Powered by
UI
Techs
Get password?
Username
Password
ہوم
>
سوالات
>
دعوت
مینو
<< واپس
قرطاس موضوعات
نئے سوالات
سب سے زیادہ پڑھے جانے والے
سوال پوچھیے
دین کا علم اور لوگوں کے طبقات
سوال پوچھنے والے کا نام .
تاریخ:
30
مئ
2009
- ہٹس: 404
سوال:
دینی امور میں خود رائے قائم کرنے کے لیے دین کا کتنا علم حاصل کرنا ضروری ہے ؟
جواب:
دین کے علم کے تین درجے ہیں۔ ایک درجہ وہ ہے جس پر عوام ہوتے ہیں۔ انہیں دین کا علم والدین، اساتذہ یا قریب کے علما سے ملتا ہے، اور وہ اسی کو دین سمجھ کر اختیار کر لیتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے دین کا صرف یہ مطالبہ ہے کہ وہ اپنے علم کو بڑھاتے رہیں اور اگر کسی دوسرے صاحبِ علم کی بات ان کے سامنے آئے اور وہ ان کو زیادہ معقول لگے تو اس پر ضرور غور کریں۔ حق کے معاملے میں اپنے کان اور آنکھیں بند نہ کریں۔ اس سے زیادہ عام آدمی کر بھی نہیں سکتا۔ یعنی وہ اہل علم سے ضروری باتیں معلوم کرتا رہے، کیا چیز حرام ہے، کیا حلال ہے، کیا تقاضے ہیں وغیرہ۔اس کے بعد دوسرا درجہ یہ ہے کہ آدمی مختلف اہل علم کی آرا کو پڑھتا ہے، علم کے حصول میں محنت کرتا ہے اور خداداد ذہانت کی وجہ سے مختلف آرا میں سے بہتر رائے کا انتخاب کرنے کی صلاحیت اپنے اندر پیدا کر لیتا ہے۔ ایسے لوگوں کو دیانتداری سے بہتر رائے پر عمل کرنا چاہیے۔ آخری درجہ یہ ہے کہ آدمی اس درجے کا عالم ہو کہ وہ براہِ راست دین کے مآخذ سے رائے قائم کر سکے۔ یہ درجہ کوئی پچیس تیس سال کی شبانہ روز محنت کے بعد حاصل ہوتا ہے لیکن میرے خیال میں یہ خدا داد ہے، ہر آدمی کو حاصل نہیں ہو جاتا۔
جاوید احمد غامدی
ترتیب و تہذیب ، شاہد محمود
Counter Question Comment
You can post a counter question on the question above.
You may fill up the form below in English and it will be translated and answered in Urdu.
Title
Detail
Name
Email
Note: Your counter question must be related to the above question/answer.
Do not user this facility to post questions that are irrelevant or unrelated to the content matter of the above question/answer.
Share
|
Copyright
Studying-Islam
© 2003-7 |
Privacy Policy
|
Code of Conduct
|
An Affiliate of
Al-Mawrid Institute of Islamic Sciences ®
Top