Powered by UITechs
Get password? Username Password
 
 
1 2 3 4
Next page >>
Page 1 of 4

  Reply to Topic    Printer Friendly 

AuthorTopic
isfi22

PAKISTAN
Topic initiated on Saturday, July 31, 2010  -  10:18 AM Reply with quote
Revolution


ہمارے ہاں انقلاب سیاسی اقتدار کی تبدیلی کو سمجھ لیا گیا ہے ۔ لوگوں کا خیال ہے کہ سیاسی اقتدار کی کرسیوں اور سماجی تنظیم کی کنجیوں کے ایک طرح کے ہاتھوں سے نکل کر دوسرے طرح کے ہاتھوں میں چلے جانے کا نام سماجی انقلاب ہے۔ یہ انقلاب کا نہایت فرسودہ اور محدود تصور ہے ۔ انقلاب مکمل تبدیلی اور کامل تغیر کا نام ہے ۔ انقلاب کسی سماج میں اس وقت برپا ہوتا ہے جب اس کے افراد و اجزا کے فکر و سوچ اور رہن سہن اور نصب العین و مقاصدِ حیات سے لے کر اس کے سماجی نظم اور زندگی کے تمام شعبوں میں تبدیلی واقع ہوجائے ۔ لوگوں کی سوچ اور ذہنیت تبدیل ہوجائے ۔ ان کا اٹھنا بیٹھنا اور رہنا سہنا اور چلنا پھرنا ایک نئے انداز پر ڈھل جائے ۔ ان کے معاملات کے ڈھنگ بالکل بدل جائیں ۔ ان کی اقدار و اخلاقیات مکمل تبدیلی سے دوچار ہوں ۔ اور یہ تبدیلی و تغیر درجہ بدرجہ ان کے اجتماعی نظام اور سماجی شعبوں میں بھی نمایاں اور ظہور پذیر ہو۔ محض سیاسی اقتدار کی تبدیلی اور قانون و نظام کی شکست و ریخ اور تشکیلِ نو کو انقلاب کا نام دینا نری سطحیت ہے ۔


اس طرح جب آپ اپنے فکر و نظریے کی قوت افرادِ سماج کی ایک قابلِ قدر تعداد پر ثابت کر دیتے اور ان کو اپنا ہمنوا و حامی بنالینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں ۔ پھر وہ وقت آتا ہے جب خود افرادِ سماج اس فکر و نظریہ سے بغاوت و انحراف پر مبنی ماحول و نظام کو برداشت کرنے کے روادار نہیں رہتے اور بالکل فطری طریقے سے اس سماج میں خوبیاں جڑ پکڑ تی اور خرابیاں دم توڑ تی چلی جاتی ہیں ۔ آہستہ آہستہ وہ فکر و نظریہ اور اس کی بنیاد پر وجود میں آنے والا ماحول و نظام سماج میں رائج ماحول و نظام کو دیس نکالا دینا اور اس سماج کی زندگی سے باہر نکالنا شروع کر دیتے ہیں ۔ اس طرح بالکل نیچرل اور پائدار طریقے سے کوئی فکر و نظریہ کسی سوسائٹی میں اپنی جڑ یں جماتا اور مضبوط بناتا ہے اور دھیرے دھیرے آنے والا یہ انقلاب ایک دن اس مقام تک جاپہنچتا ہے کہ افرادِ معاشرہ کی اکثریت اور ان کے مؤثر و مقتدر طبقات سب اس فکر و نظریہ کے علمبردار بن جاتے اور اس پر مبنی ماحول و نظام کے طالب و متمنی نظر آتے ہیں اور پھر اس سوسائٹی میں اپنے آپ بغیر کسی جبر و ا کراہ اور جنگ و تشدد کے کسی دوسرے فکر کا غالب رہنا اور اس پر مبنی ماحول و نظام کا چلنا محال و ناممکن ہوجاتا ہے ۔


اس مذکورہ خاکے اور نقشے کی روشنی میں خدا کے آخری جلیل القدر پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی، سیرت اور آپ کے طریقۂ کار کا جائزہ لیجیے تو آپ کو واضح طور پر نظر آئے گا کہ بالکل اسی طرح سب سے پہلے اسلام کی بنیادی دعوت اور توحید و رسالت و آخرت کا پیغام ہے جو اس وقت لوگوں کے سامنے پیش کیا گیا۔ بار بار کیا گیا۔ ہر ہر زاویے اور پہلو سے کیا گیا۔ اس کے حوالے سے لوگوں کے شکوک و شبہات اور مخالفین کے پیدا کردہ اعتراضات و شوشہ جات کا اطمینان بخش جواب دیا گیا۔ اس اولین مرحلے میں ہر طرح کا ظلم و ستم ہوا۔ قتل و غارت گری کا نشانہ بنایا گیا۔ وحشت و بربریت کا شکار کیا گیا، لیکن خدا کے پیغمبر اور آپ کے اصحاب سراپا صبر و عزیمت اور امن و آشتی بنے رہے ۔ پھر جب اسلام کی دعوت وقت کے ساتھ ساتھ پھیلتی چلی گئی اور سوسائٹی کی ایک بڑ ی تعداد اس کی حامی و پشت پناہ بن گئی تو بالکل فطری نتیجے کے طور پر اس سماج میں اسلامی حکومت ابھرتی چلی گئی تاآنکہ مدینہ میں پہلی اسلامی ریاست خدا کے رسول کی سربراہی میں قائم ہوگئی۔ اس کے علاوہ کفار سے جو جنگیں اور غزوات پیش آئے اور وہ جس طرح ذلیل و مغلوب کیے گئے ، اُس میں جہاں امتِ پیغمبر کے لیے بہت کچھ ہدایت و نمونہ موجود ہیں وہیں اس کا ایک بہت بڑ ا حصہ رسول اللہ کی حیثیتِ رسالت کے ساتھ مخصوص اور آپ کا اور آپ کے براہِ راست مخاطبین و مومنین صحابۂ کرام کا استثنائی معاملہ ہے ۔ آپ خدا کے رسول تھے ۔ رسالت کے قانون کے مطابق آپ کے مخاطبین کو حق کے آخری درجے میں واضح ہوجانے کے بعد بطورِ عذاب و سزا مغلوب و مفتوح کیا گیا اور صحابۂ کرام کو وقت کی سلطنت و فرمانروائی کے بڑ ے بڑ ے تخت و تاج کا مالک بنایا گیا۔


