Powered by UITechs
Get password? Username Password
 
 
<< Previous Page
1 2 3 4 5
Next page >>
Page 2 of 5

  Reply to Topic    Printer Friendly 

AuthorTopic
isfi22

PAKISTAN
Posted - Sunday, May 30, 2010  -  11:59 AM Reply with quote
In replying to your last line>>!!

Ok i will wait for your next post!!

what u said in present post and past postings as i understand is that you are only mixing Islamic History or in true words Muslims History with Islamic preachings and that is a biggest error and fault of people who object Islam, Muslims History or present muslims in different shades.

Please Note clearly this Fact that Muslims History and Islam is not same and alternatives, these are two different things and the real authority is Islam no History.

Your all negative remarks and understanding are based on the error of mixing islam with muslim history.


I will reply in detain after reading your next detailed post with proofs.
aslammir

PAKISTAN
Posted - Sunday, May 30, 2010  -  12:26 PM Reply with quote
To Safimera!
No I am not angry,not at all. Mine were general remarks but I should not have written the word" negative". sorry.
isfi22

PAKISTAN
Posted - Tuesday, June 01, 2010  -  1:20 PM Reply with quote
ڈیئر سیفے میرا!!!

یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ آپ مجھ سے اس خیال کے معاملے میں متفق و ہم آہنگ ہو کہ اسلام اور مسلم ہسٹری الگ الگ چیزیں ہیں اور مسلمانوں کی تاریخ اگر بالفرض آپ کے پورے زور و اصرارکے ساتھ کھینچے ہوئے نقشے کے مطابق پوری کی پوری بھی ابتدائی چند سالوں کو چھوڑ کر اندھیر نگری، چوپٹ راج اور سلطنت آرائی، جنگ کشائی، دولت پرستی، عیاشی پروری اور دیگر قابلِ مذمت شاہانہ قسم کی قبیح و مذموم صفات و خصوصیات ہی سے مرکب و معنون ہو، تو بھی اس سے اسلام کے نام و دامن پر کوئی حرف اور الزام نہیں آتا اور وہ مسلمان حکمرانوں کی شاہانہ چیرہ دستیوں اور بدکاریوں اور حکمران پرست علما کی خوشامدانہ مدح سرائیوں اور ناجائز توجیہات و تائیدات سے مکمل طور پر بَری اور پاک ہے ۔

یقینا آپ کا ان باتوں سے اتفاق میرے لیے خوش آئند و قابلِ ستائش امر ہے ۔ اگرچہ اسلامی یا واضح تر لفظوں میں مسلم تاریخ کے بارے میں آپ کے تاریک و مایوسانہ تصور سے پوری طرح اتفاق کرنا کسی طرح ممکن نہیں ہے ۔ تاہم میں اس سے کوئی زیادہ دلچسپی بھی نہیں رکھتا کہ کوئی اسلامی یعنی مسلم تاریخ کے بارے میں اپنے نہایت خلافِ حقیقت، معذرت خواہانہ، مایوسانہ اور احساس کمتری کے آئینہ دار سچائی و واقعیت گریزانہ مؤقف ہی پر اصرار کرتا رہے ۔ میرا کنسرن بس یہ ہے کہ اسلام اس سے بری اور اس کا دامن اس طرح کے تمام الزامات و اتہامات سے مکمل طور پر پاک ہے ۔ باقی رہی تاریخ اور مسلمانوں کے اس میدان میں رقم کیے ہوئے اچھے یا برے نقوش، تو یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر بحث میں میں فی الحال الجھنا نہیں چاہتا کیوں کہ یہ ایک انتہائی طویل و کشادہ میدانِ تحقیق ہے اور مجھے اتنی فرصت میسر نہیں کہ میں اس طرح کے کسی تفصیل و تطویل کے متقاضی موضوع پر بحث مباحثہ میں الجھوں ۔ اس پہلو سے میں صرف اس تاریخی اور مسلم و غیرمسلم کی سطح پر پورے اتفاق کے ساتھ مسلَّم حقیقت کا حوالہ دینے پر اکتفا کروں گا کہ موجودہ دور جسے انسانی تاریخ کا گولڈن ترین اور ترقی یافتہ ترین دور کرنا ہرگز کوئی مبالغہ نہیں ہے ، یہ جن علمی و فکری اساسات و انقلابات اور سائنس اور ٹکنالوجی کی بنیادوں پر پیدا ہوا اور اپنی ترقیات و سہولیات اور تیز رفتاری و پھیلاؤ کے باعث تاریخ انسانی کا عجوبۂ روزگار ترین دور قرار پا گیا ہے ، اس علمی و فکری انقلاب اور سائنس و ٹکنالوجی کے میدان میں ہونے والی جدید ترقیات کی اساسات سراسر اسلام کے لائے ہوئے انقلابی اثرات اور ان سے متأثر و مغلوب ہونے والے مسلمان اہل علم و فن ہی کی اعلیٰ تصنیفات و تحقیقات اور شاندار کارناموں کی رہین منت ہیں ۔ گو اسلامی حکمرانوں کا اس سلسلے میں بنیادی و اساسی رول نہیں ہے تاہم اس میں ان کے کردار ارو حصے کی بالکل نفی کر دینا بھی تاریخی حقائق سے کشتی لڑ نے کے مترادف ہے ۔ پھر اسلام کے علمی و فنی ذخیرے میں مسلمان اہل علم وتحقیق نے جو بیش بہا کارنامے انجام دیے اور بے مثل ذخیرہ پیدا کیا ہے وہ بھی اہل علم اور بہت سے حکمرانوں کے ان کی سرپرستی کرنے ہی کی دین ہے ۔ اس کے علاوہ بھی ہماری تاریخ اتنی بانجھ نہیں ہے جتنا کہ زور و شور سے دعویٰ کیا جا رہا ہے ۔ کتنے ہی اعلیٰ سیرت و کردار اور انصاف و خداخوفی کے ساتھ حکومت کرنے والے حکمرانوں کے نام گنوائے جا سکتے اور ان کی زندگی میں موجود ساری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ بننے کے لائق اخلاقی و انسانی نمونوں کو بطورِ ثبوت پیش کیا جا سکتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ مسلم تاریخ میں ہونے والی بدکرداریوں اور غلطیوں کے اعتراف کے باوجود مجھے مخاطب کے دعوے سے ایک فی صد بھی اتفاق نہیں ہے ۔

تاہم جیسا کہ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ اگر بطورِ مفروضہ یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ مسلمانوں کی بعد کی تاریخ میں کوئی اچھائی، خوبی اور روشنی نہیں ہے ۔ محض برائیاں ، تاریکیاں ، بدنمائیاں ، کالے کرتوت، خوفناک مظالم، وحشت و درندگی کے نمونے ، غیرمسلموں کی دولت لوٹنے اور اس کے بل پر عیاشی کی جنتیں آراستہ کرنے ہی کے کارنامے ہی ہیں تو بھی اس سے اسلام کے کردار پر کوئی داغ اور اس کی تعلیمات پر کوئی حرف نہیں آتا کیوں کہ اس میں اسلام کی کسی تعلیم و تلقین کا کوئی دخل نہیں رہا ہے بلکہ اسلام کی تعلیم و ہدایت کا معاملہ یہ ہے کہ شروعِ انسانیت سے یہ آفتاب سے زیادہ تابندہ اور ماہتاب سے زیادہ روشن و درخشاں رہی ہے ۔ اور جب کبھی انسانوں کے کسی معاشرے نے اس کی پابندی و پیروی کی ہے ، اعلیٰ انسانیت اور بلند اخلاقی ہی کے نقوش تاریخ کے صفحات کی زینت بنے ہیں اور زمین کے اس خطے پر جنتی زندگی ہی کے آثار و نشانات مرقوم ہوئے ہیں ۔

میرے لیے بس اتنا ہی کافی ہے ۔ کیوں کہ میں اسلام کا ماننے والا ہوں ۔ اسلامی تاریخ میرے ایمان کا کوئی جز نہیں ہے ۔ مسلم حکمرانوں کی زندگی کی تفصیلات اور ان کے کارنامے بھی کوئی ایسی حقیقتیں نہیں ہیں کہ ان کی اچھائی برائی سے میرے ایمان میں کوئی کمی بیشی واقع ہوتی ہو۔ اور بحیثیت مسلمان اس ڈسکشن میں میں کسی مسلم حکمران یا بحیثیتِ مجموعی تمام مسلم تاریخ کا کوئی دفاع کربھی نہیں رہا۔ میں تو بس اسی حقیقت کو واضح اور نمایاں کرنے کی کوشش کر رہا ہوں ’جسے میرے مخاطب نے بھی گو کہ تسلیم کرنے کا اقرار و اظہار فرمایا ہے ‘ کہ اسلام ہر طرح کے الزام سے بری اور مسلمانوں کی تاریخ کے تمام سیاہ ابواب و تفصیلات کی ذمہ داری سے پاک ہے ۔ لیکن ان کا مجموعی رجحان و بیان اپنے اندر بہت سے خلا اور شگاف رکھتا ہے ۔ جس کا کہ وہ شاید خود بھی شعور نہیں رکھتے اور ان خلاؤں اور شگافوں اور اپنے مؤقف کے اندرونی تضاد اور الجھنوں سے ناواقف و ناآگاہ ہیں ۔ بالخصوص ان کے یہ الفاظ کہ اسلام کا اپنے پیروکاروں کے اعتبار سے تاریخی رول کوئی بہت شاندار و پر معیار نہیں رہا، ان کے مؤقف کے بین السطور میں موجود کج فکری کی واضح مثال ہیں ۔ اس بیان میں گو کہ انہوں نے اصل بات یہ ارشاد فرمانا چاہی ہے کہ مسلمانوں کی تاریخ کوئی فرشتوں اور پاک انفاس و ارواح پر مشتمل معصوم اور ہر طرح کے برے اور شرپسندانہ میلانات سے خالی و بعید ہستیوں کی داستان نہیں ہے لیکن جس اسلوب میں یہ بات کہی گئی اور جس طرح اس میں اسلام کو بھی غیر ارادی طور پر اشتعال انگیزی کی حد تک اور نہایت زہریلے اور جسارت آمیز اندز میں مطعون و موردِ الزام ٹھہرادیا گیا ہے ، کہ اسلام کے مجموعی تاریخی رول کو ہم مکمل طور پر منصفانہ اور معیاری نہیں ٹھہرا سکتے ، یہی وہ غیر شعوری کج فکری اور خلا اور شگاف ہیں جو اس طولِ کلام و بحث کا باعث ہوئے ہیں ۔

