Powered by UITechs
Get password? Username Password
 
 ہوم > سوالات > متفرقات
مینو << واپس قرطاس موضوعات نئے سوالات سب سے زیادہ پڑھے جانے والے سوال پوچھیے  

"الحرب خدعۃ" کا مطلب
سوال پوچھنے والے کا نام Zia ul Haq
تاریخ:  31 مئ 2007  - ہٹس: 1570


سوال:
کہتے ہیں کہ الحرب خدعۃ یعنی جنگ میں دھوکہ جائز ہے کیا از روؤے اسلام یہ بات ٹھیک ہے؟

جواب:
" الحرب خدعۃ " کا مطلب یہ نہیں کہ اسلام جنگ میں بے انصافی، وعدہ خلافی، دھوکہ دہی ، بات صلح کی کرنا لیکن کیے ہوئے معاہدے کو توڑ کر حملہ کر دینا اور اس طرح کے رنگا رنگ فراڈ کرنے کا قائل ہے۔ ہرگز نہیں ۔ جس نے اسلام کی تعلیمات کے بارے میں اس طرح کا گمان کیا اس نے دراصل، اسلام کو سمجھا ہی نہیں۔ " الحرب خدعۃ " کا مطلب یہ ہے کہ تمام انسانی اخلاقیات کو برقرار رکھتے ہوئے، جنگ کے موقع پر جنگی چال چلنا ۔ اس میں اعلان جنگ کے بعد حالت جنگ میں دشمن کو اپنے جنگی اقدام کے بارے میں ایک وہم میں ڈالا جاتا ہے اور پھر اس کے اس وہم کے خلاف جنگی اقدام کیا جاتا ہے۔ اس طرح کی جنگی چالیں دنیا کی ایک معروف چیز ہے۔ آپ اپنے دشمن سے ایسا نہیں کہہ سکتے کہ یار تم میرے خلاف اپنا جنگی اقدام مجھے پہلے بتا دیا کرو تا کہ میں تمہاری کسی چال میں کر تمہارے قابو نہ آجاؤں۔ سیاسی حریف کے خلاف چالیں اکثر بیشتر صریح دھوکہ ہوتی ہیں اور یہ اخلاقی اصولوں کے خلاف ہے۔ ویسے بھی سیاست کی چال " الحرب خدعۃ "کے تحت نہیں آتی۔


محمد رفيع مفتي
مترجم : عبد اللہ بخاري


Counter Question Comment
You can post a counter question on the question above.
You may fill up the form below in English and it will be translated and answered in Urdu.
Title
Detail
Name
Email


Note: Your counter question must be related to the above question/answer.
Do not user this facility to post questions that are irrelevant or unrelated to the content matter of the above question/answer.
Share |


Copyright Studying-Islam © 2003-7  | Privacy Policy  | Code of Conduct  | An Affiliate of Al-Mawrid Institute of Islamic Sciences ®
Top    





eXTReMe Tracker