دیتے۔ یہ وصف موجودہ مسلمانوں اور خصوصاً ان کے علما و زعما میں بالکل مفقود و عنقا ہے۔ لیکن تاریخ شاہد ہے کہ مسلمان اپنے مثالی ادوار میں ان اوصاف کے معاملے میں بھی بے نظیر و قابلِ تقلید نمونہ تھے اور ان کے سنہری ترین ادوار کے علما و محققین گرچہ بہت سارے معاملات و مسائل میں اختلاف کرتے اور اپنا اپنا مؤقف رکھتے تھے لیکن اس کے باوجود وہ اپنے سے مختلف راے کے حامل و قائل کے بارے میں بدزبانی و گستاخ نگاری کا سوچتے بھی نہیں تھے۔ وہ ہزار اختلاف کے باوجود باہم شیر و شکر رہتے اور ایک دوسرے کا ہر طرح اکرام و احترام کرتے تھے۔ آپ ماشاء اللہ اسلاف کی اس بہترین روایت و خوبی کے امین ہیں، اللہ آپ کو اس کی بہترین جزاے خیر عطار فرماے، آمین۔


آپ فرماتے ہیں کہ کسی کو بغیر دعوت دیے، اس کے غلط و گمراہ کن عقائد و تصورات کی بنیاد پر کافر قرار دینا آپ کے نزدیک بھی غلط ہے۔ پہلے دعوت دی جائے گی اور اگر اس کے بعد بھی کوئی قائل نہیں ہوتا تو پھر اس پر یہ حکم لگایا جائے گا۔ آپ مجھ سے سوال فرماتے ہیں کہ اگر میں اس مرحلے پر بھی کسی کو کافر و گمراہ قرار دینے کو غلط سمجھتا ہوں تو پھر میرے خیال میں اس موقع پر کیا کیا جانا چاہیے؟ میں عرض کروں گا کہ بھائی یہ بات تو آپ نے بالکل بجا فرمائی ہے کہ پہلے دعوت دی جاتی ہے، حق و سچائی کا پیغام بالکل واضح، دو ٹوک اور صاف و صریح انداز میں بار بار انسان کے سامنے رکھا جاتا ہے اور اسے یہ تلقین و نصیحت کی جاتی ہے کہ وہ سچائی اور ہدایت کو قبول کرلے اور حق کے آگے سرافگندگی اختیار کرے۔ اس کے بعد آپ کا جو فرمان ہے کہ بار بار سمجھانے اور نصیحت کرنے کے باوجود بھی اگر وہ نہ سمجھے اور مان کر نہ دے تو پھر اسے کافر ہی قرار دیا جائے گا، اس کے بارے میں میں عرض کروں گا کہ ذرا پیغمبرانِ گرامی قدر کی سرگزشتِ دعوت کی داستانوں اور تفصیلات کی طرف نظر فرمائیے اور دیکھیے کہ خدا کے پیغمبر اس معاملے میں کیا کرتے تھے اور کس بنیاد و اتھاڑتی پر کرتے تھے۔ وہ پاک و اعلیٰ نفوس بے شک سب سے پہلے انسانوں کو خدا کا پیغام پہنچاتے اور انہیں ہدایت کو قبول کرنے کی بار بار دعوت سے اپنے کام کا آغاز کرتے تھے لیکن ان کا معاملہ یہ تھا کہ خدا کی ہدایت اور وحی اور براہِ راست رہنمائی ہر قدم پر ان کے ساتھ ہوتی تھی۔ ہر موقع اور صورتحال میں ان کا اقدام و رویہ خدائی ہدایت و پیغام رسانی پر مبنی ہوتا تھا۔ وہ نہ دینی حوالے سے اپنی طرف سے کچھ کہتے تھے اور نہ ہی کوئی عمل کرتے تھے۔ دین کے تعلق سے ان کا ہر قول و فعل براہِ راست خدا کی وحی و پیغام پر استوار ہوتا تھا۔ وہ اپنی اپنی قوم و برادری کو مسلسل ہدایت کی طرف بلاتے اور خدا کے آگے جھک جانے اور اس کی بڑائی و کبریائی تسلیم کرلینے اور اس کے پسندیدہ و مقبول دین اسلام کو قبول کرلینے کی دعوت دیتے رہتے تھے۔ آپ کو معلوم ہی ہوگا کہ خدا کے جلیل القدر پیغمبروں نے لمبے اور طویل عرصوں تک اپنی زندگی میں یہ کارِ دعوت انجام دیا ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں تو قرآن میں یہ الفاظ موجود ہیں کہ انہوں نے ساڑھے نو سو برس تک یہ کام کیا۔ اتنے لمبے عرصے تک اپنی اقوام کو خدا کی طرف بلانے اور سچائی اور ہدایت کا پیغام پہنچانے کے بعد کہیں جاکر یہ مرحلہ آتا تھا کہ ان پر حجت تمام ہوتی اور ان کے حق میں یہ واضح ہوجاتا کہ یہ منکرین اب کسی عذر و غلط فہمی کی بنا پر نہیں بلکہ محض ہٹ دھرمی، کبرِ نفس، قومی پندار اور دنیوی اغراض و مفادات کی بنیاد پر سچائی کے اس پیغام کو جھٹلارہے اور پیغمبر کی تکذیب کررہے ہیں۔ یہ اطلاع بھی خدا ہی کی طرف سے اپنے ان نمائندوں کو دی جاتی اور پھر ہجرت کا فرمان جاری کردیا جاتا۔ اس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ اب اس قوم کو خدا نے اپنے فیصلے کے مطابق کافر اور مستحقِ عذاب ٹھہرادیا ہے، پیغمبر اور ان کے ساتھی اس سے براءت و بیزاری و لاتعلقی کا اعلان کرکے الگ ہوجاتے اور اس مقام سے ہجرت کرجاتے۔ اس کے بعد اس قوم پر خدا کا عذاب اور سزا نافذ ہوجاتی اور وہ قوم اپنے کالے کرتوتوں کی بنا پر صفحۂ ہستی سے مٹادی جاتی۔ اس سارے پس منظر کے مطابق بتائیے کہ اب اس زمانے میں ایسا کون سا داعی اور عالم یا حلقہ ہے جو خدا سے براہِ راست ہدایت و الہام پاتا ہے اور اسے خدا کی طرف سے اس اطلاع کی فراہمی کی توقع کی جاسکتی ہے کہ کون سا مدعو فرد یا گروہ ایسا ہے جس کے بارے میں دعوتی ذمہ داری اپنی تکمیل کو پہنچ چکی، اس پر حجت تمام ہوچکی اور اب اس کا انکار و اعراض صاف طور پر سرکشی اور ضد جیسی بنیادوں پر مبنی ہے۔ جب تک یہ اطلاع و کنفرمیشن کسی کو براہِ راست خدا کی طرف سے یا اور کسی پراسرار طریقے سے نہیں مل جاتی، اسے کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ کسی فرد یا جماعت یا گروپ کی تکفیر کرے اور انہیں کافر و خارج از اسلام قرار دے۔