سوال یہ ہے کہ جب آپ یہ مان رہے ہیں کہ مسلمانوں کی غلط اور قابلِ مذمت کاروائیوں سے اسلام بری ہے اور ان کی ذمہ دای اسلام پر نہیں بلکہ ان مسلمانوں پر ہی عائد ہوتی ہے جنہوں نے بالفرض ان کاروائیوں کا ارتکاب کیا ہے تو پھر مسلمانوں کے غیر معیاری اور قابلِ اعتراض رول کی بنیاد پر اسلام کے مجموعی تاریخی رول کو چاہے اس کے پیروکاروں ہی کے حوالے سے سہی ناقابل اعتبار، غیرمعیاری اور اغلاط و شرور سے ملوث و مطعون قرار دینے کے کیا معنیٰ ہیں ؟ کیا کسی شریف النفس، سلیم العقل اور معقول و صالح اخلاق و کردار کے حامل باپ کو اس کے بدکردار بیٹے کے کالے کرتوتوں اور سیاہ کاریوں کے لیے مطعون کیا جا سکتا ہے اور یہ بات یوں بیان کی جا سکتی ہے کہ یہ آدمی شریف و با کردار ہو گا لیکن اپنے بیٹے کے حوالے سے اس کا کردار شر و فساد کے حوالے سے خالی نہیں ہے ۔ اور کیا وہ انبیا جن کے بچے ، بیگمات اور دیگر اعزہ و احباب ایمان نہیں لائے ، ان کے حوالے سے اس تاریخی بات کو اس اسلوب میں بیان کیا جا سکتا ہے کہ اپنے ان متعلقین کے حوالے سے ان کا دامن کفر و شرک سے پاک نہیں تھا۔ یعنی وہ اس زاویے سے ان آلائشوں سے کسی حد تک لتھڑ ے ہوئے تھے ۔ میرے مخاطب کے اسلوبِ بیان سے بھی یہی بات مترشح و واضح ہوتی ہے کہ اسلام ہو گا اپنی جگہ آفتابِ ہدایت اور راہِ نجات کا مستند و محفوظ ترین بیان، لیکن اپنے پیروکاروں کی ان غلط کاروائیوں کی ذمہ داری سے اسے بری نہیں قرار دیا جا سکتا اور نہ ہی ان کے تاریخی رول و کردار کے زاویے سے اسے بری الذمہ اور اس کے دامن کو داغ دھبوں سے پاک قرار دیا جا سکتا ہے ۔

مجھے معلوم ہے کہ میرے مخاطب کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے اور نہ ہی وہ اپنے بیان کی اس حقیقی وضاحت سے اتفاق کریں گے ۔ اور یہی میرا کہنا ہے کہ وہ اسلام اور مسلم تاریخ کے فرق کو اپنے کلی معنوں میں ملحوظ نہیں رکھ پا رہے ۔ وہ اگرچہ علیحدہ سے یہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی غلطیاں اسلام کے سر نہیں منڈھی جا سکتی اور وہ ان کی بدکرداریوں کی ذمہ داری سے پاک و بری ہے لیکن دوسری طرف اپنے اس طرح کے لوز بیانات، بے شعورانہ دعو وں اور معذرت کے ساتھ جہالت و نادانی کے آئینہ دار ارشادات سے وہ اپنے مؤقف کا مسلم تاریخ کے بجائے اسلام کے حوالے سے یہی تأثر دیتے ہیں کہ اسلام کے مجموعی تاریخ رول کو اغلاط و نقائص سے بالکل پاک اور آخری درجے کا معیاری قرار دینا محض ایک خوش فہمی، ایک تاریخی بددیانتی اور حقائق سے منہ موڑ نا اور ان کا گلا گھونٹنا ہے ۔ یہی وہ نازک مقام ہے جہاں میرے خیال و احساس کے مطابق محترم مخاطب ٹھوکر کھا رہے اور نہایت فاش غلطی صادر کر رہے ہیں ۔ میں انہیں بار بار یہ توجہ دلا رہا ہوں کہ میں آپ کے کہنے کے مطابق بطورِ مفروضہ مانے لیتا ہوں کہ گنتی کے چند ادوار کو چھوڑ کر ساری اسلامی تاریخ تاریکی کا بھنڈار اور شر و فساد کے گرد و غبار کا انبار ہے ۔ لیکن اس سے اسلام کی اعلیٰ و روشن اور تابندہ و درخشاں اور برتر و سپر نظریاتی حیثیت پر کیا فرق آ گیا؟ کیا اسلام کا دامن آلودہ ہو گیا؟ کیا اس کی تعلیم کا کوئی حصہ گمشدہ یا محرف قرار پا گیا؟ کیا اس کی استنادی اور ہادیانہ حیثیت مشکوک ہوگئی؟ کیا وہ ناقابلِ اعتبار مقام پر آ گیا؟ اسلام کے مأخذ، اسلام کی تعلیمات اور اسلام کی مجموعی ہدایت پر اس سارے مفروضہ قضیے کو حقیقی تصویر اور سچا نقشہ تسلیم کر لینے کے بعد بھی شک کرنے ، اعتراض اٹھانے اور طعن و حرف گیری کی جسارت فرمانے کی آخر کیا گنجائش نکل آئی؟

اور پھر سب سے بڑ ھ کر یہ کہ مثال کے طور پر ایک عام مسلمان کی حیثیت سے اس ساری داستان آرائی اور افسانہ سرائی کے بعد مجھ سے اس کے سوا اور کیا تقاضا کیا جا سکتا ہے کہ بھائی مسلم تاریخ کو جو تم نے معصوم فرشتوں اور نورانی ہستیوں کے بے داغ تاریخی صحیفے کا مقام دے رکھا ہے ، ان حقائق کو دیکھو اور اسے اس مقام سے نیچے اتار کر اس بات کا اعتراف کرو کہ وہ لوگ بھی گو کہ مسلمان تھے لیکن انسان ہی تھے ، شر و فساد کے رجحان سے پاک فرشتے اور بدکرداری و ناپاک دامنی کے میلان سے خالی حوریں نہیں تھے ۔ اور ان سے بھی وہی ساری غلطیاں سرزد ہوئی ہیں جو دوسرے انسانوں سے مختلف ادوار و زمانوں میں سرزد ہوتی رہی ہیں ۔ بلکہ شاید مسلمانوں نے کمیت و کیفیت کے اعتبار سے دوسروں سے زیادہ ہی ان کا ارتکاب کیا ہے۔ لہٰذا اپنے جھوٹے فخر کے پندار سے باہر آؤ اور تاریخ کے دفتر میں مرقوم ان کی ان ان غلطیوں کا کھلے بندوں اقرار کرو!!!

بھئی کر لیا اقرار، اس کے بعد اور کیا کریں ؟ اسلام کے بارے میں شک میں مبتلا ہوجائیں ؟ اسلام کی تعلیمات و اثرات سے بدگمان ہوجائیں ؟ یقینا میں بدگمانی کروں گا اگر میں یہ کہوں کہ مخاطب ان سوالوں کا جواب ہاں میں رکھتے ہیں ۔ لہٰذا میں ایسا نہیں کہتا اور مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ مخاطب کے بیانات اس کے حق میں بالکل نہیں ہیں بلکہ وہ واضح طور پر اسلام کی برتری، محفوظیت اور شک و شبہ سے بالاتر مقام و حیثیت کے معترف ہیں ، لیکن میں یہ کہے بغیر بھی نہیں رہ سکتا کہ وہ اپنے بیانات میں غیر شعوری طور پر کچھ نہ کچھ ایسی باتیں ضرور شامل کرجاتے ہیں جن سے اسلام پر زد پڑ تی اور اس پر حرف آتا ہے !! جیسے کہ انہوں نے یہ فرمایا ہے کہ اپنے پیروکاروں کے زاویے سے اسلام کے تاریخی ریکارڈ کو دودھ کا دھلا، اجلا و شفاف اور اچھا و معیاری نہیں قرار دیا جا سکتا۔ ان کی یہی غلطی اور یہی وہ بات ہے جو وہ سمجھ کر نہیں دے رہے اور جس کا ادراک و احساس کرانے میں میں اب تک ناکام و نامراد رہا ہوں !!

میری ان سے ساری بحث اور یہ ساری طول بیانی ان کی اسی غیرشعورانہ لیکن نہایت گستاخانہ و سراسر جسارت آمیزانہ کوتاہی ہی پر مبنی ہے ۔ میں ان سے درخواست کروں گا کہ براہِ مہربانی اسی پہلو پر سب سے زیادہ غور فرمائیں اور نہایت معذرت کے ساتھ اپنی اس کج فہمی کا ادراک کریں کہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اسلام پر انگلی اٹھا رہے اور بلاجواز کیچر اچھال رہے ہیں !!!

