Powered by UITechs
Get password? Username Password
 
مینو << واپس ہوم نیۓ مضامین سب سے زیادہ پڑھے جانے والے سب سے زیادہ ریٹ کیۓ جانے والے
گاڈ نبھانا بڑا مشكل ہے مشكل ہے .....
مصنف: Dr.Henna Khan. Vice Chair Faith Partnership  (hkhan135@aol.com) پوسٹر: studyingislamuk
ہٹس: 1083 ریٹنگ: 0 (0 ووٹ) تاثرات: 0 تادیخ اندراج:   29 مارچ 2009 اس مضمون کو ریٹ کریں

 

ہم نے سوچا ہم بھي 'انٹر فيتھ' كے اس پليٹ فارم سے فائدہ اٹھايں اور خدا نا آشناي كے اس دور ميں ان لوگوں كے ساتھ مل كر خدا كا پرچار كريں جو اس بڑھتے ہوے سيكولرسم كے فيشن ميں بھي خدا كي ياد اپنے دلوں ميں بساے ہوئے ہيں۔ آس كے ليے جب ہم نے تحقيق كي تو معلوم ہوا كہ چند علاقائي تنظيميں پہلے سے موجود ہيں جو "فيتھ پارٹنر شپ" يا "فيتھ فورم" كہلاتي ہيں۔ڈھونڈتے ڈھونڈتے ہم ان تك پھنچے تو ہميں اس تنظيم كي طرف سے خوب پذيراي ملي۔ سينير ريورينڈ نے ہميں 'خوش گوار تاذہ ہوا كا جھونكا' كہ كر ہماري باچھيں بھي كھلا ديں اور ھماري حوصلہ افزاي بھي فرمائي اور كہا كہ ان كي تنظيم تو كسي مسلمان نمائندہ كي تلاش ميں تھي كيونكہ كچھ عرصہ پہلے مسجد سے كوئي صاحب آئے تھے مگر مسجد كے چند پاركنگ وغيرہ كے مسائل اور اسلام كي تمام مزاہب پر برتري پر تقرير جھاڑ كر يوں تشريف لے گيے كہ پھر پلٹ كر آج تك واپس نہ آئے۔ ہميں تو جيسے كھويا ہوا ميدان مل گيا اور ہم نے پكا ارادہ كر ليا كہ ان خدا پرور لوگوں اور اپني سٹيڈينگ اسلام اور رينايسنس كي ٹيم كے ساتھ مل كر اندھيرے ميں بھٹكتي ہوئي انسانيت كو تاريكيوں سے نكال كر روشني كا سفر كرانا ہے چاہے اس كے ليے وقت اور مال كي يا جس قسم كي قرباني بھي ديني پڑے۔

 

ہم نے اپنے تمام وسائل اور ديني اور سماجي تعلقات سے رابطہ كيا اور انھيں اس كام كي اھميت سمجھانے ميں مصروف ہوگيے۔ كچھ نے ہماري اس كوشش كي داد رسي كے كچھ نے كہا "ڈو بتوں كے ساتھ خود بھي ڈوب جاؤ گي بي بي" كچھ نے كہا كام تو اچھا ہے مگر حق كو جاننے كا پہلا حق صرف اپنے مسلمان بہن بھائيوں كا ہے۔ كچھ اور محلے كي خواتين نے حيرت كا اظہار كيا كہ ہم تو ڈاكٹر ہيں اور ڈاكٹروں كے پاس اتنا وقت كيں كر اور كيسے كہ وہ يہ غم پاليں۔ ان كے خيال ميں يقينا ہميں كسي حكومتي ادارے يا كسي اور تنظيم سے بھاري گرانٹ ملي ہو گي جو ہم اس كام كا بيڑہ اٹھانے جا رہے ہيں۔ ہمارے پاس ان تمام باتوں كو ايك كان سے سن كر دوسرے كان سے نكالنے كے سوا اور كوئي چارہ نہ تھا۔ ورنہ ہم كبھي اس كام كي ابتدا نہ كر سكتے جو ہم نے محض اللہ تعالي كي برتر ذات كے بھروسے اور اپنے اردگرد بسنے والے انسانوں كي محبت ميں كر ڈالا۔

 

