Powered by UITechs
Get password? Username Password
 
Menu << Go Back Home New Questions Popular Questions Ask a  Question

بیوی اور کھانا پکانا
Question asked by ..
Posted on: Tuesday, April 15, 2008 - Hits: 649


سوال
اگر گھر میں صرف میاں بیوی رہتے ہوں اور بیوی بغیر کسی وجہ کے کہے کہ میں کھانا نہیں پکاؤں گی، باہر سے لیکر آئيں اور وہ اس کو معمول بنالے تو کیا شوہر کو اس مطالبے کو پورا کرتے رہنا چاہيے یا اسے تادیب کا اختیار ہے؟

جواب
عورت گھر کا نظم سنبھالے گی اور مرد باہر کا، یہ ہماری سوسائٹی کا عرف ہے۔ اس میں شریعت مداخلت نہیں کرتی۔ ہر سوسائٹی کا اپنا ایک معروف ہوتا ہے اور اس کے تحت لوگ معاملہ انجام دیتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں یہ ہوتا ہے کہ مرد باہر کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہیں اور خواتین گھر کی، تو یہ تقسیم صدیوں سے چلی آرہی ہے البتہ موجودہ زمانے میں مجروح ہوئی ہے کیونکہ خواتین بھی معاشی سرگرمیوں میں جانے لگی ہیں، اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہمارے سسٹم میں بہت تغیر و تبدل ہو رہا ہے۔ یہ شریعت کا مسئلہ نہیں بلکہ سوسائٹی کے معروف کا مسئلہ ہے اور سوسائٹی کے معروفات میں اصل چیز یہ ہے کہ باہمی موافقت سے گھر چلایا جائے۔ البتہ مرد کو چونکہ گھر چلانے کی انتظامی ذمہ داری بھی دی گئی ہے تو مرد اگر محسوس کرتا ہے کہ کھانا نہ پکانے کے اصرار سے گھر کا نظم مجروح ہو رہا ہے تو وہ عورت کو مناسب تادیب کر سکتا ہے اور یاد رہے کہ تادیب کے مراحل ہیں جنہیں شریعت کی روشنی میں استعمال کرنا چاہیے۔

علامہ جاوید احمد غامدی
ترتیب و تہذیب، عمر فاران بخاری


Counter Question Comment
You can post a counter question on the question above.
You may fill up the form below or click here to send via email.
Title
Detail
Name
Email


Note: Your counter question must be related to the above question/answer.
Do not use this facility to post questions that are irrelevant or unrelated to the content matter of the above question/answer.

Share |


Copyright Studying-Islam © 2003-7  | Privacy Policy  | Code of Conduct  | An Affiliate of Al-Mawrid Institute of Islamic Sciences ®
Top    





eXTReMe Tracker