مذہب اور تشدد
Question asked by .. Posted on: Wednesday, September 16, 2009 - Hits: 3732
|
سوال
مذہب پر ایک بڑا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ یہ نفرت انگیزی پیدا کرتا ہے۔ مذہبی لڑائیاں بہت ہوتی ہیں، انتہا پسندی مذہب سے پیدا ہوتی ہے۔ لوگ مذہب کے معاملے میں دوسروں پر تشدد کرتے ہیں۔ کیا واقعی میں مذہب اس کا ذمہ دار ہے؟
|
|
|
جواب
مذہب تو یقینا اس کا ذمہ دار نہیں ہے۔ اصل میں تو انسان کی خواہشات اور اس کے تعصبات یہ کام کرتے ہیں۔ انسان کے اندر چونکہ انحراف کی بڑی غیر معمولی صلاحیت ہے، جس وجہ سے وہ بعض اوقات مذہب جیسی مقدس اور پاکیزہ چیز کو بھی اس کے لیے استعمال کر لیتا ہے۔ جو چیز بھی اثر انگیز ہوگی اور انسانی شخصیت پر جس کی گرفت ہوگی، اس کو استعمال کر لیا جائے گا۔ چنانچہ ان نفرتوں کے لیے انسان نے قومی تعصبات کو بھی استعمال کیا ہے، انسان نے اپنے آدرشوں اور نصب العین کو بھی استعمال کیا ہے۔ پچھلی صدی کی ابتدا میں انسان نے یہ تصور دیا کہ ہم انسانوں کی بہتری کے لیے ایک ایسا نظام بنانا چاہتے ہیں، جس میں ملکیت کے ذرائع ختم کر دیے جائیں۔ اس میں لاکھوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ غریبوں کے مسئلے کو حل ہونا چاہیے، یہ بات تو بڑی اچھی ہے لیکن اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے آپ نے ایک نظام کا تصور قائم کیا اور پھر اس کو قائم کرنے کے لیے آپ تلوار لے کر کھڑے ہوگئے۔ یہ ایک صحیح چیز کا غلط استعمال ہے۔ اس طرح کا غلط استعمال مذہب کا بھی ہو جاتا ہے۔ ہمیں دیکھنا چاہیے کہ کیا ہم نے مذہب کے معاملے میں لوگوں کو educate کیا ہے؟ یقینا نہیں کیا۔ اگر کیا ہوتا تو اس طرح کے مسائل کبھی جنم نہ لیتے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تو اس بات کا بڑا غیر معمولی اہتمام کیا ہے کہ لوگ مذہب کو غلط استعمال نہ کر سکیں۔ لیکن ہم نے اس اہتمام سے فائدہ ہی نہیں اٹھایا۔ اس لیے کہ آپ جتنا جی چاہیں اہتمام کر لیں، اعلیٰ سے اعلیٰ علم لوگوں کے سامنے رکھ دیں، اگر آپ نے لوگوں تک اس کو پہنچانے کا اہتمام نہیں کیا تو اس کے نتیجے میں کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔ طب کی اعلیٰ سے اعلیٰ کتابیں لکھ کے دے دیجیے اور ان کو لائبریری میں رکھ دیجیے، اگر آپ نے اپنی قوم کو educate کر کے اچھے ڈاکٹر پیدا کرنے کا اہتمام نہیں کیا تو عطائی راج کریں گے اور وہ لوگوں کی زندگی سے کھیلیں گے۔ یہی صورت حال مذہب میں ہے۔
جاوید احمد غامدی
ترتیب و تہذیب ، شاہد محمود
|