Powered by UITechs
Get password? Username Password
 
 
1 2
Next page >>
Page 1 of 2

  Reply to Topic    Printer Friendly 

AuthorTopic
sam10

USA
Topic initiated on Thursday, February 18, 2010  -  4:36 PM Reply with quote
Celebrating Prophet Muhammad (pbuh)'s Birthday


Salaam brothers and sisters
Can any1 please tell me whether it is ok or not to go on Milad's to celebrate the Prophets Birthday because im getting different answers and im really confused,my dad said its haram and it is prohibited in Islam and i'd like to see your views...
Anyway Allah Knows Best!
sam10
ibrahim

PAKISTAN
Posted - Friday, February 19, 2010  -  11:54 AM Reply with quote
W Salam dear sam

Pl note that ur fathers opinion isn't right as saying a thing haram needs a clear authenticiation from God or from His Prophet. This meelad thing is surely a thing of this age that's gorwing every year unfortunately. However it can't be called Haram.

You may decide either way but keep 1-2 things in ur mind in this regard:

a) If one do it assuming it a religious duty/action, he's indulging surely in a wrong thing.
b) praising our beloved prophet PBUH by reciting poetry about him or doing so in prose is a good act unless it contains some wrong matter in it like being OVER to some extent.
c) last but not hte least, Muhammed PBUH is such a personality that to be described daily & not only in this month of his birth & death.

hope it helps a bit
ur loving uncle
sheila

INDIA
Posted - Saturday, February 20, 2010  -  10:00 AM Reply with quote
Sam.salam to you. I think you will remain confused as I am because no one seems to reply here. Why our Moderators are sooooo Lazzzzy.or are they sad? I think best is that you reply to my valentine question see i have asked. and i try to reply to your's.
Here in India many many Muslims celebrate the birthday of Mohammadur rasoolullah salawatus salam. they call it Maulood. My mother & aunty also make nice HALWAS and we take it to neighbors and friends. i like lightening the little oil lamps we buy very cheap from the street shops. but my friend was telling me that her mother does not make halwa and they dont light up oil lamps or organize qawali songs or naat groups or anything like that. she says that this is Innovation and Mohammad sallalahuwasallam never taught us to waste time and money in these things. we should not copy christians who made up all these things...... for essa elehesalam and forgotten his the teachings and the real messageWe should be following his teachings and that he brought to us.the Quraan.

what do you do in usa?
sam10

USA
Posted - Monday, February 22, 2010  -  5:39 PM Reply with quote
Thank You sooo much for your replies, im not as much confused now!



Errmmm im not really from the USA im frm the UK,we dont really do milads here (well not that i know of)I do know that one of my mum's friends does a naat mehfil and islamic talks.


Why Is This Website So Dead
PPL TALK PLZ
sam...
sheila

INDIA
Posted - Saturday, March 06, 2010  -  1:15 PM Reply with quote
I think you are doing ok there sam10. But i like naats. I like the one that goes like this:

Quraan Paak unn pay utara gaya nadeem
aur may nay apnay dill may utara hay unn kaa naam

Shab hay agar firaaq sitaara hay unn ka naamm

May be these words are difficult for you, but i am in a bigger class than you

If others are dead, you can 'STAY ALIVE" :D :D TALK TALK !!
i think if you have anything good to say, you must come out with it instead of DYING with it in your HEARTS!!!!
aboosait

INDIA
Posted - Thursday, May 13, 2010  -  6:50 PM Reply with quote
quote:

Pl note that ur fathers opinion isn't right .........This meelad thing is surely a thing of this age......
You mean it is an act that was not prescribed in religion but something newly invented?

So if you invent new things and introduce them into Islam expecting reward for them it would fall under the category of 'Bid'ah'.