باقی مسلم تاریخ کی اصل حقیقت کیا ہے اور مسلم حکمرانوں کی زندگی کی تفصیلات اور تاریخ کتنی شاندار یا بے شان و آن ہے ، یہ ایک دوسرا موضوع ہے اور نہایت کشادہ میدانِ تحقیق ہے ۔ اس حوالے سے وہ چاہیں تو اپنے اسی بے دلیل اور مایوسانہ مؤقف پر قائم رہیں ، لیکن اس کو بیان کرتے ہوئے اور مسلمانوں کو اس کے حوالے سے ان کے جھوٹے تصورات سے آگاہ و خبردار کرتے ہوئے کم از کم یہ اسلوب نہ اپنائیں کہ میرے جیسے کم فہم کو یہ محسوس ہو کہ ایک شخص مسلمان ہوتے ہوئے نہایت خلافِ واقعہ طور پر اسلام کے اجلے دامن پر داغ لگانے کی شعوری یا غیر شعوری جسارت کر رہا ہے !!

آخر میں ایک بات یہ نوٹ کرانا چاہتا ہوں کہ اسلامی تاریخ اور مسلمانوں کی تاریخ کے الفاظ گو مترادفات کے طور پر استعمال ہوتے ہیں ۔ لیکن جب بات رول و کردار اور تاریخی تنقید کی آتی ہے تو یہ دونوں الفاظ مترادف نہیں رہتے بلکہ جدا جدا مفہوم کے حامل ہوجاتے ہیں ۔ اسلامی تاریخ کا مطلب اسلام کی تعلیمات اور مختلف معاشروں میں ان کے رواج و نفوذ کے اشکال و اثرات کے ہوجاتے ہیں اور مسلم تاریخ کا مطلب مختلف زمانوں میں اسلام کے نام لیواؤں اور پیروکاروں کے تاریخی اور حکومتی کردار وغیرہ کے ہوجاتے ہیں۔ جس طرح اسلام کا مطلب کوئی مسلمان یا مسلمانوں کا کوئی مجموعہ نہیں ہے بلکہ اسلام قرآن و سنت و احادیث کا نام ہے اسی طرح اسلامی تاریخ کا مطلب مسلمانوں کا تاریخی کردار نہیں ہوتا بلکہ اسلام کی تعلیمات کی مختلف زمانوں اور معاشروں میں اشاعت و مقبولیت اور اس کے لائے ہوئے تغیرات و اثرات ہوتے ہیں ۔ مسلم تاریخ کا مطلب اسلام کے نام لیواؤں کے دور بہ دور احوال و معاملات ہیں ۔ جن کے آخری درجہ معیاری ہونے یا نہ ہونے ، دونوں طرح کے امکانات پائے جاتے ہیں اور اس کا سبب اسلام کی تعلیمات کی کمی بیشی یا خامی و کوتاہی نہیں ہوتی بلکہ مسلمانوں کی اسلام سے وفاداری کا معیاری یا غیر معیاری یا آسان لفظوں میں مکمل یا نامکمل ہونا ہوتا ہے ۔ اسلام ابتداے انسانیت سے زندہ و تابندہ اور مستند و مرجعِ تام کی حیثیت کا حامل رہا ہے اور بے شک قیامت تک رہے گا۔ ساری انسانیت اور زمانوں کے لیے یہی واحد راہِ ہدایت اور نسخۂ نجات ہے ۔ اس کی بالاتری، استناد اور کاملیت و آفاقیت پر نہ وقت کے دریا کی طغیانی اثر انداز ہو سکتی ہے ۔ اور نہ ہی مختلف مقامات و خطہ جات کے احوال و ظروف کا اختلاف اس میں رد و بدل لا سکتا ہے اور نہ ہی اس کی پیروی کا دعویٰ کرنے والوں کی ادھوری وفاداریاں اور غیر معیاری تابعداریاں اسے ملزم و مأخوذ کے کٹہرے میں لاکھڑ ا کرسکتی ہیں ۔ لہٰذا اس فرق کو اچھی طرح ذہن نشین کرنا اور اسلامی یا صحیح اور ہر طرح کے کنفیوژن کو ختم کرنے والے درست الفاظ میں مسلمانوں کی تاریخ کے حوالے سے کوئی مؤقف اپناتے ، راے بناتے یا فیصلہ و دعویٰ ارشاد فرماتے ہوئے اس فرق کو پوری طرح ملحوظ رکھنا اس طرح کی فہم کی کوتاہیوں اور کج فکریوں سے محفوظ رہنے کے لیے بے حد ضروری ہے ۔

مخاطب کے چند بیانات پر تبصرہ:
۱)جب ہم اسلام کی سچی تصویر دنیا کے روبرو پیش کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں مسلم تاریخ کی بھی حقیقی و واقعی تصویر ہی کی دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہیے ۔

مخاطب کی یہ بات بالکل صحیح اور ان کا یہ مطالبہ نہایت معقول مطالبہ ہے لیکن یہ واضح رہے کہ مسلمانوں کے تاریخ کردار کے کج اور مسخ ہونے کا نتیجہ کسی بھی درجے میں یہ نہیں ہوا کہ اسلام کے متن و نصاب میں کوئی غیر اسلامی یا تاریخی چیز بحیثیتِ جز شامل ہوگئی ہو۔ یہی مخاطب کی غلطی ہے کہ وہ یہ تأثر دیتے ہیں کہ اس راستے سے اسلام ہی کی تصویر مسخ ہوگئی ہے لیکن حیرت انگیز طور پر وہی اب اسلام کی مقبول و پسندیدہ تصویر بن گئی ہے ۔ تبھی وہ مسلمانوں پر اس بات کے لیے زور دے رہے ہیں کہ وہ اسلام کی حقیقی تصویرکو جانیں ، اس کا سامنا کریں اور اسی کی نمائندگی کریں ۔ جبکہ اسلام قرآن و سنت کے جس متن کا نام ہے اس میں یہ ثابت کر دکھانا کہ کوئی کمی بیشی یا اضافہ یا تبدلی واقع ہوگئی ہے ، مخاطب تو کیا، کیوں کہ وہ تو بہرحال مسلم ہی ہیں ، سارے معاندین و معترضینِ اسلام کے لیے بھی آج تک ممکن نہ ہو سکا۔ مخاطب غیر شعوری طور پر یہی بات کہہ جاتے ہیں لیکن انہیں اس کا ادراک نہیں ہوتا اور بعد میں پھر وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ اسلام محفوظ ہے اس کی شان و آن ہر زمانے میں برقرار رہی ہے اور اس پر کوئی اتہام و الزام لگانا ایک نہایت پست اخلاقی کام ہے ۔

مخاطب کی یہ بات ان معنوں میں ضرور صحیح ہے کہ مسلمانوں کی پریکٹس میں جو اسلام یا اسلامی تعلیمات ان کے دعوے کے مطابق روبعمل ہیں وہ یقینا مسخ شدہ ہیں اور مسلمانوں کے بہت سے خیالات و اقدامات کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں قابل قبول قرار دینا بلاشبہ مشکل ہے ۔ لیکن اسلام مسلمانوں کے خیالات و اقدامات کا نام نہیں ہے بلکہ قرآن و سنت کا نام ہے ۔ اسی کسوٹی پر مسلمانوں کے تمام فکر و عمل کو تولا اور پرکھا جائے گا اور اس کی غلطی و درستی کا تناسب بیان کیا جائے گا۔ لیکن اس سے اسلام کی خالصیت و برتری پر حرف رکھنا ہرگز کوئی معقول و منصفانہ طریقہ نہیں ہے ۔

۲)۹۹ فیصد مسلم ا سکالرز، علما اور نمائندے مسلم تاریخ کے حوالے سے توجیہہ پسندی کا طریقہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور وہ مسلم تاریخ کی غلطیوں کا جواز پیش کرنے کی دفاعی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں ۔

اگر واقعی ایسا ہے بھی تو آپ نہ کریں ۔ کس نے آپ کو مجبور کیا ہے ۔ لیکن اس بات کو آڑ بنا کر اسلام پر حرف رکھنا، اس کے مسخ و تبدیل شدہ ہونے کا دعویٰ کرنا اور مسلمانوں کو اس کی تصویر درست کرنے کا مشورہ و حکم دینا کہاں کی معقولیت، علمیت اور مجتہدانہ پیش رفت ہے ؟ آپ جو مطالبہ کرسکتے ہیں وہ بس یہی ہے کہ مسلمانوں اپنی تاریخ کے حوالے سے اپنے جھوٹے بھرم سے باہر نکلو اور مسلمانوں کی تاریخی غلطیوں اور بدکرداریوں کے حوالے سے ثابت شدہ تاریخی حقیقتوں کا اقرار و اعتراف کرو۔ نہ یہ کہ آپ اس کا الزام اسلام کو دیں اور یہ ارشاد فرمائیں کہ اسلام کا اپنے ماننے والوں اور پیروکاروں کے حوالے سے بالکل بھی شفاف اور اچھا کردار نہیں رہا ہے ۔ یہی آپ کی غلطی ہے کہ آپ پیروکاروں کو خطاوار قرار دینے کے بجائے اور انہیں اس بات کی تنبیہ کرنے کے بجائے کہ اسلام کی مکمل وفاداری کرو نہ یہ کہ اس کی بعض تعلیمات کو اپناؤ اور بعض کو ٹھکراؤ، اسلام کو خطاوار و مجرم گردان رہے ہیں ۔ آپ اس بات کو مانیں یا نہ مانیں ، آپ کے یہ الفاظ یہی مفہوم ادا کر رہے ہیں ۔ اور اسی لیے میں بار بار کہہ رہا ہوں کہ آپ غیر شعوری طور پر اسلام کو موردِ الزام ٹھہرانے کی فاش و بھیانک غلطی کر رہے ہو!!!

