Powered by
UI
Techs
Get password?
Username
Password
ہوم
>
سوالات
>
دعوت
مینو
<< واپس
قرطاس موضوعات
نئے سوالات
سب سے زیادہ پڑھے جانے والے
سوال پوچھیے
خود کودوسروں کی ہدایت کا ذریعہ سمجھنا
سوال پوچھنے والے کا نام Mirza Altaf Baig
تاریخ:
16
مئ
2007
- ہٹس: 898
سوال:
یہ دیکھتے ہوئے بھی کہ انسانیت جہنم کی طرف جا رہی ہے ، کیا ہمیں اپنے کاموں میں مگن رہنا چاہیے؟
جواب:
پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم اپنا صحیح مقام پہچانیں۔ کوئی انسان ایسا نہیں ہے جو یہ کہہ سکے کہ اگر ہم نہ ہوتے تو فلاں فلاں انسان تو کافر ہی مر جاتے، اللہ نے اس کی ہدایت تو بس میرے وجود پر منحصر کر رکھی تھی یا کسی کے بارے میں وہ یہ سمجھے کہ اس کی ہدایت تو بس میرے اوپر منحصر ہے۔ ہدایت خدا کی جانب سے ملتی ہے، وہ اپنی حکمت اور اپنے علم سے جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ وہ ہدایت کے لیے سینکڑوں چیزوں میں سے جس کو چاہتا ہے ذریعہ بنا دیتا ہے۔ اس نے کائنات اور انسان کا اپنا وجود بھی اپنی نشانیوں سے بھر دیا ہے۔ چنانچہ کسی انسان کو یہ روا نہیں کہ وہ خود کو دوسرے کی ہدایت کا واحد ذریعہ سمجھے۔ البتہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی اپنے اوپر دوسرے کا یہ حق سمجھنے سے بھی عاری ہو جائے کہ اسے حق بات اور اس پر ثابت قدم رہنے کی تلقین کی جائے۔ ہر انسان کا دوسرے پر یہ حق ہے کہ وہ اسے حق اور حق پر ثابت قدمی کی تلقین کرے اور بس، اس کے حوالے سے اپنے پ کو کوئی اہمیت نہ دینے لگ جائے۔
محمد رفيع مفتي
مترجم : عبد اللہ بخاري
Counter Question Comment
You can post a counter question on the question above.
You may fill up the form below in English and it will be translated and answered in Urdu.
Title
Detail
Name
Email
Note: Your counter question must be related to the above question/answer.
Do not user this facility to post questions that are irrelevant or unrelated to the content matter of the above question/answer.
Share
|
Copyright
Studying-Islam
© 2003-7 |
Privacy Policy
|
Code of Conduct
|
An Affiliate of
Al-Mawrid Institute of Islamic Sciences ®
Top