خدا کے پیغمبر بھی خدا کے بتانے اور حکم دینے کے بعد ہی کسی قوم و گروہ کے کفر کا اعلان فرماتے اور اس سے اپنی براءت کرتے تھے۔ آج کون ہے جو خدا سے براہِ راست جان کر کسی کے کفر و گمراہی اور اس معاملے میں اس کے کسی غلط فہمی کے بجائے لازماً سرکشی و ڈھٹائی پر کھڑے ہونے کی یقینی شہادت دے سکے۔ اس بات کے تعین کا کسی عالم یا اکیڈمی کے پاس کیا جواز اور ذریعہ ہے کہ کسی فرد یا ٹولے کو سمجھانے اور راہِ راست پر لانے کے جو طریقے اور ذرائع ہوسکتے تھے وہ ان سب سے کام لے چکا اور پھر بھی اس کے بارے میں مایوس ہے۔ کسی فرقے کا ہر ہر فرد بار بار دعوت دیے جانے اور تفہیم کی کوششوں کے باوجود جانتے بوجھتے ناحق پر اصرار کررہا اور اس کے نزدیک کفر و شرک پر مبنی خیالات و معمولات کو اپنائے رکھنے کی ضد پر اڑا ہوا ہے۔ کوئی ہے جو ان باتوں میں سے کسی ایک بھی بات کا دعویٰ کرنے کی جرأت کرسکے۔ تو پھر ان باتوں کے ثابت ہونے سے پہلے کسی کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ لوگوں کو کافر و گمراہ قرار دیتا پھرے۔ دین کے بہت سے معاملات ایسے ہیں جن میں خدا و رسول کی نیابت امتِ مسلمہ یا مسلمان قوم کے نظمِ اجتماعی کو حاصل ہے۔ عام لوگ تو دور رہےکسی عالم و محقق تک کو اس معاملے میں کوئی دخل نہیں ہے۔ جیسے زکوٰۃ کی وصولی و تقسیم کا نظام اور جرائم کی پاداش و سزا دینا وغیرہ معاملات۔ کسی فرد یا گروپ کے غلط اور قابلِ اعتراض اعتقادات کو بنیاد بناکر اسے غیرمسلم اور اسلام سے خارج قرار دینے کا معاملہ بھی مسلمانوں کے نظم اجتماعی کے دائرے کا معاملہ ہے۔ جو عدالتی کاروائی کے ذریعے اور ٹھوس ثبوت اور شہادتیں فراہم کرنے کے بعد انجام پاتا ہے۔ گلی کوچے کے کسی فرد یا کسی علامہ و فہامہ کو اپنی ذاتی صوابدید پر اس طرح کے فیصلے کرنے کا کوئی حق شرعاً حاصل نہیں ہے۔