بیچ بیچ کی تلخ کلامی کے لیے معذرت خواہ ہوں ، لیکن اس کا باعث محض یہ احساس بنا ہے کہ مخاطب کی تحریر نہ چاہتے ہوئے اور غیر ارادی طور پر ہی سہی لیکن کر اسلام پر حملہ ہی رہی ہے ۔ اور وہ بھی سراسر افسانوی و تخیلاتی بے مہاری و بے لگامی کے گھوڑ ے پر سوار ہوکر۔ اور ایسے کسی وقت میں لائٹ موڈ کے مظاہرے کی توقع کرنا، کم از کم میرے جیسے مزاج کے مسلمان سے نری خام خیالی ہے !!!
aboosait

INDIA
Posted - Wednesday, June 02, 2010  -  1:41 PM Reply with quote
Mods! I am out of this forum until you segragate language forums.

Edited by: aboosait on Wednesday, June 02, 2010 1:42 PM
isfi22

PAKISTAN
Posted - Wednesday, June 02, 2010  -  7:27 PM Reply with quote
Sorry Mr. Aboosait. I also strongly feel

that you should be out of this Forum

untill u change your attitude and

behaviour and try to understand and

practice wisdom and reasonable arguments.

I m tired trying to let u understand the

valid problems and reasons of this simple

phenomenon, which u are taking so

seriously and critically with out any

understandable reason and strong

argument.

U r not getting and understanding that

how badly and unjustly, unmannerly and so

much disgently u r behaving in the matter

of multi language debates.

Dear plz calm down. Behave nicely and try

to understand and compromise acceptable

things.

And finally this topic was initiated by

me and other participants are agree with

my urdu posts and they are already

discussing with me, then what right u

have to come inside and object and

complaint>>>!!!

can u explain and justify this

attitude>>>!!!

This is really too much>>!!

No one can understand and justify your

objections and complaints and your

demands>>!!

I m so sorry if i hearted u in any shape,

but really i m not understanding that

what is your problem and difficulty>>!!!
aslammir

PAKISTAN
Posted - Thursday, June 03, 2010  -  2:50 AM Reply with quote
Dear Aboosait!
I didn,t expect such remarks from you! It is simple that if don,t want to participate in a discussion,you have the option not to join.Language should not be a barrier to our discussions.Your behaviour is simply irrational which I don,t expect from a person like you. You are a valued and esteemed participant of the forum. Plz continue.We can,t afford losing you.
isfi22

PAKISTAN
Posted - Thursday, June 03, 2010  -  5:52 AM Reply with quote
Salam and Thanks so much Dear Aslammir in helping Aboosait understand how unexpectedly he is behaving and without any solid reason he is complaining. I hope this will help Aboosait calm down and behave nicely and gently.

Dear Aslammir>>!! I am preparing my detailed writing for the topic Establishment of Khilafat. I will soon post this matter there>>!!
isfi22

PAKISTAN
Posted - Thursday, June 03, 2010  -  8:22 AM Reply with quote
Welcome Respected Brother Safimera again>>>!!!

I have read all the words you wrote in your Last post. I will Insha Allah soon comment on it and present my reply. By the way i m so glad and happy after reading your last post. I will explain the reason of this Later.

In last this time i strongly feel that you are also very respectable Muslim and True Seeker of truth and Guidance and Success in Aakhirat.

God bless us all and all Muslims and all Mankind.
isfi22

PAKISTAN
Posted - Thursday, June 03, 2010  -  8:27 AM Reply with quote
One more thing i want to add now that if i shortened my objection against you then i can say that your points are mostly right but your presentation deeply and strongly needs some reformation and change. Some of your words and statements are acceptable but in which form and style and in loose statements you put them, they stood reject able and strongly object able>>>!!!
isfi22

PAKISTAN
Posted - Thursday, June 03, 2010  -  10:51 AM Reply with quote
نہایت قابل احترام بھائی سیفے میرا!!

آپ کی آخری تحریر واقعی لاجواب تھی اور اب میرے خیال سے بحث کو مزید طول دینے کی نہ تو گنجائش ہے اور نہ ہی ضرورت۔ تاہم اس آخری تحریر کے حوالے سے چند گزارشات پیش کرنا ضروری خیال کرتا ہوں :

آپ نے فرمایا ہے کہ میں نے اپنی تحریر میں بہت سے نکات کو بار بار بیان کیا ہے ۔ مجھے آپ کی اس بات سے اتفاق ہے ۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب انسان کسی معاملے میں شدتِ اظہار سے کام لینا چاہتا ہے تو وہاں تکرار کا درآنا بالکل فطری اور متوقع بات ہے ۔ آپ کے خیالات سے اتفاق اختلاف سے قطع نظر آپ کے انداز بیان کے بعض پہلو اور آپ کے لکھے ہوئے بعض جملے مجھے بے حد کَھلے ، کیوں کہ ان کے حوالے سے میرا احساس یہ تھا کہ ان میں خواہی نہ خواہی اسلام پر حرف رکھا گیا اور ناروا تنقید و تعریض کی گئی ہے ۔ جیسے آپ نے بڑ ے آرام سے یہ فرمادیا کہ اسلام کے تاریخی رول کو اس کے پیروکاروں کے اعتبار سے آخری درجہ شاندار و پر معیار قرار دینا ممکن نہیں ہے ۔ اگر آپ مسلم تاریخ یا مسلمانوں کے تاریخی کردار کے بارے میں یہی الفاظ اس سے بھی زیادہ سخت و شدید انداز میں لکھتے تو شاید مجھ پر بالکل بھی گراں نہ گزرتا لیکن اس موجودہ ہیئت میں میرے نزدیک اس کے واضح معنی اسلام کو الزام دینے اور مسلمانوں یا مسلم حکمرانوں کی بدکرداریوں کی ذمہ داری میں شریک قرار دینے ہی کے بنتے ہیں ۔ اپنی اسی برہمی و بے چینی کا اظہار میں نے اپنی تحریر میں کیا ہے جس میں شدتِ اظہار کے باعث بہت سے نکات کی تکرار بھی ہوگئی ہے ۔

میں بھی یہی سمجھتا اور محسوس کرتا ہوں کہ زیرِ بحث امور میں سے اکثر کے معاملے میں آپ اور میں ہم خیال و ہم فکر ہیں ۔ میرے اور آپ کے بیانات و اعتقادات اس طرح کے امور میں مشترک نظریات و احساسات کا درجہ رکھتے ہیں ، تاہم ان کے اظہار و پریزینٹیشن کے اسلوب و انداز کے معاملے میں مجھے آپ سے بہت گہرا اختلاف ہے ۔ کیوں کہ میرا احساس ہے کہ آپ نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے مؤقف و آرا کو اس طرح بیان کرتے ہو کہ مجھے اسلام پر زد پڑ تی ہوئی محسوس ہوتی ہے گو آپ اسے اظہارِ بیان کا ایک سادہ ہ بے ضر ر طریقہ گمان کرتے رہو۔ میں بار بار کہہ اور لکھ چکا ہوں کہ مسلمانوں کی ساری کی ساری تاریخ کو سیاہ داستان اور بدی و بدکرداری کا ہفت خواں قرار دے لو، مجھے کوئی غم نہیں اگر چہ میں اس سے اتفاق بھی نہیں کرتا۔ تاہم اس مدعا کے اظہار کے لیے یہ انداز مت اختیار کرو کہ اسلام کو مسلمانوں کی ان ان تاریخی ستم رانیوں اور عیاشی پرستیوں کی وجہ سے سے شرمندہ و مأخوذ ٹھہرنا چاہیے ۔ ہرگز نہیں ، اسلام مسلمانوں کے عام افراد اور ان کے حکمرانوں اور ان کے مجموعی وجود کے ہر طرح کے شر و فساد اور بگاڑ و خرابی اور شقاوت و ضلالت سے پاک و بری الذمہ ہے ۔ یہ بات آپ بھی تسلیم کرتے اور بڑ ے اچھے اور واضح الفاظ میں اس کا اعتراف و اقرار بھی کرتے ہو، لیکن اپنے طرزِ بیان کے مذکورہ قابل اعتراض انداز و اسالیب کو چھوڑ نے یا تبدیل کرنے کے لیے تیار نہیں ہو۔

