Powered by
UI
Techs
Get password?
Username
Password
ہوم
>
سوالات
>
عبادات
مینو
<< واپس
قرطاس موضوعات
نئے سوالات
سب سے زیادہ پڑھے جانے والے
سوال پوچھیے
پابندی اوقات
سوال پوچھنے والے کا نام Muhammad Jamil
تاریخ:
31
مئ
2008
- ہٹس: 1933
سوال:
نماز کے اوقات عام طور پر مساجد میں لکھے ہوتے ہیں، جمعے کا وقت بھی لکھا ہوتا ہے اس کے باوجود کچھ امام بالخصوص جمعہ کی نماز میں پندرہ بیس منٹ تاخیر کر دیتے ہیں۔ کسی صاحب کے توجہ دلانے پر امام صاحب نے فرمایا کہ یہ امام کا حق ہے وہ چاہے تو لیٹ کر سکتا ہے، کیا یہ واقعی امام صاحب کا حق ہے؟
جواب:
یہ بڑی غلط تعبیر ہے جو ہمارے بعض آئمہ کرتے ہیں۔ دو صورتیں ہیں، ایک صورت یہ کہ آپ نے کوئی وقت commit نہیں کیا یعنی یہ نہیں بتایا ہوا کہ ڈيڑھ بجے جمعہ ہوگا تو امام صاحب کی مرضی ہے کہ جب چاہيں پڑھا دیں۔ لیکن اگر اس نے پہلے سے کوئی commitment کی ہوئی ہے کہ ڈيڑھ بجے جمعہ ہوگا تو پھر ایک سیکنڈ کی خلاف ورزی بھی حرام ہے۔ مسلمان کی زندگی کے اندر جو بنیادی نیکیاں ہیں ان میں اللہ تعالی نے والموفون بعھدھمکو بھی شامل کیا ہے۔ وقت کی پابندی دوسری قوموں کے ليے بہتر عمل ہوگا مگر ہمارے ليے دینی فریضہ ہے۔ اگر وقت طے کیا گيا ہے تو کسی امام کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ ایک منٹ کی بھی تاخیر کرے اور اگر غلطی ہو جائے تو سامعین سے معافی مانگے۔
جاوید احمد غامدی
ترتیب و تہذیب، عمر فاران بخاری
Counter Question Comment
You can post a counter question on the question above.
You may fill up the form below in English and it will be translated and answered in Urdu.
Title
Detail
Name
Email
Note: Your counter question must be related to the above question/answer.
Do not user this facility to post questions that are irrelevant or unrelated to the content matter of the above question/answer.
Share
|
Copyright
Studying-Islam
© 2003-7 |
Privacy Policy
|
Code of Conduct
|
An Affiliate of
Al-Mawrid Institute of Islamic Sciences ®
Top