Powered by
UI
Techs
Get password?
Username
Password
ہوم
>
سوالات
>
متفرقات
مینو
<< واپس
قرطاس موضوعات
نئے سوالات
سب سے زیادہ پڑھے جانے والے
سوال پوچھیے
اسلام مکمل ضابطہ حیات
سوال پوچھنے والے کا نام .
تاریخ:
15
اپریل
2008
- ہٹس: 505
سوال:
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، کیا یہ جملہ درست ہے؟
جواب:
یہ جملہ اس ترکیب میں درست نہیں۔ اسلام نے زندگی کے بہت سے شعبوں کے بارے میں ہدایات دی ہیں، رہنمائی فرمائی ہے لیکن مکمل ضابطہ حیات سے مراد ہے کہ اسلام نے زندگی کے ہر شعبے کے بارے میں مکمل نظام دیا گیا ہوگا یعنی آپ کو زندگی گزرانے کے لیے جو کچھ بھی قانون ضابطے چاہيے تھے وہ سب بیان کر ديے گئے ہیں۔ لیکن حقیقت میں تو ایسا نہیں ہے۔ چند اصولی باتیں بیان کرنے کے بعد صرف ان امور میں مداخلت کی گئی ہے جن میں انسان کو رہنمائی کی ضرورت تھی اور وہ رہنمائی بھی اس پہلو سے چاہيے تھی کہ کہیں وہ علم یا عمل کی غلاظت میں مبتلا نہ ہو جائے۔ نظام بنانا انسانوں کا اپنا کام ہے اور اس معاملے میں انسانوں کو دوسروں کے تجربات سے بھی فائدہ حاصل ہوتا ہے اور تمدن کے ارتقا سے بھی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ اس وجہ سے میرے نزدیک یہ تعبیر اسلام کے ليے ایک غلط تعبیر ہے۔ اس سے اسلام کی دعوت کو بے پناہ نقصان پہنچا ہے اور اسلام کا اپنا پيغام اس کے نتیجے میں بالکل مسخ ہو گیا ہے اور عام لوگوں پر اس کا یہ اثر ہوتا ہے کہ گویا زندگی گزرانے کے لیے ہر چیز ہمیں لکھ کر دے دی گئی ہے، بس اس نسخے کو استعمال کرنا ہے، یہ بات نہیں ہے۔ قرآن مجید میں اور پيغمبروں کی جو ہدایت ہمیں ملی ہے اس کی نوعیت یہ ہے کہ انسان کو بینا پيدا کیا گیا ہے، وہ اپنے لیے ضابطے، قانون اور تمدنی ارتقا کے اصول بنائے، ترقی کرے، سوچے، غور کرے، دوسری قوموں کے تجربات سے فائدہ اٹھائے، آگے بڑھے۔ البتہ اگر اس کے علم و عمل کے تزکیہ میں کوئی خرابی کا اندیشہ ہے تو وہاں اللہ تعالی نے رہنمائی کر دی ہے۔ چنانچہ معیشت سے متعلق سات آٹھ چیزیں بیان کر دی گئی ہیں، سیاست کے معاملے میں چار پانچ چیزیں بیان کر دی گئی ہيں، اسی طرح چار جرائم کی سزائيں بیان کی گئی ہیں، باقی تمام معاملات انسانوں کی عقل پر چھوڑ ديے گئے ہیں۔ بے شمار چیزيں ہیں جن کے بارے میں ہم خود طے کرتے ہیں، قانون سازی کرتے ہیں مثلاً ٹریفک ہے، اس کے معاملات آج سے دو سو سال پہلے کوئی مسئلہ ہی نہیں تھے لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ آپ کو پورا پورا ضابطہ بنانا پڑتا ہے۔ ضابطے اب موجودہ زمانے کی ضرورت ہیں، اسی طرح سے ریاست ہے، موجودہ زمانے میں جو procedural law ہے جس کے تحت ریاست چلتی ہے اس میں بے شمار قوانین خود بنانے پڑتے ہیں، اس میں بھی پارلیمنٹ مسلسل قوانین بناتی رہتی ہے۔ تو اسلام نے یہ نہیں کیا اور نہ اس کے بارے میں ایسا تصور قائم کرنا چاہيے، اگر وہ ایسا کرتا تو یہ خدا کا ابدی دین نہ ہوتا۔ ابدی دین یہ ایسے ہی ہو سکتا تھا کہ بنیادی چیزوں میں رہنمائی کر دے باقی اس کے بعد انسان خود اپنے ليے سب کام کرتا ہے۔ اسلام نے کوئی نظام یا ضابطہ حیات نہیں بنا کر دے دیا بلکہ زندگی گزرانے کا ایک زاویہ دیا ہے اور بنیادی رہنمائی کر دی ہے۔ آپ یوں سمجھيں کہ راستہ تو ہم چل سکتے تھے لیکن جو موڑ ایسے آجاتے ہیں کہ جہاں تذبذب کا اندیشہ تھا، ان میں گویا ایک لالٹین نصب کر دی گئی ہے کہ رہنمائی ہو۔ یہ نوعیت ہے اور اس نوعیت کو سمجھ کر دین کی طرف رجوع کیا جائے گا تو آپ صحیح جگہ پر کھڑے ہونگے اور اگر ساری چیزیں برآمد کرنے کی کوشش کریں گے تو یہ غلط زاویہ ہو جائے گا۔
علامہ جاوید احمد غامدی
ترتیب و تہذیب، عمر فاران بخاری
Counter Question Comment
You can post a counter question on the question above.
You may fill up the form below in English and it will be translated and answered in Urdu.
Title
Detail
Name
Email
Note: Your counter question must be related to the above question/answer.
Do not user this facility to post questions that are irrelevant or unrelated to the content matter of the above question/answer.
Share
|
Copyright
Studying-Islam
© 2003-7 |
Privacy Policy
|
Code of Conduct
|
An Affiliate of
Al-Mawrid Institute of Islamic Sciences ®
Top