Powered by UITechs
Get password? Username Password
 
 ہوم > سوالات > معاشرتی مسائل
مینو << واپس قرطاس موضوعات نئے سوالات سب سے زیادہ پڑھے جانے والے سوال پوچھیے  

خاوند کی اجازت کے بغیر پیسے لینا
سوال پوچھنے والے کا نام Shahina Iqbal
تاریخ:  30 ستمبر 2006  - ہٹس: 900


سوال:
اگر بیوی گھریلو اخراجات کے لیے خاوند کی کمائی میں سے اس کو بغیر بتائے پیسے استعمال کرتی رہے، تو کیا یہ ٹھیک ہے؟ کیونکہ خاوند ضروریات پوری نہیں کرتا - کیا یہ چوری کے زمرے میں تو نہیں آئے گا؟

جواب:
بیوی کے نان و نفقے کی ذمہ داری مرد پر ڈالی گئی ہے اگر کوئی آدمی واقعی اپنی اس ذمہ داری کو پورا نہیں کرتا تو حضورۖ سے جب پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ تم اپنے خرچ کے لیے بغیر پوچھے لے سکتی ہو اس کو چوری نہیں کہاجائے گا - یہ خاوند کی ذمہ داری تھی- لیکن اس کو جواز بنا کر آپ اس سے ناجائز فائدہ اٹھائیں اور جو جی چاہے کرنا شروع کر دیں تو اس کی ذمہ داری اللہ کے پیغمبر پر عاید نہیں ہوتی، اللہ بہر حال نیتوں کا حال جاننے والا ہے-


جاويد احمد غامدي
مترجم : عبد اللہ بخاري


Counter Question Comment
You can post a counter question on the question above.
You may fill up the form below in English and it will be translated and answered in Urdu.
Title
Detail
Name
Email


Note: Your counter question must be related to the above question/answer.
Do not user this facility to post questions that are irrelevant or unrelated to the content matter of the above question/answer.
Share |


Copyright Studying-Islam © 2003-7  | Privacy Policy  | Code of Conduct  | An Affiliate of Al-Mawrid Institute of Islamic Sciences ®
Top    





eXTReMe Tracker