میں واقعتا کسی تاریخی بحث میں الجھنا نہیں چاہتا، نہ مجھے اس طرح کے کسی موضوع سے کوئی خاص دلچسپی ہے ۔ میں نہیں سمجھتا کہ اس طرح کی کسی بحث میں کسی چیز کے ثابت یا رد ہونے یا کسی پچھلوں سے چلے آتے مؤقف کی غلطی کے نمایاں ہونے وغیرہ کسی بھی چیز سے میرے ایمان، اخلاق، کردار اور عمل پر کوئی دور رس اثر پڑ ے گا یا اسلام کی مسلّم حیثیت میں کسی لحاظ سے کوئی فرق واقع ہوجائے گا۔ جہاں تک اس تلقین کا معاملہ ہے کہ مسلمانوں کی تاریخ ابتدائی تیس، پینتیس یا چالیس سالوں کے بعد اپنی اصل معیاری حیثیت کھو بیٹھی اور مسلم سلطنتیں اور بادشاہتیں بھی اسی سطح پر اتر آئیں جس پر دنیا کی باقی اقوام موجود تھیں لہٰذا مسلمانوں کو اپنی تاریخ کے بارے میں جھوٹے بھرم و فخر میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے بلکہ تاریخ کے تمام حقیقی رُخوں کو نگا ہوں کے سامنے رکھتے ہوئے معتدل ومتوازن نقطۂ نظر اور طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے ۔ تو یہ اپنی جگہ ٹھیک بات ہے ، گواس تلقین کے لیے مسلم تاریخ کی تفصیل اور اس کے اصلی خد و خال کی حقیقی تصویر کو بیان و نمایاں کرنے کی بھی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے ۔ مسلمانوں کو ویسے ہی خدا کی ہدایت ہے کہ وہ فخر و مباہات سے پرہیز کریں ۔ انہیں عجز و انکساری ہی زیب دیتی ہے ۔ ان کے شایانِ شان خضوع و تذلل اور خشوع و خشیت ہی ہے نہ کہ فخر و تعلّی اور غرور و ناز کی ادائیں اور سرمستیاں ۔

میرا احساس یہ ہے کہ اس طرح کی بحثوں اور موضوعات میں الجھ کر انسان حاصل تو کچھ نہیں کرپاتا، البتہ اس کے اندر روحانیت، سنجیدگی اور دینی گداز میں ضرور کمی واقع ہوجاتی ہے اور جو لوگ ان چیزوں کی اہمیت کو جانتے ہیں وہ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ کتنا بڑ ا نقصان و سانحہ ہے ۔ لہٰذا انسان کو اصلاً اسلام کی خالص و واضح تعلیمات ہی کو اپنی توجہ اور دھیان کا موضوع بنانا چاہیے اور بس یہی کوشش کرنی چاہیے کہ اس کی زندگی اسلام اور خدا کے رنگ میں پوری طرح رنگ کراور اعلیٰ ایمانی کیفیات سے سرشاری کے عالم میں گذرے ۔ نہ کہ ان بحثوں میں الجھ کر وہ اپنے اندر قساوت و بے دردی اور دینی بے حسی کو راہ دینے کی نادانی کرے ۔

اس بحث میں الجھنے سے انکار کے رجحان کو واضح طور پر بیان کرنے کے باوجود جو میں نے آپ کے مؤقف کو مبالغے اور تنگ نظری پر مبنی قرار دیا ہے وہ محض اپنے حاصل مطالعہ کا ایک تأثراتی بیان ہے ۔ جس طرح مجھے حق ہے کہ میں مسلم تاریخ کے حوالے سے کوئی مجموعی تأثر و مؤقف رکھوں ، اسی طرح یہ حق آپ بھی رکھتے ہیں اور جس طرح آپ کو حق ہے کہ آپ مسلم تاریخ کو اپنے زاویے سے دیکھیں اور دوسروں کو دکھائیں ، ایسے ہی میں بھی تو یہ حق رکھتا ہوں کہ اس حوالے سے آپ کے مؤقف پر کوئی مجموعی تبصرہ یا کمنٹ کروں ۔ مجھے معلوم ہے کہ اس طرح آپ کا نقطۂ نظر علمی و استدلالی طور پر رد نہیں ہوجاتا۔ لیکن میں یہ کر کے دکھانا بھی نہیں چاہتا اور نہ اس میں کوئی دلچسپی رکھتا ہوں بلکہ میرا کنسرن محض یہ ہے کہ اسلام آج بھی زندہ و پائندہ اور پوری آب و تاب سے جلوہ گر و روشن ہے ۔ اس کی تعلیمات اور اس کے ریسورسز بھی پوری طرح موجود و محفوظ ہیں ۔ دنیا میں انسانوں کی ہدایت اور آخرت میں ان کی نجات و خلاصی اسی سے وابستہ ہے ۔ لہٰذا انہیں اس بحث سے احتراز کرتے ہوئے اسلامی تعلیمات کو جاننے اور ان پر عمل پیرا ہونے اور اپنی زندگی کو ان کے مطابق بنانے کی کوشش و جستجو کرنی چاہیے ۔ تاریخ کے مختلف ادوار اور وقت کے بہتے دریا کی روانی میں مسلمان کیا کیا گل کھلاتے اور تماشے لگاتے رہے ہیں اس کا حساب ان کا پرودگار اُن سے بروزِ قیامت خود لے لے گا۔ ہمیں دنیا میں ان کا محتسب بننے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے ۔ یہ تاریخی مباحث نہ آج تک فیصل ہوئے ہیں اور نہ آئندہ ان کے صاف ہونے اور سلجھنے کی کوئی ادنیٰ توقع کی جا سکتی ہے ۔ ہمیں یہ تو حق ہے کہ تاریخ کے مطالعے کے بعد اپنے طور پر اس کے بارے میں کوئی مؤقف و راے رکھیں اور اس کی علمی انداز میں تائید و تردید و تنقیح کے لیے بھی مذا کرہ و تبادلۂ خیال کریں ، لیکن ہمیں یہ حق ہرگز نہیں ہے کہ ہم تاریخ کے کسی بھی مسلمان معاشرے یا مسلم حکمرانوں کی چین کی چین کی غلط و ناروا کاروائیوں کا الزام اسلام کو دیں ۔

کسی شخص کو بے شعور، نادان اور جاہل قرار دینے اور اس کے کسی بیان یا حرکت کو بے شعورانہ، جاہلانہ اور نادانہ قرار دینے میں اتنا ہی فرق ہے جتنا مرد و عورت میں ہوتا ہے ۔ براہِ مہربانی اسے ملحوظ رکھیں ۔

مجھے اپنے جذباتی ہونے کا اقرار ہے ۔ کیوں کہ میں جذبات و احساسات رکھنے والا ایک انسان ہی ہوں ، کوئی مٹی کا بنا بے حس و جذبہ پتلا یا پتھر کی بے جان و شعور مورت نہیں ۔ مسلمان قوم یا مسلم ہسٹری میں جو غلطیاں موجود ہیں اور انہیں دبا کر مسلم تاریخ کا جو غیر واقعی جلوہ و نقشہ دکھایا اور پڑ ھایا جاتا ہے ، ان غلطیوں اور تحریفات اور ناجائز توجیہات وغیرہ کو تسلیم کرنے میں مجھے کوئی باک نہیں ہے ، اگر ان کا ثبوت فراہم کیا جا سکے ۔ میں تو اس بات کا واضح طور پر معترف ہوں کہ مسلم تاریخ میں اور مسلمان حکمرانوں کے ہاں بے شمار غلطیاں ، بدکرداریاں ، عیاشیاں اور قابل اعتراض امور و معاملات رہے ہیں ۔اگرچہ ساری مسلم تاریخ کو سیاہ ابواب و صفحات کا پلندہ قرار دینے پر مجھے سخت اشکال و اعتراض ہے ۔ لہٰذا میرے حوالے سے محترم سیفے میرا کا یہ احساس سراسر غلط فہمی پر مبنی ہے کہ میں مسلم تاریخ یا مسلمان امہ وغیرہ کے کردار و معاملات کی غلطیوں کے حوالے سے کوئی بات سننے اور ماننے کا روادار نہیں ہوں ۔ میں ہوں ، بالکل ہوں ، آخری درجے میں ہوں ۔

مجھے سیفے میرا کی اس بات سے بھی اتفاق ہے کہ اسلام ماضی میں اور موجودہ مسلمانوں کی زندگیوں میں پریکٹس کی سطح پر کہیں بالکل معدوم ہے ، کہیں اس کا کوئی خودساختہ ایڈیشن رائج ہے ، کہیں قطع و برید کے ساتھ نافذ ہے ، کہیں بدعات و فرقہ بازیوں کے ہجوم و ڈھیر میں پڑ ا ہے ، کہیں تعصبات و اکابر پرستی کے بہاؤ میں بہہ رہا اور کہیں مسلمانوں کی مختلف ٹولیوں ، تحریکوں اور فرقوں کے اپنے اپنے باہمی طور پر نہایت متضاد و مختلف تعبیری و تشریحی اسلام کی شکل میں ان کے درمیان رائج و موجود ہے وغیرہ۔ لیکن اس سب کے باوجود انہیں بھی یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ اسلام اپنی اصل حیثیت میں یعنی قرآن و سنت کی شکل میں پوری طرح خالص و بے آمیز انداز میں موجود و محفوظ ہے ۔ اسے جو بھی پانا چاہے ان مصادر میں پا سکتا اور جان سکتا ہے ۔ اور ایسا بھی نہیں ہے کہ کوئی ایک بھی مسلمان یا مسلم حلقہ یا متفرق طور پر مسلم حلقوں کے بہت سے مسلمان اصل اسلام پر قائم نہ ہوں اور مسلمان بحیثیت مجموعی اصل اسلام کو ترک کیے ہوئے ہوں اور کہیں بھی اصل اسلام پریکٹس نہ ہورہا ہو۔

