Powered by UITechs
Get password? Username Password
 
 ہوم > سوالات > عبادات
مینو << واپس قرطاس موضوعات نئے سوالات سب سے زیادہ پڑھے جانے والے سوال پوچھیے  

سعی عمرے کا لازمی حصہ نہیں
سوال پوچھنے والے کا نام Sufyan
تاریخ:  31 جولائی 2007  - ہٹس: 918


سوال:
آپ کی کتاب قانون عبادات میں لکھا ہے کہ صفا اور مروہ کی سعی عمرے کا ضروری حصہ نہیں ہے ، یہ چیز آپ نے "لا جناح علیہ ان یطوف بھما" سے لی ہے ، حالانکہ یہ حضور نبیۖ کے عمل تواتر سے ثابت ہے کہ سعی کو عمرے اور حج کا لازمی جزو قرار دیا گیا ہے۔ یہ آیت تو اس وقت نازل ہوئی تھی جب فتح مکہ سے پہلے مسلمانوں نے عمرہ کیا تھا تو اس وقت دونوں پہاڑیوں پر بت تھے اس لیے وہ ہچکچا رہے تھے اس پر کہ سعی کریں کہ نہ تو اللہ نے کہا کہ کوئی گنا ہ نہیں۔

جواب:
ان دو پہاڑیوں پر بت تھے اور مسلمان ان کی وجہ سے سعی کرنے سے ہچکچا رہے تھے تو کعبہ میں تو 350 بت تھے وہاں تومسلمانوں کو طواف کرنے سے کوئی ہچکچاہٹ نہیں تھی۔ یہ محض قصہ ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ اصل بات یہ تھی کہ صفا اور مروہ کی سعی کے بارے میں یہود نے یہ پروپیگنڈہ کر رکھا تھا کہ یہ کوئی مناسک حج کی چیز ہے ہی نہیں۔ اور اس کی خاص وجہ یہ تھی کہ مروہ حضرت اسماعیل کی قربان گاہ ہے اور یہود کے پورے لٹریچر میں اس چیز کو ہدف کی حیثیت حاصل ہے کہ حضرت اسماعیل اور حضرت ابراہیم کا تعلق مروہ یعنی کعبہ اورمکہ سے ثابت نہیں ہونا چاہیے تو وہ اس کا پروپیگنڈہ کرتے تھے۔ قرآن نے اسی کے ضمن میں اس کا ذکر کیا ہے۔ جہاں یہ آیت آئی ہے اس کے فورا ًبعد بیان ہے کہ یہ یہود اللہ کے دین کی اس طرح کی حقیقتوں کو چھپاتے ہیں اور جانتے بوجھتے چھپاتے ہیں ، یہ اللہ کے غضب کو دعوت دیتے ہیں اس پر یہ سوال پیدا ہوا تو قرآن نے اس کا جواب یہ دیا کہ صفا و مروہ کی سعی کوئی بری چیز نہیں ہے یہ ایک خیر کا کام ہے ، جو آدمی بھی حج و عمرہ کے لیے آئے وہ اگر اپنی طرف سے کوئی خیر کا کام کرتا ہے تو بالکل ٹھیک کرتا ہے۔ "من تطوع خیرا فان اللہ شاکر علیم" کے الفاظ بالکل واضح ہیں کہ یہ ایک نفل عبادت ہے۔ حضورۖ نے یہ نفل عبادت کی ہے ایسے ہی جیسے آپ نے بڑی باقاعدگی کے ساتھ فجر کی دو رکعتیں پڑھی ہیں فرضوں سے پہلے ، تو وہ فجر کی دو رکعتیں آپ کے مسلسل پڑھنے کے باوجود بھی نفل ہی رہی ہیں فرض نہیں ہو گئیں۔ تو یہ سعی بھی نفل ہی ہے اگرچہ حضور سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے اور بڑی اچھی عبادت ہے کرنی چاہیے۔ لیکن یہ عمرے یا حج کا لازمی رکن نہیں ہے ،بس یہ بات ملحوظ رہے۔ آپ کی مکہ سے واپسی حج کے بعد ہوئی ہے اس میں حضور نے سعی نہیں کی۔ بعض علما نے یہ سمجھا کہ شاید عمرے والی سعی کو حضور نے کافی سمجھا ہے حالانکہ آپ نے ا پنے عمل سے یہ بتا دیا یعنی پہلے کر کے اور بعد میں نہ کر کے کہ یہ نفل عبادت ہے چاہے تو کر لیں اور چاہیں تو نہ کریں۔

جاوید احمد غامدی
ترتیب و تہذیب، عمر فاران بخاری


Counter Question Comment
You can post a counter question on the question above.
You may fill up the form below in English and it will be translated and answered in Urdu.
Title
Detail
Name
Email


Note: Your counter question must be related to the above question/answer.
Do not user this facility to post questions that are irrelevant or unrelated to the content matter of the above question/answer.
Share |


Copyright Studying-Islam © 2003-7  | Privacy Policy  | Code of Conduct  | An Affiliate of Al-Mawrid Institute of Islamic Sciences ®
Top    





eXTReMe Tracker