Powered by UITechs
Get password? Username Password
 
مینو << واپس ہوم نیۓ مضامین سب سے زیادہ پڑھے جانے والے سب سے زیادہ ریٹ کیۓ جانے والے
تيرا آئينہ ہے وہ آئينہ.......
مصنف: حنا خان  (hkhan135@aol.com) پوسٹر: studyingislamuk
ہٹس: 1868 ریٹنگ: 0 (0 ووٹ) تاثرات: 0 تادیخ اندراج:   7 اگست 2008 اس مضمون کو ریٹ کریں

'فحشاء' اور 'منكر' كے دو لفظوں نے اخلاقي مفاسد كے تمام پہلو اپنے اندر سميٹ ليے ہيں۔ بہت سي برائياں ايسي ہيں جو شہواني جذبات كي بے اعتدالي يا ان كے انحراف سے وجود ميں آتي ہيں اور پھر آہستہ آہستہ پورے معاشرے كو اس طرح بے حيا بنا ديتي ہيں كہ لوگوں كے اندر سے بے حيائى كا احساس ہي مٹ جاتا ہے۔ ماضي كي قوموں ميں سے اس كي مثال كے طور پر قرآن نے قوم لوط كا ذكر كيا ہے۔ حضرت لوط نے اپني قوم كے ليے 'فاحشہ' كا لفظ استعمال بھي فرمايا ہے۔ اس زمانے ميں جديد فكر و فلسفہ اور تہذيب كي بركت سے بے حيائى و فحاشي كي جو نت نئي شكليں وجود ميں آئى ہيں اور برابر آ رہي ہيں ان كے مقابل ميں قوم لوط كي بے حيائى بالكل گرد ہو كے رہ گئى ہے اور جن لوگوں كي نظر حالات پر ہے وہ جانتے ہيں كہ اب ہمارا معاشرہ بھي پوري طرح ان كي لپيٹ ميں آ چكا ہے اور آہستہ آہستہ لوگوں كا ضمير اس طرح مردہ ہوتا جا رہا ہے كہ ہماري قوم كا بہت بڑا طبقہ' جو ہماري بد قسمتي سے تعليم يافتہ بھي كہلاتا ہے, ان بے حيائيوں كو بے حيائى سمجھنا تو در كنار ان كو تہذيب و ترقي كا لازمہ سمجھنے لگا ہے اور جو لوگ ان پر تنقيد كرتے ہيں ان كو احمق اور دقيانوسي قرار ديتا ہے۔

دوسري برائياں وہ ہيں جو طمع و حرص كي بے اعتدالي اور حب مال و جان كي زيادتي سے آتي ہيں۔ ان كے ليے يہاں جامع لفظ منكر استعمال ہوا ہے۔ يہ لفظ معروف كا ضد ہے اس وجہ سے وہ تمام برائياں اس ميں شامل ہيں جو ايك صالح معاشرے كي پاكيزہ روايات اور اس كے معروف مسلمات كے خلاف ہوں۔

تدبر قرآن. تفسير سورہ عنكبوت آيت نمبر ٤٥

 
Share |


Copyright Studying-Islam © 2003-7  | Privacy Policy  | Code of Conduct  | An Affiliate of Al-Mawrid Institute of Islamic Sciences ®
Top    





eXTReMe Tracker