اصل زیرِ بحث باتوں پر بہت حد تک اتفاق کے ساتھ میں سمجھتا ہوں کہ اب ہمیں اس بحث کو ختم کر دینا چاہیے ۔ باقی مسلم تاریخ کی داستان و واقعات اور اس کے اصل و حقیقی خد و خال اور تفصیلات کی بحث میں الجھنے میں ، میں نہ کوئی دلچسپی رکھتا ہوں اور نہ ہی اس کے لیے فرصت اور تحقیقی و تفصیلی مطالعے کا موقع، اس لیے اس میں پڑ نے سے تو معذور و مفرور ہوں ۔ تاہم اس وقت میں اپنے دل میں سیفے میرا کے لیے بڑ ی محبت و احترام محسوس کر رہا ہوں اور ان سے بصد عاجزی التجا گزار ہوں کہ دورانِ بحث کی کسی تیز و تند اور سخت بات سے انہیں چوٹ لگی اور دکھ پہنچا ہو، تو اس کے لیے مجھے معاف فرمائیں ۔

مزید گزارش یہ ہے کہ بہت جلد میں اسلم میر کے شروع کردہ ایک اور ٹاپک ’خلافت کے انعقاد‘ کے حوالے سے اپنی تفصیلی تحریر پوسٹ کرنے والا ہوں ، اس پر ان کا تبصرہ و تنقید میرے لیے باعثِ خوشی بھی ہو گی اور باعثِ رہنمائی بھی۔

والسلام مع الحب الکثیر والا کرام
safimera

CANADA
Posted - Thursday, June 03, 2010  -  2:46 PM Reply with quote
isfi22===> very well said.....I agreed...let us go to main and present day problem and others should enter in this thread....

problem: 1) what is real purpose of life :
2) if to be muslim is the real purpose then
3) what school of thought we should follow in this presnt multi schools of thought in ISLAMic world.....
then
4) how we can be united....and
5) how we can stay together with all our differences and then
6) how we can serve together the humanity in peaceful manner without getting labelled of being extremist.....
7) what are the points in islam on which we could present the other world that whatever talbaan or extremist are presenting , is not ISLAM.

these above issues are vital now, and we need to address such issues with education, tolerance and sincerity to save our next generation from both extremist religious elements and too much materialistic thinking.....infact both are extremist elements....one too much religious and other too much secular.....and both are wrong.....

MAy GOD guide us.....
isfi22

PAKISTAN
Posted - Thursday, June 03, 2010  -  2:52 PM Reply with quote
Salam and thanks so much Respected Brother>>!!

You have pointed out real relevant to time and current circumstances Issues, I will Insha Allah discuss on all of them in detail, Infact this topic is so interesting to me.

I will soon present my views in details on the above raised so valuable and real points.
isfi22

PAKISTAN
Posted - Wednesday, June 16, 2010  -  12:45 PM Reply with quote
محترم سیفے میرا کے اٹھائے ہوئے چند ابتدائی نکات کے جواب میں:


انسانی زندگی کا بنیادی مقصد کیا ہے ؟


ایک مسلمان کے زاویے سے اگر اس سوال کا جواب معلوم کرنے کی کوشش کی جائے تو اس کے براہِ راست جواب سے پہلے اس جواب کی اساسات کو بھی سامنے لانا پڑ ے گا۔ وہ اساسات یہ ہیں کہ ایک مسلمان بہت اچھی طرح یہ جانتا اور مانتا ہے کہ اس کائنات کا ایک ہی خداوند ہے ۔ اس کی یہ زندگی ایک خدائی امتحان ہے ۔ اسے جو آزادی، اختیار، مہلت اور صلاحیت و طاقت کے وسائل میسر ہیں ان کے دیے جانے کا مقصد محض یہ ہے کہ دیکھا اور پرکھا جائے کہ وہ ان کے بل بوتے پر اس دنیا اور اپنی زندگی میں کیا گل کھلاتا اور کیسی داستان بناتا ہے ۔ اچھائی اور نیک عملی کے سیرت و کردار کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے یا بدی و نفسانیت کے اندھیروں میں بھٹک کر زندگی کی مہلت کو تباہ و برباد کرتا ہے ۔ اس کی یہ زندگی محض ایک عارضی و امتحانی وقفہ ہے ۔ اصل جہاں اور حیات کا سلسلہ موت کے بعد آنے والے وقت میں شروع ہو گا۔


دنیا میں بسنے والے بے شمار انسانوں کے حوالے سے تو اس سوال کا جواب بہت کچھ مختلف ہو سکتا ہے مگر اس سارے پس منظر کے ساتھ ایک مسلمان کے زاویے سے اس سوال کا اس کے علاوہ کوئی دوسرا جواب نہ ہو سکتا ہے اور نہ ہی سوچا جا سکتا ہے کہ ایک مسلمان انسان کی زندگی کا بنیادی اور اولین و فائنل مقصد کائنات کے خداوند کی رضامندی، اس امتحانِ زندگی میں کامیابی اور اگلی آنے والی دنیا میں سرخروئی کا حصول ہے ۔ اس کے ساتھ ہی یہاں یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ اس مقصد کے حصول کا طریقہ یہی ہے کہ انسان خدا کی بندگی کرے اور اس نے اس کی ہدایت و رہنمائی کے لیے جو دین نازل کیا اور پیغمبر بھیجے ہیں ان کا دامن تھامے اور ان کی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگی گزارے ۔


ایک مسلمان کس مدرسۂ فکر یا ا سکول آف تھاٹ سے وابستگی اختیار کرے


مسلمانوں کے پاس اس سوال کا واضح جواب قرآن و حدیث کی بیش قیمت تعلیمات میں موجود ہے ۔ لیکن یہ المیہ ہے کہ مسلمان اس وقت قرآن و سنت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات و فرامین سے زیادہ اپنے اپنے حلقے ، فرقے اور اکابرین کے آرا و خیالات اور تحریری و تقریری مواد سے مانوس و پیوستہ ہو چکے ہیں ۔ اسی لیے یہ سوال آج ان کے لیے زیادہ پیچیدہ اور قابلِ توجہ بن گیا ہے ۔ قرآن و حدیث کے مطالعے سے ہم واضح طور پر یہ جان سکتے ہیں کہ ایک مسلمان کو جس طرح عبادت صرف اور صرف خدا کی اور غیر مشروط اطاعت صرف اور صرف خدا کے پیغمبر کی کرنی چاہیے اسی طرح اس کی وابستگی صرف اور صرف قرآن و سنت کی تعلیمات اور محمدِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات سے ہونی چاہیے ۔ اس معنیٰ میں کہ اس کا انحصار و اعتماد اور اس کا مأخذِ ہدایت و رہنمائی یہ ذرائع ہوں ۔ دین کے علما اور مفسرینِ قرآن و شارحینِ حدیث و فقہاے امت وغیرہ محققین و معلمین سے بھی اسے استفادہ کرنا اور رہنمائی لینی چاہیے لیکن یہ استفادہ و رہنمائی ان مذکورہ الہامی و پیغمبرانہ منابع کی فوقیت و بالادستی قائم رکھتے ہوئے اور انہی کی ماتحتی میں ہونا چاہیے ۔ نہ یہ کہ انسان بس اپنے اکابر و اسلاف اور مشائخ و بزرگوں ہی کے ملفوظات و فتاویٰ جات پر اندھادھند اور کلی اعتماد کرنے لگے اور براہِ راست ان منابعِ ہدایت و مصادرِ رہنمائی سے اعراض و روگردانی برتے ۔


مسلمان چونکہ اس معاملے میں صحیح روش پر قائم نہ رہ سکے اور آہستہ آہستہ ان کے حلقے اور فرقے اور مختلف گروہ وجود میں آنے اور ان کے جذباتی لگاؤ اور متعصبانہ ربط کا مرکز بننے لگے ۔ اسی طرح ان کے ہاں اپنے حلقے اور جماعت کے علما اور اکابر کے تصورات وجود میں آتے چلے گئے اور ان کے ہاں یہ رویہ عام ہوتا اور رواج و معمول بنتا چلا گیا کہ وہ بس اپنے من پسند اور جماعتی علما و فقہا و محدثین و مفسرین و مفکرین کی چیزیں پڑ ھیں اور انہی کے افکار و نظریات پر سر دھنیں اور انہی کی کہی اور لکھی ہوئی باتوں کو مستند و معتبر ٹھہرائیں ۔ اور ہر دوسرے حلقے یا اپنی جماعت سے باہر کے عالم و مفکر کی چیزوں کو لایعنی اور قابلِ رد قرار دیں ۔ اپنے نظریات و معمولات کو سراسر حق اور دوسروں کی آرا اور روایات کو باطل و ضلالت سمجھیں ۔ لہٰذا اب عام طور پر یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ لوگ کس مسلم فرقے اور اسلامی جماعت سے منسلک ہوں اور کون سا مدرسۂ فکر اور کون سا اسلامک ا سکول آف تھاٹ معتبر ہے جس سے وہ وابستہ ہوجائیں ۔