تاہم اس مذکورہ تفصیل سے یہ بات پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ کسی سوسائٹی میں اسلام کو غالب کرنے کا نقشہ و لائحۂ عمل کیا ہونا چاہیے ۔ یقینا کسی قسم کی سیاسی زور آزمائی اور الیکشنی تگ و دو اس کا کوئی درست راستہ نہیں ہے ۔ بلکہ اس کا واحد درست راستہ تعلیم و تربیت اور اسلام کے بنیادی پیغام کی پرامن ذرائع سے فطری و عقلی استدلال کے ساتھ بار بار اور ہر ہر سطح پر پیغام رسانی ہے ۔ اس سلسلے میں لوگوں کے خدشات و سوالات کا جواب دینا ہے ۔ معاندین کے اعتراضات و شبہات کو رفع کرنا ہے ۔ اسلامی تعلیمات کی نافعیت و برتری کو مبرہن کرنا ہے ۔ اور یہ بتانا اور ثابت کرنا ہے کہ اسلام ترقی اور ایڈوانس منٹ کا مخالف نہیں بلکہ رہبر و رہنما ہے ۔ وہ ہر اچھی اور نافع چیز کو اپنانے اور ہر معقول و مثبت تجربے سے فائدہ اٹھانے کی نہ صرف تلقین کرتا ہے بلکہ پوری پوری حوصلہ افزائی کرتا ہے ۔ اسلام ساری انسانیت کا دین ہے ۔ وہ برتر اور مسلمہ اخلاقیات کا دین ہے ۔ وہ امن اور پیار و محبت کا دین ہے ۔ اس میں کسی طرح کی زور زبردستی اور فتنہ و فساد کی گنجائش نہیں ہے ۔ وہ ظلم و ستم اور وحشت و بربریت کا سب سے بڑ ا مخالف ہے ۔ وہ باطل کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے تو بہرحال تیار نہیں ہے لیکن اس کے معاملے میں اس حد تک پوری طرح رواداری کا قائل ہے کہ اس کے حامی و وارث بھی زندگی کا پورا پورا حق رکھتے اور اپنے مذہب و مراسم کو بجالانے کے لیے پوری طرح آزاد ہیں۔


اسلام کی ان تعلیمات کو سوسائٹی میں فروغ دیجیے ۔ توحید و رسالت و آخرت اور بلند اخلاقی و انسان دوستی پر مبنی اسلامی پیغام کو پھیلائیے ۔ جب معاشرے کی اکثریت اس پیغام کو اپنی فطرت، اپنی روح اور اپنے دل و دماغ کی آواز و صدا سمجھ کر قبول کر لے گی اور اسے اپنی زندگی بنالے گی، اسلامی نظام و قانون آپ سے آپ سماج کے ماحول اور اجتماعی نظم کو بدلنا اور اسے صالح و پاکیزہ بنانا شروع کر دیں گے ۔ اور وہ وقت بھی آجائے گا جب وقت کا حکمران دور کسی دریا کے کنارے مرنے والے بھوکے کتوں کے لیے بھی فکرمند و پریشان ہو گا، وقت کا خلیفہ اور حکمران ایک عام آدمی کی طرح قاضی کی عدالت اور کٹہرے میں کھڑ ا ہو گا اور سستا اور فوری انصاف لوگوں کے در پر دستک دے گا اور ان کی چوکھٹ پر خود چل کر جائے گا۔وہ وقت دوبارہ لوٹ کر آ سکتا اور تاریخ کا نقشہ پھر سے اسی ڈھب پر استوار ہو سکتا ہے مگر اس کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ طریقہ اور طرز اپنایا جائے جو خدا کے رسول اور آپ کے جلیل القدر اصحاب نے اپنایا تھا۔ وہ طریقہ زور زبردستی، لڑ ائی جھگڑ ے ، قتل و غارگری اور سیاست بازی کا طریقہ نہیں تھا بلکہ سراپا امن و خیرخواہی بن کر خدا کے پیغام و کلام کو عام کرنے اور لوگوں کو توحید و رسالت و آخرت کے حقائق پر ایمان لانے کی دعوت دینے کا طریقہ تھا۔ بلند اخلاقیات اور انسانی الفت و ہمدردی کو اپنی زندگی بنا کر جینے کا طریقہ تھا۔ ہم بھی اسی طریقے کو اپنا کر اور رسول و اصحابِ رسول کے نقوشِ سیرت کو اختیار کرکے ہی اپنے معاشرے کے افراد کے فکر و عمل میں تبدیلی اور اس کے نتیجے میں سوسائٹی میں بحیثیتِ مجموعی درجہ بدرجہ ایک پائیدار و مضبوط انقلاب لا سکتے اور اپنے معاشرے کو زبانی ہی نہیں عملی، واقعاتی اور حقیقی طور پر اسلام کا گہوارہ اور قلعہ بنا سکتے ہیں ۔
saba2
Moderator

