مذہبی تناظر میں ذکر کا مطلب ہے اللہ کی یاد۔ مطلوب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو ایک مومن کے شب و روز اپنے خالق کی یاد میں بسر ہوں۔ اس کی صبحیں بھی اسی کی یاد سے آباد اور اس کی شامیں بھی اسی کی یاد سے روشن ہوں۔ اپنے مالک کی یاد جہاں ایک طرف بندے کا تعلق اس سے مضبوط کرتی اور برائی سے بچانے میں ایک قابل اعتماد ڈھال ثابت ہوتی ہے وہیں دوسری طرف اسے سکون اور طمانیت بھی نصیب کر تی ہے۔
ذکر کی بہت سی اقسام ہیں۔ ان میں اہم ترین نماز ہے۔ اس کے علاوہ تلاوت قرآن ، اللہ کے حضور دعا اور طلب استغفار ، اس کی شکر گزاری ، اس کی صفات و سنن کا استحضار ، احادیث میں بیان کردہ روزمرہ کی دعائیں اور موقع بہ موقع کلمات شکر کی ادائیگی بھی بلاشبہ ذکر کے نمایاں اقسام میں سے ہیں۔ تا ہم ذکر کے ثمرات کا حصول تبھی یقینی بنتا ہے جب انسان کو معلوم ہو کہ وہ اللہ سے کیا کہہ رہا ہے یعنی دعاؤں کے مطالب اور کلمات کے مفہوم پر اس کی پوری نظر ہو۔
فی زمانہ مسلمانوں کے ہاں ذکر اپنے مطلوبہ ثمرات پیدا کرنے سے قاصر نظر آتا ہے اور ہمارے خیال میں اس کے دو اسباب ہیں:
1۔ اولا یہ کہ ذکر کرتے ہوئے لوگ گننے پر زیادہ توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔ یہ بات جڑ پکڑ چکی ہے کہ فلاں کلمات اتنی دفعہ کہنے ہی سے ثمرات پیدا ہوتے ہیں۔ چنانچہ ایک ذاکر کی نظر میں تعداد پوری کرنا پہلے نمبر پر اور ذکر سے اللہ کی یاد حاصل کرنا دوسرے نمبر پر چلا جاتا ہے۔ اور اس طرح ذکر گویا ایک مکینیکل عمل بن جاتا ہے۔
2۔ ثانیا یہ کہ ذکر کے بارے میں یہ عام تصور بن گیا ہے کہ یہ ایک اجتماعی شکل رکھتا ہے۔ لوگ خاص طور پر خواتین ایک جگہ مجتمع ہوکر خاص کلمات خاص تعداد میں دہراتے ہیں۔ یہ ذکر کی ایسی صورت ہے جس کا کوئی ثبوت نبیۖ کے زمانے میں نہیں ملتا۔ حضورۖ کے زمانے میں ذکر کی اجتماعی شکل صرف نماز تھی۔ باقی تمام اقسام انفرادی عبادت کا موضوع تھیں۔ اصل میں تنہائی ہی میں انسان اللہ سے حقیقی لو لگا سکتا ہے جبکہ اجتماعیت میں ریا کاری اور دکھاوا بھی دبے پاؤں چلا آتا ہے۔
اس لیے یہ ضروری ہے کہ ذکر کی وہی صورت اپنائی جائے جس سے دل و دماغ اور روح و قلب دونوں پوری طرح مستفید ہوں اور مطلوبہ نتائج سے بھی انسان محروم نہ ہو۔
(اداریہ شہزاد سلیم ۔ رینیساں‘اگست 2002 )
ترجمہ: صديق بخاري
|