سائنس كا صحيح يا غلط استعمال واعملو صالحا اني بما تعملون بصير اوپر كے ٹكڑے ميں اس فن كو زيادہ سے زيادہ ترقي دينے اور اس كے استعمال كي حوصلہ افزائي فرمائي گئي ہے - اس ٹكڑے ميں اس فن كا اخلاقي تقاضا بيان ہوا ہے كہ اس كو پا كر بہك نہ جانا اور اس كو زمين ميں فساد كا ذريعہ نہ بنانا بلكہ اس بات كو برابر ياد ركھنا كہ جو كچھ بھي تم كرتے ہو اللہ اس كو ديكھ رھا ہے - يہ ہدايت اللہ تعالي نے حضرت داؤد اور ان كے تمام آل و اتباع كو فرمائي- اس كا ذكر بار بار زبور اور امثال ميں بھي آيا ہے- اس زمانے ميں انسان نے سائنس ميں جو ترقي كي ہے اس سے انكار نہيں كيا جا سكتا كہ اس سے بڑے بڑے فائدے پہنچے ہيں اور پہنچ سكتے ہيں- ليكن دو باتيں انسان بھول گيا ہے- ايك يہ كہ سائنس كا ہر انكشاف جو ہوا ہے اللہ تعالي كي رہنمائي سے ہوا ہے - دوسري يہ كہ ہر نعمت اور ہر قوت كا بديہي تقاضا ہے كہ انسان اس كو خدا كي امانت سمجھے اور يہ ياد ركھتا ہوا اس كو استعمال كرے كہ جس خدا نے يہ بخشي ہے وہ ديكھ رھا ہے كہ ميں اس كو كہاں استعمال كرتا ہوں - ان دو حقيقتوں كے فراموش كر دينے كي وجہ سے اب سائنس انسان كے ليے ايك عظيم خطرہ بن گئي ہے اور نہيں كہا جا سكتا كہ انسان اپنے ہي ايجاد كيے ہوے اصلحہ سے كب خود كشي كر لے- تفسير سورہ سبا آيت ١٠-١١ تدبر قرآن دسمبر١٩٧٤
|