Powered by
UI
Techs
Get password?
Username
Password
ہوم
>
مضامین
>
تنقید
>
تنقید
مینو
<< واپس
ہوم
نیۓ مضامین
سب سے زیادہ پڑھے جانے والے
سب سے زیادہ ریٹ کیۓ جانے والے
"... قال رسول للہ صلي"
مصنف:
ڈاكٹر حنا خان
(hkhan135@aol.com)
پوسٹر:
سٹڈينگ اسلام يو كے
ہٹس:
1513
ریٹنگ:
0 (0 ووٹ)
تاثرات:
0
تادیخ اندراج:
7
جولائی
2008
اس مضمون کو ریٹ کریں
ڈاكٹر صاحبہ۔ اگر كوي بيوہ يا مطلقہ خاتون ہوں تو بتايے گا۔ كسي كے ليے۔ بلكہ ميرے ہي ليے سمجھ ليں۔" "جي؟" ميري حيرت كي انتہا نہ رہي۔ " مگر آپ تو كہ رہے تھے پاكستان ميں آپ كي بيگم اور ٩ بچے ہيں اور آپ يہاں صرف چند ماہ كے ليے كام كرنے آئے ہيں تاكہ بچوں كے سكول كي فيسيں اور ديگر اخراجات ميں كچھ مدد ہو جائے ۔" ميں نے حيرت سے اور طنز سے پرہيز كرنے كي كوشش كرتے ہوئے پوچھا۔
ليكن ڈاكٹر صاحبہ۔ميري بيوي نے خود ہي اجازت دے دي ہے۔ جب ميں نے اسے بتايا كہ اگر ميں يہاں شادي كر لوں اور اس وجہ سے مجھے نوكري اور ويزا مل جائے تو ہمارے دن پھر سكتے ہيں۔ اور وہ دراصل ڈاكٹر فرحت ہاشمي كا درس بھي سن كر آئي ہيں جس ميں انہوں نے عورتوں كو نصيحت كي ہے كہ اپنے شوہروں كو ٢,٢ اور ٤,٤ شادياں كرنے ديں تاكہ معاشرے ميں بڑھتي برايوں كا خاتمہ ہو۔"
"ليكن اسلام ميں چار شاديوں كي اجازت نہيں۔ يہ حكم خاص حالات سے متعلق ہے جن ميں جہاد اور يتيموں كي پرورش سر فہرست ہے۔" ميں نے اميد كا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنے كي كوشش كرتے ہوئے كہا كہ شايد ميري بات ان بھائي صاحب كي سمجھ ميں آ جائے ۔ " جي تو جہاد تو آج بھي ہو رہا ہے افغانستان ميں۔ " وہ بھائي صاحب' جو كام تلاش كرنے كے سلسلے ميں ہمارے پاس پوچھنے آئے تھے 'بڑے اطمينان سے بولے۔ " ہائيں؟ " ميري حيرت كي انتہا نہ رہي۔ كوئي شخص اتني بھي بے سر و پا بات كر سكتا ہے ۔ "بھائي صاحب جہاد تو افغانستان ميں ہو رہا ہے' مگر آپ تو برطانيہ ميں بياہ كرنا چاہ رہے ہيں ۔" اس بات كا ان كے پاس كوئي جواب نہ تھا سوائے اس كے كہ انہوں نے ايك اور "قال رسول للہ" كا سلسلہ شروع كر ديا۔
مگر آپ كو تو موجودہ بچوں كا پالنا اس قدر مشكل لگ رہاہے۔ آپ مزيد شادي كي ذمہ داري كيسے نبھايں گے؟" "جي ان كا بھي رازق اللہ ہو گا اور آنے والوں كا بھي اللہ ہو گا۔" وہ صاحب اطمينان سے بولے۔
اور ميں خالي نظروں سے سڑك پر نظريں جمائے كار كي رفتار سست كرتے ہوئے سوچ رہي تھي كہ ہم كب تك "قال رسول للہ" كو اپني خواہشات پوري كرنے كے ليے استعمال كرتے رہيں گے ۔ " مجھے بتايے گا آپ كو كہاں اترنا ہے۔" اب ميرے لہجے ميں كچھ مايوسي اور بيزاري كي جھلك نماياں ہو رہي تھي جسے ميں نہ چاہتے ہوئے بھي چھپانے ميں ناكام رہي۔ بعد ميں ان صاحب نے مجھ سے "قال رسول للہ" كے عنوان كے تحت داڑھي كو صاف اور نفيس ركھنے پر بھي بحث كي كہ نبي ص نے كبھي داڑھي كا ايك بال بھي نھيں كترا اس ليے يہ جس رخ پر چاہے اگے ۔ چاہے چونچيں لٹكتي رہيں اور ديكھنے والوں كو جتني ہي بے ڈھنگي لگے۔ فرشتے جو عرش كے گرد گھومتے ہيں ' ايسي داڑھي ركھنے والوں كے ليے مسلسل دعا كرتے رہتے ہيں.... اور اسي قسم كي بركتيں شلوار قميض "سنت" كے طريقے پر پہننے والوں كے ليے بتايي گيئ ہيں۔"
اور ميں دل ہي دل ميں درود شريف پڑھتي رہ گيئ ۔ "اچھا ۔لگتا ہے اب آپ كي منزل آ گيئ ہے ۔ انشا للہ اس عنوان پر پھر گفتگو رہے گي ۔آپ ہمارے پاكستان ويلفير كے فيملي كلب ميں تشريف لايئے گا ۔ اللہ حافظ ۔ "
Share
|
Copyright
Studying-Islam
© 2003-7 |
Privacy Policy
|
Code of Conduct
|
An Affiliate of
Al-Mawrid Institute of Islamic Sciences ®
Top