Powered by
UI
Techs
Get password?
Username
Password
ہوم
>
سوالات
>
عبادات
مینو
<< واپس
قرطاس موضوعات
نئے سوالات
سب سے زیادہ پڑھے جانے والے
سوال پوچھیے
پچھلی امتوں میں نماز
سوال پوچھنے والے کا نام .
تاریخ:
16
اکتوبر
2008
- ہٹس: 851
سوال:
آپ نے فرمایا کہ پچھلی امتوں ميں بھی نماز رہی، کیا بائبل میں بھی اس کا ذکر ہے؟
جواب:
بائبل تو اس کے ذکر سے بھری پڑی ہے۔ نماز عبادت ہے، دعا ہے۔ الفاظ تبدیل ہو جاتے ہیں، ایسا تو نہیں ہے کہ بائبل میں نماز ہی کا لفظ لکھا ہو۔ نماز تو فارسی زبان کا لفظ ہے، لیکن دعا، عبادت تو تمام انبیا کے پاس اسی طریقے سے موجود رہی ہے۔ قرآن مجید نے اس کو بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے۔ حضرت اسماعیل عليہ السلام کے بارے میں بتایا ہے کہ انہوں نے نماز ہی کی تلقین کی۔ حضرت ابراہیم عليہ السلام کے بارے میں بتایا ہے کہ جب انہوں نے کعبہ کو آباد کیا تو اسی مقصد کے ليے قائم کیا کہ یہاں نماز کی روایت قائم کی جائے حضرت موسی عليہ السلام کے بارے میں قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ جیسے ہی ان کی قوم نے ان کو مانا تو گھروں کو قبلہ بنا کر ان کے ہاں باقاعدہ باجماعت نماز کا اہتمام کر دیا گیا۔ نماز کوئی رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم سے شروع نہیں ہوئی، تمام انبیا کی امت میں رہی ہے۔
جاويد احمد غامدي
ترتيب و تہذيب : عمر فاران بخاري
Counter Question Comment
You can post a counter question on the question above.
You may fill up the form below in English and it will be translated and answered in Urdu.
Title
Detail
Name
Email
Note: Your counter question must be related to the above question/answer.
Do not user this facility to post questions that are irrelevant or unrelated to the content matter of the above question/answer.
Share
|
Copyright
Studying-Islam
© 2003-7 |
Privacy Policy
|
Code of Conduct
|
An Affiliate of
Al-Mawrid Institute of Islamic Sciences ®
Top