PAKISTAN
Posted - Saturday, July 31, 2010  -  6:03 PM Reply with quote
Finally your topic has come on the screen.
You are an idealist, this will never happen not for another 50 years or so. Religion is the strongest weapon these days and when religion is used as a weapon, through fear and instigation you have a hysterical blind following.
The humane part is no more instead of kindness comes cruelty and the preacher becomes the controller fear and insecurity is constantly fed into the society non issues become issues and kindness equality and freedom found no more.
I don't see it happening, do you?
safimera

CANADA
Posted - Sunday, August 01, 2010  -  7:49 AM Reply with quote
salam

I agreed with saba that isfi22 is idealist.....good for him...to be idealist is better than to be pessimist....

but it is true that what isfi22 is saying..... it could not happen, may be, in thousands years....

yes!! God can do anything but I do not think it is GOD's scheme, anyway....He has to take TEST for all human beings for Akhirah.....and for this purpose "perfect inqalab"..."perfect society" is not possible....

Political or power "inqalab"...did happen in history.....but the inqalab isfi22 wants ..never happened in history with leaders without GOD's declared revealation ..I mean only some prophets of GOD.

And people followed the prophet , because they believe that "this person has direct orders and guidance from GOD" ...so they are very much firm that whatever we are doing is RIGHT.....BUT IT could not happen in other leaders...so they could not bring the inqalab what isfi22 suggested.

but I agree, we should have an IDEAL strategy in our mind and in our dreams if we want it in reality even 50% of it .

and we should continue to try close to ideal system....wheather we would win or not in this world....we would definitely win by the grace of GOD, in akhirah anyway, individually, if we would not stop "jaddo jahud" (sincere efforts)....

GOD KNOWS BETTER..
saba2
Moderator

PAKISTAN
Posted - Sunday, August 01, 2010  -  10:38 AM Reply with quote
Good to hear from you Safimera after a long break. I know I am sounding pessimistic but that is how I see the situation,but it does not mean we stop trying we should all continue in our efforts wherever and whenever we can. I have learnt the hardway that you cannot elevate everyone's suffering cannot solve each and every problem, the best thing is keep at it and not to give up and most important not to desensitize yourself ....... this is tough and it takes its toll on you but this is the only way.
Revolution....... I don't see it coming
safimera

CANADA
Posted - Sunday, August 01, 2010  -  1:55 PM Reply with quote
quote:

Revolution....... I don't see it coming


me too...............

if it is revolution like Mr isfi22 mentioned...I love to be wrong....
but I also do not see it coming!!!!!!!!!!
isfi22

PAKISTAN
Posted - Monday, August 02, 2010  -  11:12 AM Reply with quote
میں نے آپ لوگوں کے تبصرے پڑھ لیے ہیں۔ اس وقت میرے والد صاحب ہاسپٹلائز ہیں۔ جس کے باعث میں فی الحال کافی مصروف ہوں اور اتنا وقت نہیں پارہا کہ آپ کے تبصروں کے حوالے سے کچھ وضاحت پیشِ خدمت کرسکوں۔ تاہم آپ لوگوں کے تبصروں پر بہت حیران ہوں کہ آخر کس طرح آپ نے میری معروضات کو خیالی جنت کا نقشہ ترتیب دینا باور کرلیا۔ تاہم تفصیلی جواب میں شاید بعد میں دے سکوں۔ فی الحال بغیر کسی تفصیل کے عرض کیے میں آپ سب سے اپنے والد کے لیے دعاگوئی کا خواستگار ہوں۔
safimera

CANADA
Posted - Monday, August 02, 2010  -  12:07 PM Reply with quote
isfi22===> May God give your father good health soon.....take care of your father....
inshAllah he would be well soon....
saba2
Moderator

PAKISTAN
Posted - Monday, August 02, 2010  -  12:21 PM Reply with quote
don't worry about our response put your time and effort with your father and our prayers are with him " May Allah speed his recovery and get him home with his family Aameen".
isfi22

PAKISTAN
Posted - Tuesday, August 03, 2010  -  7:38 PM Reply with quote
Thanks so much 4 your wishes and Prayers.

Pray also 4 all Pakistanies, they are in the worst situation of their history helpless and in a situation of not living and not dying.

God bless us all and all Muslims and all Mankind.
saba2
Moderator

PAKISTAN
Posted - Thursday, August 05, 2010  -  6:07 PM Reply with quote
Isfi I hope your father is getting better our prayers are with him and also people affected by floods and victims and families of the Air blue crash.
saba2
Moderator

PAKISTAN
Posted - Sunday, August 08, 2010  -  12:40 PM Reply with quote
Isfi your silence has me worried please just write a line to know how things are with you.
We have your father in our prayers.
isfi22

PAKISTAN
Posted - Sunday, August 08, 2010  -  3:15 PM Reply with quote
Salam All>>>

I am so much thankful to all of you who are praying continuiously 4 my Father. He is a little bit better. He is at home now. Treatment is going on according to the Doctor's Advise. He has infaction in his left leg under the knee portion and he is now 60 +, so Medicines are effecting very slowly. Plz continue your sincere Prayers. We whole family is in a big test situation and we are very much in need of your sincere prayers as our other millions of Pakistani Brothers and Sisters are.