آپ اپنی یہ غلط فہمی دور کرلیجیے کہ کسی فرد یا گروپ کے عقائد اگر آپ کی نظر میں کفریہ و شرکیہ ہیں تو دینی حوالے سے یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ لازماً اسے گمراہ، کافر اور دین سے خارج سمجھیں اور قرار دیں۔ یہ ایک عام مسلمان کی حیثیت سے آپ سے متعلق معاملہ ہے ہی نہیں۔ پھر اگر آپ بحرین میں رہتے ہیں اور وہاں کی حکومت و انتظامیہ قادیانیوں وغیرہ سے نہ واقف ہے اور نہ انہیں باقاعدہ طور پر حکومت کی طرف سے کافر قرار دیا گیا ہے تو آپ کو کیوں اس بات کی بے چینی ہے کہ آپ لازماً انہیں ایسا ہی سمجھیں اور کہیں۔ کیا اس کے بغیر آپ کا ایمان و اسلام ناقص رہے گا؟ ہرگز نہیں۔ اگر آپ دین اسلام کے بنیادی اصولوں پر ایمان رکھتے اور ان کے مطابق زندگی گزارتے ہیں تو اطمینان رکھیے کہ آپ ایک کامل اور مکمل مسلمان ہیں۔پھر ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ آپ کا تعلق اگر کسی دوسرے مسلمان ملک سے ہے اور آپ بحرین میں کام و معاش کے سلسلے میں مقیم ہیں یا وہیں رہ بس گئے ہیں اور یہ بات آپ کے علم میں ہے کہ آپ کے ملک کی حکومت انہیں کافر قرار دے چکی ہے تو اگر آپ کو اپنی حکومت کی اس رائے سے اتفاق ہے تو آپ ان کے بارے میں یہ گمان رکھ سکتے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھیے کہ اس طرح کے معاملات میں آپ حکومتی اور عدالتی فیصلوں اور راے سے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اختلاف بھی کرسکتے ہیں۔ یہ کوئی وحی و الہام پر مبنی آسمانی فیصلے نہیں ہوتے جن سے کوئی اختلاف نہ کرسکتا ہو۔


شیعوں یا قادیانیوں کو غلطی پر سمجھتے ہوئے انہیں صحیح راستے پرلانے کے لیے جہاں تک دعوت و تبلیغ کا کام کرنے کی بات ہے تو اس سلسلے میں یہ پیشِ نظر رہے کہ ایک عام آدمی پر دین نے سب سے پہلے اپنی اور اپنے اہل و عیال کی اصلاح اور نجاتِ آخرت کی کوشش کی ذمہ داری عائد کی ہے۔ اس کے بعد دعوتی و تبلیغی حوالے سے عام آدمی کا دائرہ یہ ہے کہ وہ اپنے احباب اور متعلقین میں خیر و شر کے حوالے سے بیداری و آگہی پھیلانے والا بنے۔ ساری امتِ مسلمہ، ساری دنیا اور مسلمانوں کے تمام گمراہ و غلط فکر فرقوں کی فکر کرنا اور انہیں ہدایت و فلاح اور راستی و درست فکری کی طرف لانے کے لیے فکرمند و کوشاں ہونا ایک عام آدمی کے دینی فرائض نہیں ہیں۔ اور نہ ہی اس پر یہ لازم ہے کہ وہ دنیا جہاں میں بسنے والے مسلمانوں کے تمام گروپوں کے بارے میں مفصل معلومات حاصل کرے اور پھر ان کی بنیاد پر ان میں سے کسی کے صحیح و ہدایت یافتہ ہونے اور کسی کے گمراہ و بے دین یا کافر و مشرک ہونے کا فیصلہ کرے اور پھر ان چیزوں کی عمومی تشہیر کرے۔ کتنے مسلمان ہیں کہ انہیں اس طرح کے کسی فرقے اور ٹولے کے بارے میں کوئی معلومات اور ان کے غلط عقائد و خیالات کے بارے میں کسی طرح کی تفصیلات کا علم ہی نہیں ہوتا۔ اور پھر کتنے ایسے مسلمان ہیں جو انہی فرقوں اور جماعتوں میں پیدا ہوئے ہیں، بچپن ہی سے ان عقائد و تصورات کی تعلیم و تربیت پاتے آرہے اور انہیں ہی اصل اسلام و ایمان باور کرتے آرہے ہیں۔ ان کا کیا قصور ہے کہ انہیں سچائی کا پیغام پہنچائے اور راہِ راست کی طرف بلائے بغیر ان کے کسی ایسے گروپ و حلقے سے متعلق ہونے کی بنا پر انہیں کافر و مشرک اور بے دین و بد دین قرار دے دیا جائے۔ خدارا ان باتوں کی سنگینی پر غور و تدبر کیجیے، خدا خوفی سے کام لیجیے، آخرت کی پرسش کو پیشِ نظر رکھیے اور ضرور صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط فرمائیے لیکن لوگوں کے بارے میں انفرادی و اجتماعی فیصلے دینے اور اعلانات سنانے سے پرہیز کیجیے۔ یہ اپنے اوپر بہت ہی سنگین و بھاری ذمہ داری لینا ہے۔ کل قیامت کے روز کہیں یہ فیصلے اور دعوے اور اعلانات اگر ثابت کرنے پڑگئے تو نا معلوم ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جو بے جھجک اور بغیر سوچے سمجھے بے ڈھرک لوگوں کو گمراہ، بے دین، باغی اسلام، منکرِ دین، کافر اور مشرک قرار دے ڈالتے ہیں۔ خدا کی پناہ ان رویوں اور سنگین و خطرناک بولوں سے۔


