Powered by UITechs
Get password? Username Password
 
 ہوم > سوالات > معاشرتی مسائل
مینو << واپس قرطاس موضوعات نئے سوالات سب سے زیادہ پڑھے جانے والے سوال پوچھیے  

رشوت اور سفارش میں فرق
سوال پوچھنے والے کا نام Aslam Mian
تاریخ:  28 فروری 2007  - ہٹس: 747


سوال:
آپ رشوت اور سفارش میں کیسے فرق کرتے ہیں؟ اب کئی جائز کام بھی سفارش کے بغیر نہیں ہوتے، مثلاً ہسپتال میں آپ کو داخلہ نہیں ملتا۔ آپ کے ساتھ زیادتی ہونے کے با وجود پولیس آپ کی بات نہیں سنتی؟

جواب:
ایک ہی چیز ہے، یعنی ایک میں آپ روپیہ استعمال کر لیتے ہیں، دوسرے میں اثر و رسوخ استعمال کر لیتے ہیں۔ دونوں باتوں میں کوئی فرق نہیں۔ اصل چیز یہ ہے کہ آپ دونوں سے کیا کام لے رہے ہیں۔ کیا آپ کسی کا حق مار کر اپنے آپ کو ترجیح دلوا دے رہے ہیں؟ زیادہ تر یہ ہی ہوتا ہے۔ جب یہ چیز بہت پھیل جاتی ہے تو اصل میں اور چیز وجود میں آتی ہے۔ پہلے مرحلے میں لوگ رشوت اپنی جائز خواہشات پوری کرنے کے لیے لیتے ہیں، لیکن جس وقت وہ روپیہ تقسیم ہو جاتا ہے، رشوت بڑے پیمانے پر پھیل جاتی ہے تو اس کے بعد لوگوں کے منہ کو خون لگ جاتا ہے، پھر وہ کوئی جائز کام بھی کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اب ان کی آمدنی کا ایک یہی بڑا ذریعہ ہے ۔ ایک جانب آپ ان کی آمدنی کے ذرائع محدود کرتے چلے جاتے ہیں، دوسری جانب لوگوں کے درمیان ایک بڑا تفاوت پیدا کرتے چلے جاتے ہیں۔ پھر ان کے لیے ایسے حالات پیدا کر رہے ہیں کہ نہ ان کے لیے تعلیم دلانا ممکن ہے، نہ ان کے لیے روٹی کمانا ممکن ہے اور نہ ہی ان کے لیے صحت کے مسائل حل کرنا ممکن ہے۔ اس صورت حال میں پھر کیا ہوتا ہے؟ پھر وہ جائز کاموں کے لیے بھی یہ سمجھتے ہیں کہ پیسے لینے چاہئیں۔ یہ ہی ان کی آمدنی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ میرے خیال میں پہلے رشوت کی تعریف کر لیں کہ رشوت اصل میں ہے کیا چیز؟۔۔۔ کسی ناجائز کام کرنے کے لیے روپیہ لینا اور دینا رشوت ہے، لیکن جب آپ کا حق تھا، آپ اسے لینے کے لیے گئے تھے تو وہ آپ کو ملنا چاہیے تھا، آپ کسی پر کوئی ناجائز ترجیح قائم نہیں کر رہے تھے، تو آپ بری الذمہ ہو گئے۔ سوال یہ ہے کہ اس کو جو لت آپ نے ڈالی ہے، وہ کیا ہے؟ اور اب وہ اس کے لیے مجبور ہے،پھر مجبوری تھوڑی دیر بعد خواہش بن جاتی ہے، اس کے بعد آدمی اسی پر نہیں رکتا کہ اچھا میرے بچے بھوکے تھے تو میں نے یہ کام کر لیا۔ اب اس کے بعد وہ کہتا ہے کہ میری جو کوٹھی بن گئی ہے۔ اب مجھے اس سے بڑی کوٹھی بنانی ہے۔ تو ایک cycle ہے جو پورے معاشرے میں چل رہا ہے۔ آپ سو سائٹی کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں تو ایک طرف آپ کو لوگوں کی فکر کی اصلاح کرنی چاہیے اور دوسری طرف ان کے سماجی حالات کی۔


جاويد احمد غامدي
مترجم : عبد اللہ بخاري


Counter Question Comment
You can post a counter question on the question above.
You may fill up the form below in English and it will be translated and answered in Urdu.
Title
Detail
Name
Email


Note: Your counter question must be related to the above question/answer.
Do not user this facility to post questions that are irrelevant or unrelated to the content matter of the above question/answer.
Share |


Copyright Studying-Islam © 2003-7  | Privacy Policy  | Code of Conduct  | An Affiliate of Al-Mawrid Institute of Islamic Sciences ®
Top    





eXTReMe Tracker