God bless and help us all and all the Mankind.
aslammir

PAKISTAN
Posted - Saturday, August 14, 2010  -  1:50 AM Reply with quote
May Allah help recover ur father Isfandyar !
You are right that we should also pray for the affectees of flood and help them in every possible way!
saba2
Moderator

PAKISTAN
Posted - Sunday, August 15, 2010  -  5:59 AM Reply with quote
isfi how is your father doing? He is in our prayers , hope you can find the time to tell us why you think the revolution you described can happen in the next say 10 years?
isfi22

PAKISTAN
Posted - Monday, August 16, 2010  -  6:45 AM Reply with quote
آپ لوگ میرے والد کے لیے فکرمند و دعا گو ہیں، اللہ تعالیٰ اس کے لیے آپ کو بے پناہ اجر و ثواب عطا فرمائے اور آپ کی پرخلوص دعاؤں کو میرے والد اور دیگر مصیبت و پریشانی کا شکار پاکستانی بھائی بہنوں کے حق میں قبول فرمائے، آمین۔ والد صاحب ماشاء اللہ آہستہ آہستہ بہتر ہورہے ہیں لیکن ایک شخص اچانک چلتے پھرتے جب بستر کی حدود تک محدود ہوجائے اور یہ وقفہ لمبا ہوتا چلا جائے اور علاج اسے جلد از جلد اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے بجائے لٹکاتا اور بار بار آس دلاکر توڑتا چلا جائے تو اس شخص کی ذہنی کوفت و بیزاری کس قدر شدید ہوسکتی ہے، وہی میرے والد کی حالت ہے۔ وہ اس کنڈیشن سے ایڈجسٹ نہیں کرپارہے کہ میں بھلا چنگا تھا، ہر جگہ جاتا اور گھر کا سارا سامان خود لاتا تھا اور بالکل ٹھیک ٹھاک چلتا پھرتا تھا، یہ اچانک مجھے کیا ہوگیا کہ میرا پاؤں وزن نہیں لے رہا اور میں اپنے پیروں پر کھڑا ہونے سے بالکل لاچار ہوگیا ہوں اور اب بس میرے مقدر میں نہ جانے کب تک یہ کیفیت ہے کہ میں بستر پر پڑا کڑھتا رہوں اور بس صحت و تندرستی کی خیالی امیدوں میں جیوں، کیوں کہ علاج و دوا بظاہر بڑے ہی سست رفتار ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ گویا کچھ ہوہی نہیں رہا اور مجھے بس بستر پر بے یار و مددگار معاذ اللہ ختم ہونے کے لیے تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے حال پر رحم فرمائے اور ہم سب گھر والوں کو صبر و ہمت کے ساتھ ان کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے پاکستانی بہن بھائیوں کی حالتِ زار کو بھی حالتِ طرب بنادے اور ان کی مشکلات اور پریشانیاں جلد از جلد دور فرمائے، آمین۔

انقلاب کے موضوع پر میں نے جن خیالات کا اظہار کیا تھا، ان پر آپ کا تبصرہ پڑھ کر مجھے بڑی حیرانی ہوئی کہ جو لوگ اس فورم پر آتے جاتے اور محترم جاوید احمد غامدی صاحب اور ان کے حلقے کے دیگر اسکالرز کو پڑھتے اور سراہتے رہتے ہیں، انہیں کیسے میرے خیالات محض ذہنی اڑان اور خیالی و فکری پرواز محسوس ہوئے۔ گویا کہ میں نے جو کچھ عرض کیا تھا اس کا حقیقت کی دنیا سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے اور میں بس خیالات کے سمندر میں رومانوی ڈبکیاں لگارہا اور افسانوی غوطے کھارہا ہوں۔ میں نے جو باتیں اختصار کے ساتھ لکھی تھیں، تاریخِ انسانی کی ساری داستان اسی کی عملی و واقعاتی تفسیر ہے۔ تاریخ میں جب کبھی کوئی بڑا تغیر اور انقلاب واقع ہوا ہے اس کا ڈھنگ اور اس کی ترتیب یہی رہی ہے کہ پہلے کسی معاشرے اور قوم اور قبیلے یا گروہ کے فکر و مزاج میں تبدیلی رونما ہوتی ہے اور اس کے بعد بیرونی مظاہر و تفصیلاتِ زندگی اپنا قبلہ اور رنگ ڈھنگ تبدیل کرتے ہیں۔ عام زندگی میں اس کی نہایت قریبی اور نمایاں مثال یہ ہے کہ جو بچہ پڑھنے لکھنے میں دلچسپی لیتا اور اسکول جاکر علم و تربیت سے بہرہ مند ہوتا ہے وہ آنے والے دنوں میں عزت و مرتبہ پاتا اور سوسائٹی میں احترام و وقعت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اسے ہی سوسائٹی میں مقام، حیثیت، استحکام اور عروج و ترقی حاصل ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جو بچہ پڑھنے لکھنے کے بجائے کھیل کود میں اپنا وقت و محنت صرف کرتا اور آوارہ گردی جیسی مصروفیات میں زیادہ دلچسپی لیتا ہے زندگی کے اگلے دور میں وہ ایک محروم و پس ماندہ شخص کی حیثیت میں پہنچ جاتا اور سوسائٹی کے ایک ناکام اور زوال یافتہ اور قابلِ مذمت فرد کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ اسی مثال کے آئینے میں میری بات کو رکھ کر دیکھیے کہ انسانی زندگی میں اصل چیز فکر و مزاج اور دلچسپی و مشغولیات جیسی چیزیں ہیں۔ ان ہی کے موافق انسان کے حالات بنتے اور اسے مقام و حیثیت حاصل ہوتے ہیں۔ اگر آپ کسی انسان کو برباد کرنا چاہتے ہیں تو اس کے ذہن کو بگاڑ دیجیے، اس کے مزاج کو مسخ کردیجیے، اسے غلط اور مذموم دلچسپیوں اور کاروائیوں میں لگادیجیے، اس کے بعد اس کی تباہی اور زوال و ناکامی کے لیے آپ کو کچھ اور کرنے کی ضرورت نہ ہوگی، وہ خود اس راستے پر چل کر اپنی بربادی کی داستان رقم کرتا اور اس داستان کو مزید طول در طول دیتا چلاجائے گا۔

