Powered by
UI
Techs
Get password?
Username
Password
ہوم
>
سوالات
>
معاشرتی مسائل
مینو
<< واپس
قرطاس موضوعات
نئے سوالات
سب سے زیادہ پڑھے جانے والے
سوال پوچھیے
سیلف کنٹرول یا ضبط نفس
سوال پوچھنے والے کا نام Anonymous
تاریخ:
16
جولائی
2007
- ہٹس: 1257
سوال:
ہماری نوجوان نسل کہتی ہے کہ Self Control ایک بڑی مشکل چیز ہے اور ویسے بھی یہ ایک غیر عملی سی چیز ہے پ کی کیا رائے ہے ؟
جواب:
جس چیز کو آپ ضبط نفس یا Self Confrol کہتے ہیں ، وہی تو انسانیت کا شرف ہے۔ اللہ نے انسان کو عقل کی نعمت سے نوازا ہے ، وہ جب یہ دیکھتا ہے کہ خیر و شر کی کشمکش میں شر کی طرف میلان پیدا ہو رہا ہے تو وہ اپنے آپ کو کنٹرول کرتا ہے۔ انسانیت کا اصلی امتیاز یہی ہے ، اگر انسان ضبط نفس سے کام نہیں لیتا تو پھر اس میں اور جانوروں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اگر یہ بات مان لی جائے کہ ضبط نفس انسان کو نہیں کرنا تو ذرا اس بات کو بڑھا کر دیکھیے کہ نوبت کہاں پہنچ جائے گی ، جس کے پاس طاقت ہے وہ دوسروں کے حقوق غصب کر لے گا۔ جس قوم کو اللہ تعالی نے بہت قوت اور شان و شوکت دی ہے وہ دوسروں کو پامال کر ڈالے گی۔ جس آدمی کو جسمانی لحاظ سے طاقتور بنایا ہے وہ ہو سکتا ہے کسی کمزور کو سڑک پر ہی نہ چلنے دے۔ اصل میں ضبط نفس کا لفظ لوگ چند خاص چیزوں کے بارے میں استعمال کرتے ہیں جبکہ ضبط نفس ہر میدان میں ہے اور یہ ہی تو اصل میں انسانیت کا شرف ہے۔ برائی صرف چند جنسی میلانات سے متعلق نہیں ہوتی۔ ملاوٹ بھی برائی ہے ، بددیانتی بھی برائی ہے، خیانت بھی برائی ہے ، مال کی ناجائز طلب بھی برائی ہے ، مال کی ہوس بھی برائی ہے۔ دوسروں کے حقوق تلف کرنے کے داعیات بھی برائی ہیں۔ ان ساری چیزوں میں اگر ضبط نفس کو اٹھا لیا جائے تو باقی رہ کیا جائے گا ؟ کچھ بھی باقی نہیں بچے گا۔ پھر تو انسان جانوروں سے کام کرے گا۔ ضبط نفس میں آدمی اگر ایک اعتدال اور توازن کے ساتھ اپنی تربیت کرتا چلا جائے تو کچھ وقت کے بعد اس پر کوئی منفی اثرات نہیں ہوتے البتہ یہ ضرور ہوتا ہے کہ بعض موقعوں پر بعض لوگ کچھ ایسی پابندیاں لگا دیتے ہیں جو شریعت میں نہیں ہوتیں۔ لیکن یہ کہا جا سکتا ہے کہ انسان کو کمال حاصل کرنے کے لیے وہ پابندیاں اختیار کرنی چاہییں۔ مذہبی لوگ اس کا لحاظ کیے بغیر کہ نوجوانوں کو کہاں سے تربیت دینی چاہیے، کس جگہ سے ان کو شروع کرانا چاہیے ، آخری درجے کی باتیں شروع کر دیتے ہیں تو اس سے خرابی پیدا ہوتی ہے۔ اگر نوجوانوں کو نوجوان سمجھ کر اس چیز کا شعور دیا جائے کہ ضبط نفس ہی انسانیت کا کمال ہے ، اسی سے انسان بڑا ہوتا ہے ، اسی سے انسانیت اپنی معراج کو پہنچتی ہے اور اسی سے درحقیقت دنیا میں خیر و صلاح کے سارے داعیات پیدا ہوتے ہیں تو وہ ضروربات سنیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا مشہور واقعہ ہے کہ راستے میں چلتے ہوئے آپ نے دیکھا غالباً ابو مسعود انصاری اپنے غلام کو مار رہے تھے تو آپ نے پیچھے سے کہا کہ ابو مسعود جتنی طاقت تم کو اپنے غلام پر حاصل ہے ، خدا کو تم پر اس سے زیادہ طاقت حاصل ہے تو نہ صرف یہ کہ وہ رک گئے بلکہ ان کی زبان سے فوراً یہ نکلا کہ میں نے غلام کو آزاد کیا۔ ایک مظلوم کے ستم کو دور کرنے کی کیا قدرو قیمت ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ آپ نے فرمایا کہ ابو مسعود اس وقت اگر اس کو آزاد نہ کرتے تو جہنم میں جاتے۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ضبط نفس کس قدر و قیمت کی چیز ہے۔ حضور کی آواز پر اس صحابی نے ضبط نفس ہی تو کیا۔ ضبط نفس تو ہر حال میں ہونا چاہیے البتہ ضبط نفس کی تربیت نوجوانوں کو بڑی حکمت اور تدریج کے ساتھ دینی چاہیے۔ او راس میں بھی یہ فرق ملحوظ رکھنا چاہیے کہ بڑی بڑی جو خرابیاں ہیں ، ان کو پہلے موضوع بنانا چاہیے اور چھوٹی چھوٹی چیزوں کو خود پیدا ہونے دینا چاہیے –
جاوید احمد غامدی
ترتیب و تہذیب، عمر فاران بخاری
Counter Question Comment
You can post a counter question on the question above.
You may fill up the form below in English and it will be translated and answered in Urdu.
Title
Detail
Name
Email
Note: Your counter question must be related to the above question/answer.
Do not user this facility to post questions that are irrelevant or unrelated to the content matter of the above question/answer.
Share
|
Copyright
Studying-Islam
© 2003-7 |
Privacy Policy
|
Code of Conduct
|
An Affiliate of
Al-Mawrid Institute of Islamic Sciences ®
Top