ایک مسلمان کا معاملہ، ذہنیت اور اپروچ کیا ہوتی ہے۔ یہ کہ وہ سب سے پہلے اور سب سے زیادہ اپنے بارے میں، اپنے اہل و عیال کے بارے میں اور اپنے ملنے جلنے والوں کے بارے میں فکرمند و حساس ہوتا ہے۔ وہ اس دائرے میں خیر کے فروغ اور شر و معصیت کے استیصال کے لیے سرگرم ہوتا ہے۔ باقی لوگوں کے حوالے سے بھی اس کا معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ان کا ہمدرد و خیرخواہ ہوتا ہے۔ انہیں ہدایت کی طرف لاکر، خدا کے سامنے جھکا کر، اس کے دین کا متبع بناکر جنت میں لے جانا اور جہنم سے بچانا چاہتا ہے۔ اس کی روش یہ نہیں ہوتی کہ وہ لوگوں کی غلطیوں اور گمراہیوں کو بنیاد بناکر ان سے علیحدہ ہوجائے، قطع تعلق کرلے اور ان کے بارے میں گمراہی اور بربادی کے فتوے اور فیصلے دے۔ بلکہ وہ لوگوں کی فکر و عمل کی کوتاہیوں اور اخلاقی انحرافات کو دیکھ دیکھ کر کڑھتا اور ان کی اصلاح و رجوع کے لیے تن من دھن سے کوشش کرتا ہے۔ وہ برائیوں سے نفرت کرتا ہے نہ کہ برائی کرنے والوں سے۔ وہ غلطیوں اور نادرست اعتقادات و معمولات کی وجہ سے لوگوں سے نفرت کرنے اور دور بھاگنے کے بجائے انہیں اپنائیت و خیرخواہی کے ساتھ توجہ دلاتا اور ان کی اصلاح کی سعی کرتا ہے۔ خدا کے پیغمبروں کا معاملہ اس حوالے سے کیا ہوتا تھا ہمیں اس کے بارے میں مطالعہ کرنا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حال یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ تبصرہ فرمایا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس غم میں خود کو ہلاک کرڈالیں گے کہ یہ لوگ ہدایت قبول نہیں کرتے۔ ہمیں بھی اسی فکر و ذہینت اور رویہ و روش کے ساتھ جینے اور لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو اور ہمیں آخرت کی نجات و سرخروئی نصیب فرماے، آمین۔ دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔"۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


(اس کے علاوہ کفر کے فتاوی جات کے اجراء اور خود کش بمباری کے موضوع پر ڈیبیٹز جاری ہیں۔ وہ بھی اپنے اختتام کے بعد ان صفحات میں انشاء اللہ تعالیٰ پیش کردی جائیں گی۔)
saba2
Moderator

PAKISTAN
Posted - Tuesday, October 26, 2010  -  4:23 PM Reply with quote
Wasalam Isfi i will get back to you but right now I need to take time off .
saba2
Moderator

PAKISTAN
Posted - Friday, November 05, 2010  -  3:51 PM Reply with quote
Salam well written , I finally got down to reading your material, i agree with most of your views, all this we discuss argue about agree upon,...... all seems to belong to this virtual world I don't hear even in whispers any such discussion..... why is that? maybe we are afraid.

Reply to Topic    Printer Friendly
Jump To:

1 2
Next page >>
Page 1 of 2


Share |


Copyright Studying-Islam © 2003-7  | Privacy Policy  | Code of Conduct  | An Affiliate of Al-Mawrid Institute of Islamic Sciences ®
Top    





eXTReMe Tracker