کیا یہی وہ باتیں ہیں، جنہیں آپ لوگ خیالی پرواز اور مجھے ان کی بنا پر آئڈیل پسند اور غیرحقیقی خواب دیکھنے والا شخص قرار دے رہے ہیں۔ اگر یہ باتیں ایسی ہی ہیں تو براہِ مہربانی محض اپنے منفی تبصرے نشر فرمانے کے بجائے ان کی خامی و غلطی کی تشریح کیجیے اور جس فکر و نقطۂ نظر کو اس معاملے میں آپ درست سمجھتے ہیں، اسے شرح و تفصیل کے ساتھ بیان کیجیے تاکہ ہم بھی تو دیکھ اور سمجھ سکیں کہ آخر ان باتوں میں وہ کیا غلطی ہے جس کی بنا پر یہ آپ کو کاغذی فلسفے اور نقلی و مصنوعی پھول نظر آرہے ہیں اور وہ کون سے قیمتی آراء و افکار ہیں جو ان کے برخلاف کسی معاشرے کو صالحیت و خوبی اور عروج و ترقی کی طرف لے جانے کے لیے زیادہ کارآمد و نافع اور سریع الرفتار ہیں۔ محض آپ کے منفی ریمارکس آپ کے ذاتی تأثر کا اظہار تو ہیں لیکن ان سے میرے خیالات کی لغزش و خامی اور اس کے برخلاف کسی نقطۂ نظر کی راستی و افادیت مبرہن نہیں ہوتی۔