میرے نزدیک اس کا صاف اور سیدھا جواب یہ ہے کہ انسان خدا و رسول سے اور قرآن و سنت اور محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول مستند ذخیرۂ احادیث سے وابستہ ہو۔ کوئی شخص اگر اس مختصر سے نسخے پر پوری وفاداری و استواری سے عمل پیرا ہوجائے تو یقینی ہے کہ وہ ہدایت پالے گا۔ ہر معاملے میں صحیح راے اور رویہ اس پر واضح ہوجائے گا۔ اور وہ اس بات کو بہت اچھی طرح سمجھ لے گا کہ ہدایت یاب ہونے اور راہِ راست کا راہی بننے کے لیے مسلمانوں کے موجودہ ا سکولز آف تھاٹز اور جماعتوں اور فرقوں میں سے کسی سے اتفاق اور کسی سے اختلاف اور کسی سے انسلاک اور کسی سے علیحدگی ضروری نہیں ہے بلکہ یہ ضروری ہے کہ انسان خدا و رسول پر اپنے اعتماد کو بحال کرے ، قرآن و سنت اور احادیثِ نبوی سے اپنے تعلق کی تجدید کرے اور اپنے قرب و تعلق کے دائرے میں آنے والے تمام مسلم حلقوں میں موجود دین کے مستند و معتبر علما کی رہنمائی میں مختلف معاملات میں دین کے رجحان اور مطلوب و محمود رویوں کو معلوم کرنے کی روش اپنائے ۔ ہمارے ہاں یہ طریقہ جو چل پڑ ا ہے کہ ہماری ہی راے برحق ہے اور وہ کبھی غلط ہونہیں سکتی اور دوسرے کا مؤقف باطل ہے اور یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ درست ہو، یہ رویہ و روش نہایت گمراہ کن اور متکبرانہ ہے ۔ انسان کو خود کو انسان ہی سمجھنا چاہیے ۔ اپنی سمجھی ہوئی بات اور راے کو درست تو کہنا چاہیے لیکن اس امکان کو بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ ہو سکتا ہے کہ اس کے علم و فہم میں کوئی نقص اور جھول ہو اور اسے غلطی پیش آ گئی اور ٹھوکر لگ گئی ہو۔ اور اس کے برخلاف دوسرا مؤقف پیش کرنے والا ہی در اصل درست جگہ کھڑ ا ہو اور اسی کی بات اور راے مطابقِ صحت و حقیقت ہو۔ یہی ہمارے حقیقی اسلاف کا طریقہ تھا اور اسی طریقے پر پھر سے استوار ہوکر ہم کامیاب و سرخرو ہو سکتے اور اپنے درمیان اعتدال، شائستہ اختلاف، سنجیدہ بحث و تمحیص، صبر و برداشت اور وسعت قلبی و تحمل وغیرہ قیمتی اقدار و خصوصیات وجود میں لا سکتے ہیں جو اتحادِ عمل اور باہمی محبت و اخوت کی اصل بنیادیں اور لوازمات ہیں۔


ہم کیسے متحد ہو سکتے اور اپنے اختلافات کے باوجود کیسے اکٹھے رہ سکتے ہیں


اس سوال کا براہِ راست جواب دینے سے پہلے مفید و مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس پہلو پر غور کر لیا جائے کہ اختلافات انسانی دنیا اور انسانی گروہوں میں ہمیشہ رہے ہیں ، آج بھی موجود ہیں اور ہمیشہ پائے جاتے رہیں گے ۔ دنیا میں کوئی کتنی ہی متحد جمعیت و مستحکم سے مستحکم قومیت ہو اس کے افراد بھی اختلاف سے خالی نہیں ہوتے ۔ اصل چیز آدابِ اختلاف سے شناسا ہونا اور انہیں برتنا اور اختلاف کے باوجود مشترک اجتماعی امور و مصالح کے باب میں متفق و متحد رہنا اور مل جل کر کوشش کرنا ہے ۔ اسلام کے ابتدائی ادوار میں صحابۂ کرام کے مابین بھی اختلافات موجود تھے ۔ ان کے بعد محدثین و فقہا کے زمانوں میں بھی اصولی و فروعی ہر طرح کے اختلافات پوری وسعت کے ساتھ پائے جاتے رہے لیکن اس کے باوجود وہ ایک شاندار تہذیب اور مستحکم امت و قومیت قائم کرنے اور اسے برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ اختلاف کے حدود و آداب سے آشنا اور انہیں ملحوظ رکھنے والے لوگ تھے ۔ ملی امور و مصالح میں اتفاق و ہم آہنگی قائم رکھنے اور اس دائرے میں انفرادی و گروہی مفادات کو قربان کر دینے کا حوصلہ رکھنے والے لوگ تھے ۔ ہمیں بھی یہی رویہ و روش اختیار کرنا ہو گا۔ قرآن و سنت ہمارے درمیان ا تھاڑ تی کی حیثیت سے موجود ہیں ۔ ہمیں اپنی آرا و نظریات پر حد سے زیادہ اعتماد و اصرار کی روش کو ترک کر دینا چاہیے اور دلائلِ قرآن و سنت سے قریب راے اور فکر کو اپنانے کو اپنی ترجیح اور مقصد بنانا چاہیے ، چاہے وہ ہماری اپنی دریافت ہو یا کسی دوسرے مسلم اہلِ علم و فکر کی۔ مسلم حلقوں کے درمیان قائم حدبندیوں کو ختم کر دینا چاہیے اور عام لوگوں کو ہر طبقے اور حلقے کے سنجیدہ و بالغ نظر اہل علم و فکر سے استفادے کی روایت کو اپنے درمیان پوری آب و تاب سے جاری کرنا چاہیے ۔ فروعی و جزئی امور پر موجود اختلافِ آرا کے باب میں تشدد کی روش کو ترک کر دینا چاہیے ۔ اپنی اپروچ کو علمی و تحقیقی بنانا چاہیے ۔ ایک معاملے سے متعلق مختلف نقطۂ ہاے نظر کے مطالعے اور سنجیدہ تنقید و تجزیے کی عادت کو اختیار کرنا چاہیے ۔ پروفیشنل اور کم علم قسم کے دینی پیشواؤں اور مذہبی رہنماؤں کے اقوال و خیالات کو بلاسوچے سمجھے قبول کرنے کی روایت کو بدلنا چاہیے ۔ جدید علوم و فنون اور تحقیقات کے ابواب میں اپنی نوجوان نسل کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اور جدتوں سے گھبرانے کے بجائے ان کا گہرے انداز اور دین و دنیا کے علم و فہم کی کسوٹی پر اچھی طرح جائزہ لے کر ان کے بارے میں کوئی معقول و مضبوط راے اختیار کرنی چاہیے ۔ غیر مسلموں کو دشمن اور مبغوض و حریف کی نظر سے دیکھنے کے بجائے انہیں اپنا مدعو سمجھ کر ان کے حق میں اپنے دلوں میں نرمی و شفقت اور ہمدردی و نصیحت کے جذبات پروان چڑ ھانے چاہیے ۔ لڑ نے مرنے اور الٹے سیدھے جھنڈوں تلے جہاد کا نام لے کر جنگ کے میدان میں اتر پڑنے کے بجائے مادی و اخلاقی میدانوں اور علمی و فنی شعبوں میں آگے بڑ ھنے اور نمایاں و ممتاز مقام و حیثیت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ اسی طرح اور بہت ساری تبدیلیاں لانے اور اپنے علم و عمل کے بہت سے اجزا کی اصلاح کی ضرورت ہے جس کے بعد ہی اتحاد و اخوت کے خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکتے اور ہم آہنگی و اتفاق اور باہمی محبت و بھائی چارے کے ساتھ ایک ساتھ مل کر رہنے کی امید بر آ سکتی ہے ۔


ہمارے معاشرے کے پہلو سے اور موجودہ حالات کے تناظر میں سب سے زیادہ اہم ضروت اس باب میں اپنی حیثیت کو پہچاننے اور اپنی آرا کے باب میں معتدل و متوازن روش اپنانے کی ہے جسے امام شافعی کے خوبصورت الفاظ و تعبیر میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ اپنی راے کی صحت پر اصرار، لیکن اس میں خطا کے امکان کو تسلیم کرنا اور دوسرے کی راے کے غلط ہونے پر اصرار، لیکن اس میں صحت کے امکان کو بھی ماننا۔ پیشوا اور نمائندہ لوگ جب اس رویے کو اپنائیں گے اور اپنے پیروکاروں کو اسی کی تلقین و نصیحت کریں گے تو ایک واضح تبدیلی معاشرے میں نظر آئے گی اور اختلاف کو برداشت نہ کرنے اور ایسی صورت میں تشدد و خون ریزی پر اتر آنے جیسے رویوں کی حوصلہ شکنی ہو گی۔


انسانی زندگانی کا مقصد و مدعا:

(الگ سے لکھا گیا ایک مضمون)


انسانی زندگانی کا اصل مقصد کیا ہے ۔ یہ نہایت فلسفیانہ سوال تو ہے ہی لیکن ساتھ ساتھ اپنی عملی و افادی حیثیت بھی رکھتا ہے ۔ مطلب یہ کہ کسی انسان کے لیے اس سوال کے جواب کی تلاش محض کسی علمی نکتے کی جستجو ہی نہیں ہے بلکہ اسی سوال کے جواب پر اس کی زندگی کی تشکیل منحصر ہوتی اور زندگی بھر اس کے طرزِ عمل کا انحصار ہوتا ہے ۔ مثلاً جو لوگ حصولِ خوشی یا لذت کو مقصدِ حیات سمجھتے ہیں وہ ہمیشہ ایسی چیزوں کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں جو انہیں خوشی اور لذت دے سکیں ۔ چاہے وہ اچھی ہو یا بری، انسانی اخلاقیات اسے معروف گردانے یا منکر قرار دے ، دوسروں کو ان سے اذیت و نقصان پہنچتا ہو یا فائدہ و تازگی ملتی ہو۔ اسے اصلاً اس طرح کے کسی سوال اور پہلو سے کوئی سروکار نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیشِ نظر قابل غور پہلو صرف یہ ہوتا ہے کہ اس سے خوشی اور لذت ملے گی یا نہیں دوسروں پر اس کو اثر اچھا پڑ ے یا برا، وہ اس سے فائدہ پائیں یا نقصان اٹھائیں ، اسے اس سے کوئی لگاؤ اور دلچسپی نہیں ہوتی۔ بلکہ اس کے دل و دماغ کے روبرو بس اپنا فائدہ، خوشی اور لذت ہوتی ہے ۔


