Powered by UITechs
Get password? Username Password
 
 ہوم > سوالات > معاشرتی مسائل
مینو << واپس قرطاس موضوعات نئے سوالات سب سے زیادہ پڑھے جانے والے سوال پوچھیے  

نفس کو عمل پر لانا
سوال پوچھنے والے کا نام Zahoor Ahmad
تاریخ:  31 مئ 2008  - ہٹس: 1323


سوال:
آپ کے خیال میں انسان کس طرح اتنا مضبوط ہوسکتا ہے کہ وہ شیطان کا مقابلہ کر سکے۔ صوفیا کے ہاں تو یہ خاص موضوع رہا ہے اور وہ اس میں کامیاب بھی رہے ہیں۔ سیرت رسول صلى اللہ عليہ وسلم کی روشنی میں اس کی وضاحت کر دیجيے؟

جواب:
دین کا مقصود ہمارے نفس کی تطہیر اور اس کا تزکیہ ہے یعنی اس کو پاک کرنا اور اسے صحیح سمت میں نشوونما دینا۔ قیامت میں نفس کی بالیدگی اور پاکیزگی ہی جنت یا جہنم کا باعث بنے گی۔ دنیا کی زندگی میں انسان کو اس امتحان میں اسی لیے ڈالا گیا ہے کہ پرکھا جائے کہ کون نفس کو آلودہ کرتا ہے اور کو ن اس کو پاک کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ نفس کو پاکیزہ رکھنے اور اس کو صحیح سمت میں نشوونما دینے کے لیے انسان کیا کرے؟ یہی وہ چیز ہے جس کے لیے اللہ نے اپنا دین نازل کیا ہے اگر انسان دین پر صحیح فہم کے ساتھ عمل پيرا ہو تو اس کے نفس کو پاکیزگی بھی حاصل ہوگی اور بالیدگی بھی۔ لیکن مسئلہ یہ پیدا ہوجاتا ہے کہ آدمی اپنے آپ کو دین پر عمل کے لیے کس طرح تیار کرے۔ یعنی یہ تو بتا دیا گیا کہ آپ مدرسہ میں جا کر انجینئرنگ سیکھ لیں لیکن سوال یہ ہے کہ مدرسہ جانے کے ليے بستر سے اٹھنا پڑے گا، اس عمل کے لیے نفس کو کس طرح آمادہ کیا جائے ؟ یہ چیز دین کا موضوع نہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ان چیزوں کے ليے اللہ تعالی نے انسان کو بہت سی صلاحیتیں اور علوم و فنون دے رکھے ہیں۔ اسکو مثال سے سمجھیے۔ ایک آدمی قرآن سے دین اخذ کرتا ہے اور پيغمبر کی ہدایت اس کو اچھی طرح سمجھ لیتا ہے۔ اب وہ چاہتا ہے کہ لوگوں کو دین پہنچائے۔ تو اس کے ليے دین نے اسے کوئی خاص طریقہ نہیں بتایا۔ تعلیم، تقریر، تحریر کوئی بھی طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔ اگر وہ چاہے کہ تصنیف و تالیف کا طریقہ اختیار کرنا ہے تو اسے یہ فن سیکھنا پڑے گا۔ انبیا یہ چیز بتانے کے ليے نہیں آئے۔ یہ چیز انسان اپنے تجربے اور مشاہدے سے سیکھتا ہے۔ تصنیف و تالیف میں بڑے بڑے صاحبان فن پيدا ہوئے ہیں۔ وہ انسان ان کی تحریروں سے سیکھے گا یا پھر کسی صاحب فن کی صحبت میں رہ کر سیکھے گا۔ اسی طرح ایک آدمی دین کو سمجھ لیتا ہے، اب وہ اس کی تعلیم دینا چاہتا ہے۔ تعلیم و تدریس خود ایک فن ہے یعنی ایک آدمی خود بہت دیندار ہے لیکن اس کے دین دار ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اس فن سے واقف بھی ہو۔ تعلیم و تدریس کے فن میں مسلم دنیا نے بھی اور جدید مغربی دنیا نے بھی بہت سے تجربات کیے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ چنانچہ اس انسان کو یہ فن سیکھنا پڑے گا۔ یہ وہ چیز نہیں جو قرآن و سنت میں بیان ہوئی ہے۔ یہی صورت حال تزکیے کی ہے۔ کہ تزکیہ حاصل تو دین سے کرنا ہے مگر اس پر خود کو آمادہ کیسے کیا جائے۔ یہ بجائے خود انسانی تجربات پر مبنی ایک فن ہے۔ یعنی یہ بات کہ انسانی نفسیات کیا ہے، وہ کسل مندی کا شکار کیسے ہوتی ہے، اس کے اوپر پردے کیسے پڑتے ہیں، ان کو کیسے اتارا جاتا ہے، یہ ایک مکمل علم ہے۔ اور اس بارے میں صوفیا کے علم کلام اور فلسفے سے ہزار اختلاف کے باوجود مجھے اس بات سے اتفاق ہے کہ یہ صرف صوفی ہیں جو اس فن سے واقف ہیں۔ یعنی ایک بندے کو دین پر کیسے عمل پيرا کیا جائے۔ اس کے ليے انہوں نے جو ادارہ بنایا وہ خانقاہ کہلاتا ہے۔ اسی ليے میں بھی اس پر بہت زور دیتا ہوں کہ کچھ لوگ آگے آئیں اور خانقاہ بنائیں۔ صوفیا نے دین کی جو تعبیر کی وہ سرتا سر غلط ہے مگر انہوں نے عمل کے لیے جو طریقے ایجاد کیے ان سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ اہل علم کو خدا توفیق دے کہ وہ بھی اس کو سیکھيں اور اس کو باقاعدہ موضوع بنا کر ادارہ وجود میں لائیں۔ یعنی ایسا ادارہ جس میں لوگ کچھ وقت گزاریں اور سیکھیں۔ اس کی بہترین مثال آج کے دور میں تبلیغی جماعت بھی ہے۔ ان کی دینی تعبیر سے اختلاف کے باوجود اس فن میں بعض چیزیں ان سے بھی سیکھی جا سکتی ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ بسا اوقات ایک ماہر فن چند چیزوں کی مشق کرا کے، چند چیزوں کی تربیت دے کے، آپ کو اٹھا دیتا ہے، کسل مندی دور کر دیتا ہے، طبیعت میں نشاط پيدا کر دیتا ہے۔ تو یہ باقاعدہ ایک کام ہے جو کرنا چاہیے۔ جب تک صوفیا کا ادارہ قائم رہا ہے، اس وقت تک ہمارے معاشرے کو کبھی ماہرین نفسیات کی ضرورت نہیں پڑی تھی۔ ان کا ایک خاص انداز ہوتا تھا جس سے وہ آدمی کی تربیت کرکے آہستہ آہستہ اسے دین کے قریب لے آتے تھے۔ اس معاملے میں، میں ان کا بہت قائل ہوں۔ میرا احساس یہ ہے کہ اس کام کے ليے سوچنا بھی چاہيے اور اس کا اہتمام بھی کرنا چاہيے یہ کام مجرد دین بتانے سے نہیں ہوتا۔ یہ ایک مخصوص تربیتی عمل اور فن ہے اور فن کا ماہر آدمی آپ کو دنوں میں تبدیل کردیتا ہے۔



جاوید احمد غامدی

ترتیب و تہذیب، عمر فاران بخاری


Counter Question Comment
You can post a counter question on the question above.
You may fill up the form below in English and it will be translated and answered in Urdu.
Title
Detail
Name
Email


Note: Your counter question must be related to the above question/answer.
Do not user this facility to post questions that are irrelevant or unrelated to the content matter of the above question/answer.
Share |


Copyright Studying-Islam © 2003-7  | Privacy Policy  | Code of Conduct  | An Affiliate of Al-Mawrid Institute of Islamic Sciences ®
Top    





eXTReMe Tracker