میں نے اپنے خیالات کی تائید میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کا نقشہ بھی بایں الفاظ کھینچا تھا کہ " سب سے پہلے اسلام کی بنیادی دعوت اور توحید و رسالت و آخرت کا پیغام ہے جو اس وقت لوگوں کے سامنے پیش کیا گیا۔ بار بار کیا گیا۔ ہر ہر زاویے اور پہلو سے کیا گیا۔ اس کے حوالے سے لوگوں کے شکوک و شبہات اور مخالفین کے پیدا کردہ اعتراضات و شوشہ جات کا اطمینان بخش جواب دیا گیا۔ اس اولین مرحلے میں ہر طرح کا ظلم و ستم ہوا۔ قتل و غارت گری کا نشانہ بنایا گیا۔ وحشت و بربریت کا شکار کیا گیا، لیکن خدا کے پیغمبر اور آپ کے اصحاب سراپا صبر و عزیمت اور امن و آشتی بنے رہے ۔ پھر جب اسلام کی دعوت وقت کے ساتھ ساتھ پھیلتی چلی گئی اور سوسائٹی کی ایک بڑ ی تعداد اس کی حامی و پشت پناہ بن گئی تو بالکل فطری نتیجے کے طور پر اس سماج میں اسلامی حکومت ابھرتی چلی گئی تاآنکہ مدینہ میں پہلی اسلامی ریاست خدا کے رسول کی سربراہی میں قائم ہوگئی۔ اس کے علاوہ کفار سے جو جنگیں اور غزوات پیش آئے اور وہ جس طرح ذلیل و مغلوب کیے گئے ، اُس میں جہاں امتِ پیغمبر کے لیے بہت کچھ ہدایت و نمونہ موجود ہیں وہیں اس کا ایک بہت بڑ ا حصہ رسول اللہ کی حیثیتِ رسالت کے ساتھ مخصوص اور آپ کا اور آپ کے براہِ راست مخاطبین و مومنین صحابۂ کرام کا استثنائی معاملہ ہے ۔ آپ خدا کے رسول تھے ۔ رسالت کے قانون کے مطابق آپ کے مخاطبین کو حق کے آخری درجے میں واضح ہوجانے کے بعد بطورِ عذاب و سزا مغلوب و مفتوح کیا گیا اور صحابۂ کرام کو وقت کی سلطنت و فرمانروائی کے بڑ ے بڑ ے تخت و تاج کا مالک بنایا گیا۔"، اگر آپ سمجھتے ہیں کہ میں نے یہ نقشہ بھی ذاتی اپج کی کاریگری سے من مانے انداز میں وضع کیا ہے اور دراصل حقیقت کچھ اور ہے تو براہِ عنایت بتائیے کہ پھر اُس زمانے میں اور کیا ہوا تھا اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے وہ اصل نقوش کیا ہے، جنہوں نے انسانی اور عالمی تاریخ کا رخ موڑ دیا اور اسلام کو ایک ایسی شاندار و غالب و برتر و مؤثر تہذیب بنادیا کہ اس کے جلو میں دوسری کئی اقوام اور تہذیبیں بہہ گئیں اور اپنی پرانی شناخت و امتیازات بھول کر اس کے رنگ میں رنگ گئیں۔ قوموں کی زبان بدل گئی، ان کا رہن سہن اور انداز و ادا سب تبدیل ہوگئے اور یہ سب کسی جبر و اکراہ اور سیاسی بالادستی ہی کا نتیجہ نہ تھا بلکہ اس میں سب سے زیادہ دخل اسلام کی تعلیمات و خصوصیات اور خدا کے آخری آسمانی کلام کی الہامی تجلیات کو تھا۔ یعنی فکری و مزاجی تبدیلی نے ان کی معاش و معاشرت اور تہذیب و سیاست ہر چیز کو بدل کر اور ایک نئے سانچے میں ڈھال کر رکھ دیا۔ خود اگر ہم اپنے آباء و اجداد اور اپنی قومی تاریخ کا جائزہ لیں تو ہمارے پرانے لوگ بھی جس چیز سے مغلوب ہوکر اسلام کے دامن وابستہ بنے وہ محض کوئی فوجی و سیاسی یلغار نہ تھی کہ جس کے باعث ہم اپنی روایات اور تہذیب سب کچھ کو بھول گئے، بلکہ یہ اسلام کے فکر و نظریے کی برتری تھی جس نے ہمارے بڑوں اور اجداد کے اذہان کو مفتوح کرکے انہیں اپنے ماضی سے کاٹ کر اسلام کی روایات کا اس درجہ امین بنادیا کہ آج ہم ان کی اگلی نسلیں اپنے ان اجداد کے ماضی اور ان کی تہذیب کے بجائے اسلام سے اپنی نسبت پر فخر اور اصرار کرتے ہیں۔ آج بھی دنیا بھر میں کتنے ہی لوگ اپنا مذہب اور لائف اسٹائل جو بدلتے ہیں تو وہ کسی زور زبردستی اور تشدد و جبر کے بجائے کسی مذہبی و روحانی فکر سے ان کے تأثر و مغلوبیت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ یہ سارے انسانی واقعات و مظاہر اسی بات کی تائید کررہے ہیں کہ اگر آپ کسی سوسائٹی اور معاشرے کو تبدیل کرنا اور اس میں کسی خاص فکر و نظریے پر مبنی اجتماعی ماحول و نظام لانا چاہتے ہیں تو پہلے معاشرے کے افراد کے اذہان کو اس فکر و نظریے کی فوقیت و برتری کا قائل بنائیے، اس کے حوالے سے ان کے شکوک و شبہات، خدشات و اعتراضات وغیرہ دور کرنے کا تشفی بخش سامان کیجیے۔ انہیں دل و جان اور دل و دماغ اور روح و مزاج سے اس کا ہمنوا و معتقد بنائیے اور اس کے ساتھ ان کی وابستگی اور گرویدگی کو اتنا پروان چڑھائیے کہ وہ اس کی خاطر جینے اور مرنے کے لیے گہرائی کے ساتھ آمادہ و تیار ہوجائیں۔ اس کے بعد آپ سے آپ بالکل فطری نتیجے کے طور پر وہ فکر و نظریہ اس سماج کا غالب نقطۂ نظر بن کر ابھرے گا اور اس کی تعلیمات کے موافق اجتماعی ماحول و نظام ہی اس سوسائٹی میں چل سکیں گے۔ کیوں کہ یہ ایک بڑی انسانی حقیقت ہے کہ کسی سماج میں وہی نظام و قانون رائج رہ سکتا ہے جس کی پشت پر عوامی قوت و تائید موجود ہو، عوام اگر کسی فکر و نظام کے مخالف و دشمن بن جائیں تو ایسی سوسائٹی میں اس فکر و نظام کا جاری رہنا محال و ناممکن ہوجاتا ہے۔ یہ انسانی حقیقت آج تو اور بھی زیادہ ثابت شدہ بن چکی ہے اور اس وقت تو ماضی میں آنے والے مختلف فکری و نظامی انقلابات کی بدولت اس درجہ راسخ ہوچکی ہے کہ اب عوام کی اکثریت کی رائے اور مانگ کے خلاف جانا بڑے بڑے ڈکٹیٹروں کے لیے بھی ممکن نہیں رہا تو پھر کیسے ممکن ہے کہ اگر کوئی فکر و دعوت بڑے پیمانے پر کسی قوم و معاشرے کے افراد کو مفتوح کرنے اور اپنی تائید و حمایت میں کھڑا کرنے میں کامیاب ہوجائے، اس کے باوجود کچھ دوسری قوتیں اسے سماج میں بروئے کار نہ آنے دیں اور اجتماعی ماحول و نظام کو اس کے خلاف سمت میں چلاتے رہنے میں کامیابی حاصل کرسکیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ اسلام کے ماننے والوں نے اسلام کو اس کی اصل تعلیمات کی شکل میں کبھی ایک عمومی دعوت بنایا ہی نہیں ہے۔ یا تو اسلام کی دعوت و تبلیغ کا کہیں کام ہی نہیں ہوا یا پھر اسے سیاسی انقلاب یا جزئی مسائل اور فرضی و مبالغہ آمیز فضائل جیسی شکلوں میں عمومی دعوت و تبلیغ کا عنوان بنایا گیا ہے۔ اسلام کو خدا وابستگی، توحید پسندی، آخرت پروری، انسان دوستی، تحقیق و ترقی طلبی اور صالحیت خواہی جیسی اساسی اسلامی بنیادوں پر کبھی عمومی دعوت و تبلیغ کے میدان میں لایا ہی نہیں گیا۔