زندگی کی حقیقت بیان کرنے والا فکر و نظریہ اور خیال و تصور ہی وہ محرک قوت ہے جو کسی انسان کے عمل و کارکر دگی کا ایک نقشہ متعین کرتا اور اس کے قویٰ، صلاحیتوں اور وسائل کو کسی میدان میں صرف کرنے پر اسے اکساتا اور ابھارتا ہے ۔ انسان اس حوالے سے جو تصور رکھتا ہے اس کا کردار اور اس کا اخلاق اور اس کی زندگی کی عملی اٹھان اسی کی مطابقت میں وجود میں آتے اور کوئی رنگ و ڈھنگ اختیار رکرتے ہیں ۔


اس زاویے سے ہر طرح کی طول بیانی اور فلسفیانہ تاریخ سرائی سے قطع نظر کرتے ہوئے اگر ہم بحیثیتِ مسلمان اس سوال کا جواب معلوم کرنا چاہیں اور اس کے لیے خدا کی کتاب کی طرف رجوع کریں تو وہاں واضح طور پر اس سوال کا یہ جواب موجود ہے کہ جنوں اور انسانوں کو خدا کی بندگی کے لیے پیدا کیا گیا ہے ۔ یعنی ان کے بنانے والے کے نزدیک ان کی زندگانی کا یہی مقصدِ اصلی و حقیقی ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ ان انواع کے مختلف افراد و طبقات یعنی مختلف انسان اور ان کی الگ الگ جماعتیں اپنی زندگی کے دوسرے دوسرے مقاصد و اہداف مقرر کر لیں اور انہی کی تحصیل کی کوششوں میں ان کی زندگی گزرے ۔



اب یہ بندگی جس کے لیے عربی لفظ عبادت اختیار کیا گیا ہے ، کیا چیز ہے ؟ کیوں کہ یہ تو واضح ہے کہ یہی زندگی کا اصل مقصود و مدعا ہے ۔ لہٰذا پہلے اسی کی تھوڑ ی سی وضاحت ضروری ہے ۔ عبادت انتہائی خضوع و نہایت تذلل کی ایک باطنی اور اندرونی کیفیت کا نام ہے جو ایک بندہ اپنے معبود و مالک اور خالق و پرودگار کی نسبت سے اپنے قلب و روح میں پوری شدت و حدت سے محسوس کرتا ہے ۔ ذکر، شکر، حمد و تسبیح وغیرہ اس کے باطنی مظاہر و نشانات ہیں اور نماز، روزہ، حج و زکوٰۃ وغیرہ اس کے ظاہری و عملی مظاہر و علامات۔



انسان جب پیدا ہوتا ہے تو شعور کی آنکھ کھولنے کے بعد وہ اپنے اندر کے جہاں اور اپنے باہر پھیلی ہوئی کائنات میں ربوبیت اور نعمت و رحمت کے ا تھاہ مظاہر و اسباب مصروفِ کار دیکھتا ہے ۔ پھر اس کے اندر وجدانی طور پر اپنے خالق کی معرفت موجود ہے ۔ اسی کے ساتھ سلسلۂ انبیا نے ساری دنیا اور انسانی نسلوں میں خدا کی معرفت و بندگی کی دعوت کا جو صور پھونکا اور پیغام پہنچایا ہے وہ بھی نسل در نسل منتقل ہوتا ہوا مختلف انسانی خطوں اور نسلوں میں ایک باقاعدہ روایت اور مذہبی تعلیم و وراثت کی شکل اختیار کر چکا ہے ۔ ان اسباب و عوامل کے زیرِ اثر انسان کے اندر اپنے خالق و مالک اور پرودگار و آقا کے لیے بے انتہا محبت و عظمت اور جلال و خشیت کے جذبات موجزن ہوجاتے ہیں ۔ انہی مختلف کیفیات کی شکلوں میں عبادت ظہور کرتی ہے اور یہ عبادتی کیفیت ہی کے مختلف شیڈ و اظہار ہیں ۔ پہلے اس کے کچھ باطنی مظاہر پیدا ہوتے ہیں ، انسان اپنے خالق کی یاد میں جیتا اور اس کی محبت و خشیت کی لہروں میں ہچکولے کھاتا ہے ۔ اس کے لیے نیازمندی و شکرگزاری و احسان مندی کی ابلتی کیفیات اپنی روح کی گہرائیوں اور وجود کی پہنائیوں میں محسوس کرتا ہے ۔ پھر یہ اندرونی کیفیات و تغیرات اسے اپنے عملی وجود سے بھی اپنے مالک کی بندگی اور آقا کی وفاداری و تابعداری کے لیے آمادۂ کار کرتے اور اکساتے ہیں ۔ نماز وجود میں آتی، روزہ عمل میں ڈھلتا، زکوٰۃ کی جانبازیاں رقم ہوتیں اور حج کی سرفروشیاں جنم لیتی ہیں وغیرہ۔ انہی کیفیات کی شدت میں جینا اور انہی اعمال و عبادات کی مصروفیتوں کو زندگی بنانا وہ عبادتی زندگی ہے جو ایک مسلمان کا مقصودِ حیات و ذریعۂ نجات ہے ۔ زندگی کے متعلقات بھی اپنی جگہ قائم رہتے اور اپنے لیے پوری توجہ اور توانائی حاصل کرتے ہیں ۔ لیکن ان کی شدت و طغیانی مؤمن کو عصیاں و سرکشی و حق تلفی کے اندھیرے غاروں میں نہیں لے جاتی۔ بلکہ بندۂ مؤمن جس طرح دل کی کیفیات اور اعمال و عبادات کے گوشوں میں عبد اللہ ہوتا ہے ویسے ہی میدانِ کارزار و مصروفیاتِ حیات کے باب میں بھی وہ خدا کی دی ہوئی ہدایات کے تابع رہتا اور اس کی کھینچی ہوئی لکیروں اور باندھی ہوئی حدوں سے باہر نکلنے سے دامن بچاتا اور اس کا فرمانبردار و وفادار رہتا ہے ۔ یہ سارے پہلو جب اپنی انتہا کو پہنچتے ہیں تو وہ تصویر سامنے آتی ہے کہ پرودگار میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا سب تیرے ہی لیے ہے ۔ یہاں پہنچ کر مؤمنانہ تصویر اور اسلامی زندگی مکمل ہوجاتی ہے ۔


(باقی نکات بھی میرے پیشِ نظر ہیں۔ انشاء اللہ ان پر بعد میں اظہارِ خیال کروں گا۔ آرزو ہے کہ اے کاش ہماری یہ صحت مند گفتگو ہمارے اور دوسروں کے لیے روشنی اور اصلاحِ احوال کا ذریعہ بن جائے)
aboosait

INDIA
Posted - Thursday, June 17, 2010  -  2:15 PM Reply with quote
quote:

"how could we be UNITED and live together with our religious differences"
I have heard Dr. Zakir Naik often say "Come to common terms." And I feel tht this would be the only way for us to be UNITED and live together with our religious differences.

There are many aspects of unity in Islam, such as One Lord, one Book, one Prophet, one religion, one qiblah, one ummah. Islam urges us to adhere to the jamaa’ah (the group which follows the Qur’aan and Sunnah). The Messenger (peace and blessings of Allaah be upon him) explained that the hand of Allaah is with the jamaa’ah, and that whoever deviates from that will be in Hell.
isfi22

PAKISTAN
Posted - Thursday, June 17, 2010  -  6:11 PM Reply with quote
Salam Brothers>>!!

Good Point on which Safimera wants from us to Concentrate and discuss in detail. In this statement I want and recommend a little but truly a big change. And that is our religion is One and it is Islam. Our differences are not of religious in my understanding because we have no differences in the Bases and Pillars of Islam. We all as Brother Aboosait said believe in Allah (SWT), Prophet (PBUH), Life hereafter, Quran and all other necessities of Faith to be in the Centre and Limits of Islam. Our differences are of opinion and view point differences not religious differences. So we should change our attitude in this regard and this word religious differences in our statements with opinion and view point differences. I assume this a big and revolutionary change and insist all to please understand and accept it as a true and perfect Descriptive Terminology to define the differences among us. These are only Learning, Understanding, Derivation and inferential differences instead of religious differences.

There are some few other points raised by Respected Aboosait, I will have to comment on it and show my understanding of the terminology “Al-jama’ah”. Insha Allah I will soon come for that.
aboosait

INDIA
Posted - Friday, June 18, 2010  -  5:15 AM Reply with quote
quote:

..... my understanding of the terminology “Al-jama’ah......
Al-Jama'ah, according to the Qur'an and Sunnah is the group which follows the Qur’aan and Sunnah. Whichever group recomends/follows the teachings that go against these two primary sources of Islam will fall under the category of 'deviant groups' My understanding and your understanding should be as per the understanding of the salaf (the noble predecesors). You know the Sahaba got the explanation of the Text directly from the Prophet Sallallahu alaihi wasallam himself.

Edited by: aboosait on Friday, June 18, 2010 5:20 AM

Reply to Topic    Printer Friendly
Jump To:

<< Previous Page
1 2 3 4 5
Next page >>
Page 2 of 5


Share |


Copyright Studying-Islam © 2003-7  | Privacy Policy  | Code of Conduct  | An Affiliate of Al-Mawrid Institute of Islamic Sciences ®
Top    





eXTReMe Tracker