اور ہمارے استاد محترم نے نہايت دانش وري اور حسن طريقت سے كچھ تھوڑا سا دامن پكڑاتے اور زيادہ چھڑاتے ہوئے يہ كہا كہ جس قدر وقت اور وسائل ہم ذاتي طور پر اس كام كو دے سكتے ہيں، ديں، كيونكہ وہ اپنے علمي اور تحقيقي كام ميں سر تا پير مصروف ہيں۔ مگر رسائل اكتب اور ويب سائٹ كے استعمال ميں ہم سے بھرپور تعاون كيا اور كوئي روك ٹوك يا پوچھ گچھ نہيں كي بلكہ اكثر حوصلہ افزاي بھي فرمائي جس سے ہمارے قدم دوگني رفتار سے چل پڑتے۔

 

شروع شروع ميں تو فيتھ پارٹنرشپ كے ساتھيوں نے بھي بڑي آو بھگت اور داد رسي كي ليكن آہستہ آہستہ ہميں اندازہ ہونا شروع ھوا كہ جس طرح ہم ان كي ميٹنگس ميں بھرپور طريقے سے اپنا دل كھول كر ركھ ديتے اور پچھلے پيغمبروں اور خدا كي طرف سے آئي ہوئي ہدايت كي بات كرتے، تو ان كے چہرے كے رنگ بدلتے رہتے۔ جب ہم بائبل اور تورات كا تذكرہ كرتے، تو يقيني بات ہے قرآن كا بھي تذكرہ ہوتا۔ مگر ہمارے عيسائي اور يہودي فيتھ پارٹنرز كو اس كي كوئي خوشي نا ہوتي۔ بلكہ ہم نے محسوس كيا كہ وہ اس گفتگو كو دبانے اور ٹالنے كي كوشش كرنے لگے۔ ہمارے يہودي ساتھي نے تو چند ہي ميٹنگس كے بعد آنا چھوڑ ديا۔ ھمارے پوچھنے پر يہ كہا كہ پارٹنر شپ كے انچارج، جن كا تعلق عيسائي مذہب سے ہے انہيں ميٹنگس كے بارے ميں بتاتے نہيں اور ياد دہاني كے با وجود انہيں اي ميل ميں شامل نہيں كرتے۔ عيسائي ساتھي اسلام اور قرآن كے ديئے ہوئے آخرت كے تصور سے نالاں تھے كہ آخر آخرت كے يقيني ہونے كے بارے ميں اتنے وثوق سے كيسے كہا جا سكتا ہے۔

 

ہمارے ہندو اور سكھ فيتھ پارٹنرز كي يہ بحث تھي كہ كتابوں اور پيغمبروں سے زيادہ تہذيب اور روايات اہم ہيں۔ آہستہ آہستہ ہم نے يہ ديكھا كہ ہماري ميٹنگس كي كايا پلٹنے لگي۔ ايمان كي بجائے ہمارے براہما كماري اور بدھ مت ساتھيوں كے لاے ہوے روحانيت كے تصور كو سراہا جانے لگا۔ چند ساتھيوں نے ايمان كي بجائے روحانيت كا ٹايٹل لگانے كو مناسب سمجھا تاكہ كام كے ليے فنڈ ملنے ميں دشواري كا سامنا نہ كرنا پڑے۔ ہم جو ' ہوا كے خوشگوار جھونكے " كي طرح آئے تھے۔ اگرچہ ہماري پارٹنر شپ اب بھي قائم ہے اور ہم ايك دوسرے كو اپنے تقريبات ميں دعوت ديتے اور شامل كرتے ہيں، اور ہم آنے والے كل ميں اس كي بہتر كار كردگي سے مايوس بھي نہيں مگر ہميں ان چند سالوں ميں يہ بات اچھي طرح سمجھ آگئي كہ جو نظام كسي بھي طرح كي پابنديوں كے ساتھ آئے وہ چند ہي لوگوں كو گوارہ ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں ميں "گاڈ گاڈ گاڈ گاڈ كہنے كو تو سب كہتے ہيں

 

 

گاڈ نبھانا بڑا مشكل ہے مشكل ہے .....


 
Share |


Copyright Studying-Islam © 2003-7  | Privacy Policy  | Code of Conduct  | An Affiliate of Al-Mawrid Institute of Islamic Sciences ®
Top    





eXTReMe Tracker