آج آپ لوگوں اور آپ کی طرح سوچنے والوں کو جو یہ بات دور کی کوڑی اور فرضی تخیل پسندی معلوم ہوتی ہے کہ اسلام کو فکری دعوت کے میدان میں سرگرم کیا جائے اور جب تک کسی معاشرے کے افراد کی اکثریت اس فکر کو قبول نہ کرلے اُس وقت تک امن و صبر اور انتظار سے کام لیا جائے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کے اولین غلبے اور بعد کے پھیلاؤ کے نتیجے میں اسلام نے جو ایک سپر پاور اور نہایت غالب و برتر تہذیب کی حیثیت اختیار کی اور جس کی مدت ہزار سال رہی، اس واقعے نے مسلمانوں کے ذہن و فکر پر نہایت گہرے اثرات ڈالے اور اس سے ان کے خیالات و تصورات میں حاکمیت اور برتری جیسے جذبات بڑی شدت سے راسخ ہوگئے۔ اس چیز نے ان کی مذہبی فکر پر بھی اثر کیا اور بعد میں اسلامی دعوت خدا پرستی، آخرت پروری اور صالحیت پسندی کے بجائے سیاسی انقلاب اور تمدنی تعمیر و اصلاح کی شکل میں ابھری اور بالکل ہی ایک دنیوی اصلاح و سیاسی تبدیلی کی دعوت کی شکل میں ڈھل گئی۔ اسی کے ساتھ ساتھ دنیا کی تاریخ میں چند پچھلی صدیوں میں جو فلسفے منظر عام پر آئے اور ذہنوں پر راج کرنے لگے اور ان کی مقبولیت کے نتیجے میں جو بڑے بڑے انقلابات و واقعات عالمی پیمانے پر رونما ہوئے، ان سارے عوامل نے مل کر ساری دنیا کے انسانوں خصوصا مسلمانوں کے ذہن میں یہ بات بٹھادی کہ تبدیلی و تغیر اور انقلاب کا راستہ پر امن فکری جدوجہد نہیں بلکہ تشدد اور جبر و اکراہ کا راستہ ہے۔ یہ مطالبات کے ذریعے واقع نہیں ہوتا بلکہ اسلحہ لے کر اٹھ کھڑے ہونے اور اپنے اپنے طور پر جہاد و قتال کے میدان میں کود پڑنے سے یہ منزل قریب آتی ہے۔ اسی فکر کا نتیجہ آج ہم اس صورت میں دیکھ رہے ہیں کہ نہ جانے کتنی بے شمار مسلم تنظیمیں اور گروپس مسلح جدوجہد کے راستے پر گامزن ہیں اور ہر ایک اسلام کو غالب و سربلند کرنے کا نعرہ لگا رہا ہے۔ ان تنظیموں اور گروپس نے اسلام کی اصل تعلیمات کو پسِ پشت ڈال دیا ہے اور اسلام کا امیج یہ بنایا ہے کہ اسلام ایک خونخوار و تشدد پسند مذہب ہے۔ امن پسندی اور رواداری نام کی کوئی چیز اسلام میں پائی ہی نہیں جاتی۔ یہ وحشت و بربریت اور جنگ و جدال کا دین ہے۔ اور مسلمانوں کا ذہن یہ بن چکا ہے کہ وہ تو پیدا ہی حکومت کرنے اور دنیا کی امامت و قیادت فرمانے کے لیے ہوئے ہیں۔ یہ ان کا خدائی حق ہے اور اسلام اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے کہ اسلام کا نام لے کر حکومت و اقتدار کی کرسیوں اور طاقت و غلبہ کے منابع پر قابض ہونے کی مسلح اور پرتشدد کوششیں کی جائیں۔ اس سارے منظر نامے میں اسلام کی اصل تعلیمات کہ وہ ایک بندے کو اس کے خدا سے جوڑتا، اس کے حوالے سے اس کے تصورات کی تصحیح کرتا، اسے اس کی بندگی و فرمانبرداری و وفاداری کی دعوت دیتا، اسے آخرت کے حوالے سے حساس و فکرمند بناکر نیک کام کرنے اور برائیوں سے بچنے کی تلقین کرتا ہے، اسے انسانوں کے ساتھ رحمت و شفقت اور ہمدردی و خیرخواہی کی تعلیم دیتا ہے اور دنیا کے سارے مسائل و مشکلات سے اس کی نظریں ہٹاکر جنت اور جہنم کے مسئلے کو سب سے زیادہ سنگین و بھیانک بناکر اس کے سامنے رکھتا ہے، یہ ساری تعلیمات بالکل اوجھل و پوشیدہ ہوگئیں ہیں۔ آج اسلام کے نام پر چھپنے والی کتابوں اور نشر ہونے والی تقریروں اور خطبوں میں ان تعلیمات و خیالات کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں ہوتا بلکہ محض سیاست و اقتدار اور جنگ و جدال اور کشت و خون کی باتیں ہوتی ہیں۔ کیا یہ اسلامی حوالے سے کوئی اطمینان بخش اور نارمل صورتحال ہے۔ یقیناً نہیں۔ بلکہ یہ سراسر اسلام اور خدا کے دین سے انحراف و دوری کی علامت ہیں۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ سوچنے اور غور کرنے والے انہی کے زیرِ اثر تفکر فرماتے اور پھر یہ خیالات نشر فرماتے ہیں کہ فکری دعوت اور مزاجی تبدیلی کی باتیں تو فرضی تخیلات ہیں، ان سے کوئی معاشرہ اور قوم تبدیل تھوڑی ہوتے ہیں اور یہ راستہ تو ایک ایسا راستہ ہے کہ جس پر چل کر ہم اگلے پچاس یا سو سال تک بھی کسی تبدیلی اور انقلاب کی امید نہیں کرسکتے۔ اصل راستہ تو یہ ہے کہ ہم نکل کھڑے ہوں اور ایک عمومی یلغار کردیں اور جبر و تشدد اور زور زبردستی کے طریقے سے اپنے دین و مذہب کو انسانوں پر تھوپنے اور ٹھونسنے کی جدوجہد کریں اور طاقت و اسلحے کے بل بوتے پر اسلامی نظام اور شرعی قانون سماج میں جاری و نافذ کردیں۔

