Powered by UITechs
Get password? Username Password
 
 ہوم > سوالات > سزائیں
مینو << واپس قرطاس موضوعات نئے سوالات سب سے زیادہ پڑھے جانے والے سوال پوچھیے  

قبر کا عذاب
سوال پوچھنے والے کا نام Tanveer
تاریخ:  15 جنوری 2007  - ہٹس: 1294


سوال:
قبر کے عذاب کے بارے میں قرآن کا کیا کہنا ہے؟

جواب:
قرآن مجید نے مرنے کے بعدکا جو قانون بیان کیا ہے۔ اس کو سمجھ لینا چاہئے۔ اس سے یہ بات بھی سمجھ میں آ جائے گی۔ قرآن مجید یہ کہتا ہے کہ انسانوں کی تین قسمیں ہو جائیں گی۔ یا مرتے وقت ہو جاتی ہیں۔ ایک وہ لوگ ہیں کہ جن کے سامنے حق آیا اور ہمیشہ اس کی قدر کی۔ نیکی ہی اختیار کی۔ سبقت لے گئے۔ غلطی بھی ہو گئی تو اس پر مصر نہیں ہوئے۔ اوراسطرح دنیا سے رخصت ہوئے جیسے انبیا ،صالحین رخصت ہوتے ہیں۔ یعنی جن کے بارے میں کوئی شبہ نہیں ہوتا۔ جیسے سيدنا ابو بکر و سيدنا عمر کی زندگی ہے۔ یا اللہ کی راہ میں کوئی آدمی مارا گیا ہے۔ اس نے آگے بڑھ کر اللہ کے لئے جان دے دی ہے۔ تو اس طرح کے جو لوگ ہیں ان کے بارے میں قرآن مجید یہ کہتا ہے کہ ان کی روحانی زندگی مرنے کے فوراً بعد شروع ہو جاتی ہے قرآن یہ کہتا ہے کہ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ (سورة آل عمران 169:3) یعنی اللہ کی نعمتیں ان پر ہوتی ہیں۔ اور یہ سلسلہ جاری کر دیا جاتا ہے۔ جسمانی حیات البتہ ان کو قیامت ہی میں ملے گی۔ جب اٹھایا جائے گا۔ یہ ایک روحانی زندگی ہے جو شروع ہوجاتی ہے۔ دوسرا extreme ہے۔ ابو جہل ، فرعون۔ یعنی جن کا اعمال نامہ واضح ہے۔ سرکشی ، عناد کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔ پیغمبروں کے اور حق کے مقابلے میں کھڑے ہو گئے۔ صاف صاف اعلان کر دیا۔ کوئی شبہ اور ابہام نہیں رہا۔ ان کے بارے میں قرآن مجید کہتا ہے کہ ان کے لئے ایک روحانی تعذیب شروع ہوجاتی ہے مرنے کے فوراً بعد اور جاری رہتی ہے جیسے فرعون کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ فرعون اور اسکے اہل خاندان جنہوں نے سیدنا موسی کے مقابلے میں سرکشی دکھائی۔ صبح شام آگ انکے سامنے پیش کی جاتی ہے۔ اور قیامت میں يُرَدُّونَ إِلَى أَشَدِّ الْعَذَابِ (سورة البقرة – 85:2) ان کے ساتھ معاملہ رہتا ہے۔ اب دونوں انتہاؤں کے درمیان ہیں۔ ہم لوگ ہیں۔ جن سے غلطیاں بھی ہو گئی ہیں۔ اچھائیاں بھی ہو گئیں ہیں۔ ایمان بھی ہے اس کے ساتھ پھسل بھی جاتے ہیں۔ تو اس طرح کے لوگوں کا معاملہ بین بین ہوتا ہے۔ یعنی یہ ضروری ہے کہ پہچان پھٹک کر بتایاجائے۔ کہ خیر غالب ہے یا شر۔ تو ایسے لوگوں کو سلا دیا جاتا ہے۔ اور قیامت میں اٹھنے کے بعد میزان لگے گی۔ اتمام حجت ہوگا پھر فیصلہ ہوگا کہ کیا معاملہ ہے ؟ پھر اگر خیر کا غلبہ ہوگا تو جنت میں چلے جائیں گے۔ شر کا ہوگا تو جہنم میں چلے جائیں گے۔ تو وہ جو دوسری extreme ہے ان کے لئے عذاب ہے۔ اور جو پہلی ہے ان کے لئے ثواب ہے۔ یہ بات ہے جو قرآن نے بیان کر دی۔ یعنی جن کا مقدمہ پیش کرنی کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے ساتھ معاملہ مرنے کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے۔


جاويد احمد غامدي
مترجم : عبد اللہ بخاري


Counter Question Comment
You can post a counter question on the question above.
You may fill up the form below in English and it will be translated and answered in Urdu.
Title
Detail
Name
Email


Note: Your counter question must be related to the above question/answer.
Do not user this facility to post questions that are irrelevant or unrelated to the content matter of the above question/answer.
Share |


Copyright Studying-Islam © 2003-7  | Privacy Policy  | Code of Conduct  | An Affiliate of Al-Mawrid Institute of Islamic Sciences ®
Top    





eXTReMe Tracker