And the Prophet Sallallahu alaihiwasallam said,

"Every Bid'ah is misguidance and every misuidance is in hellfire".
isfi22

PAKISTAN
Posted - Wednesday, May 26, 2010  -  10:00 AM Reply with quote
25-05-2010

خدا کے آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے جاننے کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آپ نے انسانیت کے سامنے بندگی، انسانیت اور اعلیٰ اخلاق و بلند کردار و بہترین سیرت کا آخری آئیڈیل نمونہ پیش کیا ہے۔ خدا نے اپنی کتاب میں آپ کی اسی پہلو سے بڑی تحسین فرمائی ہے۔ آپ کے دشمن و مخالف بھی آپ کے برتر و بے مثل اخلاق کریمانہ کے گرویدہ تھے۔ بچوں کے ساتھ، خواتین کے ساتھ، بے زبان جانوروں کے ساتھ، ساتھیوں کے ساتھ، ماتحتوں کے ساتھ، دشمنوں کے ساتھ، زیردستوں کے ساتھ، حکمرانوں کے ساتھ غرض ہر طرح کے انسانی تعلقات و روابط و معاملات میں کون سا اخلاق و سلوک و برتاؤ آئیڈیل ہوسکتا ہے، یہ جاننے کے لیے کوئی بھی شخص دنیا کے کسی بھی کونے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے تربیت یافتہ صحابۂ کرام کی زندگیوں کی کتاب میں اس کا بہترین و اعلیٰ ترین و حسین ترین نمونہ دیکھ سکتا ہے۔

آپ سراپا محبت و شفقت تھے۔ اپنے ہوں یا غیر محمد عربی کا دامن ہر ایک کے لیے وسیع و کشادہ تھا۔ آپ ہر ایک کی دلداری، مہمان داری اور رعایت و پاسداری فرماتے تھے۔ آپ مجسم رأفت و عنایت تھے۔ انتہائی فیاض و سخی تھے۔ دشمنوں کی ایذاؤں اور مخالفتوں پر صبر کیسے کیا جاتا ہے اور دل کو بڑا اور کشادہ کرکے دشمنوں پر قابو پانے کے بعد انہیں سزا دینے اور ان سے بدلہ لینے کے بجائے انہیں معاف کرکے اور ان کے ساتھ عفو و درگزر کا معاملہ کرکے ان کا دل کس طرح جیتا جاتا ہے، اس کا بہترین آئینہ سیرت محمدی ہے۔

خدا کی بندگی و شکرگزاری کسے کہتے ہیں۔ خدا کے ساتھ گہرا عابدانہ و نیازمندانہ تعلق کیا ہوتا ہے۔ اپنے جذبات اور سرفروشیوں کو اپنے معبود و پرودگار کو کس جاں نثاری کے ساتھ ہدیہ و نذر کیا جاتا ہے۔ اور مشکل و آسان زندگی کی ہر ہر گھڑی میں کیسے خدا پر بھروسہ کیا جاتا اور اپنے اعتماد و توکل کو اس پر قائم رکھا جاتا ہے۔ سخت لمحات اور پر ہول و دہشت تجربات میں کیسے ثابت قدم رہا جاتا اور ڈٹا جاتا ہے ایسی ہر بات کے لیے آپ کی زندگی کے مبارک و پاکیزہ اوراق سبق اور مثالوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ اور سب سے بڑی سچائی یہ ہے جسے غیر مسلم محقیقن و مؤرخین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اسلام تلوار کے زور پر نہیں بلکہ آپ اور آپ کے تربیت یافتہ اصحاب کے مثالی اخلاق و کردار کے بل پر پھیلا اور دنیا کے کونے کونے میں پہنچا ہے۔

مسلمانوں کے لیے ہمیشہ سے سب سے اہم بات یہ رہی ہے کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و کردار کو اپنی زندگیوں میں اپنانے اور لانے کی کوشش کریں۔ اسلام کے معاملے میں واحد مثالی جماعت جماعت صحابہ نے بھی اسی روش کو اپنایا اور نتیجتاً عروج و ترقی کو پایا تھا۔ آج بھی مسلمانوں کے لیے یہی سب سے بڑی ضرورت اور سعادت کی بات ہے کہ وہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے نقوش سیرت کو اپنے لیے مشعل راہ بنائیں، آپ کے روشن و پاکیزہ اسوے کو اپنائیں اور اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کو آپ کی تعلیمات اور آپ کی زندگی کے واقعات کے مطابق منظم کریں۔ (اسفندیار عظمت) Isfi22@gmail.com
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