مجھے یقینی طور پر نہیں معلوم کہ آپ لوگوں کے خیالات یہی ہیں یا آپ کی سوچ کچھ الگ ہے، کیوں کہ میں آپ کے صرف منفی ریمارکس پر ہی مطلع ہوپایا ہوں۔ اپنا تفصیلی نقطۂ نظر آپ لوگوں نے چونکہ بیان نہیں کیا لہٰذا میں نے اُس فکر و نقطۂ نظر کو اشاراتی طور پر بیان کردیا اور اس پر اپنی تنقید بھی اختصار کے ساتھ پیش کردی ہے جو اس باب میں عموماً پیش کیا جاتا اور پر امن دعوتی جدوجہد کے بجائے پرتشدد جنگی و جہادی کاروائیوں کے سہارے اسلام کے غلبے کی بات کرتا ہے۔ ہمیں یہ پر امن دعوتی جدوجہد والی بات بڑی اوپری اوپری اور بہت صدیوں میں جاکر نتیجہ خیز ہوتی جو معلوم ہوتی ہے اس کی وجہ وہی ہے جو میں نے پہلے بھی بیان کی ہے کہ بہت عرصے سے اسلام کی اصل تعلیات کو پہلی ترجیح بناکر اسلام کو ایک عمومی دعوتی تحریک کے روپ میں چلایا ہی نہیں گیا بلکہ یا تو سیاسی انقلاب کی فکر کو اسلام کے نام پر پیش کیا جاتا رہا ہے یا پھر کچھ تنظیمیں عرصے سے ضعیف و موضوع فضائل اور جزئی و فروعی مسائل کی دھوم مچاکر اسلام کی دعوت و تبلیغ کا کریڈٹ لیتی رہی ہیں۔ توحید و رسالت و آخرت اور صالح اعمال و اخلاق و انسانیت جیسی اساسات کو اولین ترجیح بناکر اسلامی دعوت کی کوئی عمومی تحریک بڑی عرصے سے منظرِ عام پر چونکہ آئی ہی نہیں، لہٰذا لوگ وقت کی عمومی فضا اور ماضی قریب کے غالب فلسفوں اور انقلابوں کے زیرِ اثر یہ سمجھتے ہیں کہ اسلامی تعلیمات کے عمومی فروغ و پھیلاؤ کی بات کرنا اور اس راستے سے معاشرے میں تبدیلی کا خواب دیکھنا ایک رومانوی افسانہ ہے۔ مسلمان اگر اسلامی تعلیمات کی عظمت و بلندی اور نافعیت و تاثیر کو حقیقی طور پر جان لیں اور اس عزم کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوں کہ انہیں اسلام کی بنیادی تعلیمات اور قرآن کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے اور ہر ہر فرد تک اس کی زبان و اسلوب و معیار میں پہنچانا ہے تو آج بھی بغیر کسی دعوت و تبلیغ کے ہم جو سینکڑوں ہزاروں لوگوں کے اسلام قبول کرنے کے واقعات مختلف اطراف سے روزانہ سنتے رہتے ہیں، مسلمانوں کی شعوری کوشش و محنت کے بعد ان واقعات کی مقدار و کیفیت ہر چیز میں بے اندازہ اضافہ متوقع ہے اور پھر اس کے بعد اسلام کو غالب آنے اور انسانیت کے اجتماعی ماحول و نظام میں اپنی جگہ بنانے سے بھی کوئی نہیں روک سکے گا۔ تعلیم و تبلیغ اور فکری و مزاجی تبدیلی لانے کی جدوجہد ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے کسی سماج کے افراد کو بدلا جاسکتا اور اس کے اجتماعی نظام میں تغیر لایا جاسکتا ہے۔ یہ بات اسلام اور ہر دوسرے فکر و نقطۂ نظر کے لیے یکساں درست اور واحد مفیدِ مطلب راستہ ہے۔
saba2
Moderator

PAKISTAN
Posted - Monday, August 16, 2010  -  6:13 PM Reply with quote
Isfandyar you write so beautifully your usage of words, I wish I was so eloquent. I understand what you are saying and also agree to it to some extent. When I say I don't see it coming I don't mean you are wrong but that the conditions are such that it is going to take a long time for this thought to take root in our minds. Poverty and lack of education has left our common man open to exploitation and that is what is happening be it religion or democracy the result is the same. Tolerance and respect of individual thought has no place in our society. Inquisitiveness is killed in a child from day one. We cannot tolerate questions all we want is obedience, when independent thought is not present then there cannot be scientific investigation or innovation.
Religion has become a ritual it has not affected our souls we go through the rituals everyday every month every year but it does not affect our being our core. We are the same inside we will cheat exploit lie kill etc.
I know you are saying precisely the opposite of all that is happening you are saying religion from the heart the way our prophet preached and practiced. Right now how I see it is religion being used not for salvation but as a weapon, as a means of control. People will only stand up and say no more when they have a basic education which is meaningful and opens the mind to think independently.

Reply to Topic    Printer Friendly
Jump To:

1 2 3 4
Next page >>
Page 1 of 4


Share |


Copyright Studying-Islam © 2003-7  | Privacy Policy  | Code of Conduct  | An Affiliate of Al-Mawrid Institute of Islamic Sciences ®
Top    





eXTReMe Tracker