http://www.al-mawrid.org/pages/dl.php?book_id=69

مذکورہ لنک جاوید احمد غامدی صاحب کی کتاب "مقامات" پی ڈی ایف فارمٹ میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے ہے۔ یہ کتاب ان کے سالوں پر محیط قلمی سفر کے دوران لکھی گئی متفرق تحریروں کا مجموعہ ہے۔ اس میں صفحہ نمبر ۹۲ پر ان کا ایک مضمون "دیدۂ صورت پرست ما ست" میلاد النبی کے حوالے سے ایک لائق مطالعہ آرٹیکل ہے۔ جو اس سلسلے میں کسی مؤقف یا راے قائم کرنے کے سلسلے میں کافی اسی لیے یہ لنک میں نے یہاں ایڈ کیا ہے۔ (اسفندیار عظمت)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس ٹاپک پر سب کی بات پڑھنے کے بعد میں براہِ راست طور پر کسی کو مخاطب کیے بغیر چند گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں:

میلاد النبی ایک باقاعدہ رسم و تہوار کی شکل میں بلاشبہ جدید چیز ہے۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ زمانے کی رفتار کے ساتھ ساتھ اس میں مزید جدتیں اور نئی نئی چیزیں شامل ہوتی چلی جارہی ہیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی ثابت شدہ بات ہے کہ اسلام کے اولین ادوار اور بعد کی بھی کئی صدیوں میں اس رسم و تہوار کا کوئی خاص تو کیا عام سے عام نشان و پتہ نہیں ملتا۔ پھر موجودہ زمانے میں بھی یہ ملت مسلمہ کی سطح پر رائج کوئی عمومی طریقہ نہیں ہے بلکہ بہت سے اسلامی ممالک اس طرح کی چیزوں سے آج بھی سراسر ناواقف و لاعلم ہیں۔ یہ تفصیل واضح کردیتی ہے کہ یہ ایک نو ایجاد شدہ چیز ہے جسے مسلمانوں کے ایک حصے اور چند گنے چنے ممالک کے مسلمانوں نے اپنی ذاتی حیثیت و پسندیدگی کی بنیاد پر اختیار کررکھا ہے۔

اس کے جواز کے لیے جو علمی و استدلالی گفتگو اور فقہی و استنباطی مواد پیش کیا جاتا ہے اس سے قطع نظر اگر اسے سادہ معنوں میں سیرتِ نبوی کے واقعات اور اسوۂ رسول کے نقوش بیان کرنے کی ایک مجلس کے انداز میں منعقد کیا جائے اور میلاد النبی اور جشن ولادت جیسے ناموں اور اصطلاحوں سے پرہیز کیا جائے تو پھر اس پر اعتراض کرنے کی کوئی ضرورت نہیں رہتی۔ اگرچہ یہ سوال پوری قوت کے ساتھ باقی رہتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہمارے ایمان کی جان اور شان ہے۔ آپ ہماری ایمانی و اسلامی زندگی کے صبح و شام کی روشنی اور آفتاب و ماہ تاب ہیں۔ آپ کا تذکرہ اور آپ کے سیرت و کردار کے نقوش وغیرہ کا بیان اسلامی معاشرے میں ہر لحظہ و آن جاری و ساری رہنا چاہیے۔ تو پھر یہ ایک خاص دن یا مہینے میں اس طرح کی باقاعدہ مجالس و محافل کا انعقاد کیا معنیٰ رکھتا ہے۔

تاہم اس انداز و اسلوب اور خرافات و بدعات سے پوری طرح پرہیز کے ساتھ اسے بہرحال گوارا کرلیا جاسکتا ہے۔ لیکن اصل مسئلہ میلاد النبی جیسی چیزوں کے انعقاد کا نہیں ہے۔ بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام و مرتبے اور آپ کے کمالات و اختیارات کے حوالے سے بعض مسلمان حلقوں کے جو خیالات و تصورات ہیں وہ اصلاح کے متقاضی ہیں۔ میلاد جیسی چیزیں تو اصل میں علامت اور مختلف نتائج میں سے ایک نتیجہ ہیں۔ اصل اساسات وہ تصورات و نظریات ہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی سے وابستہ کرلیے گئے ہیں اور انہیں ایمان و اسلام اور آپ کے ادب و احترام کی بنیاد و معیار بنالیا گیا ہے۔

اس تحریر میں زیادہ تفصیل میں جانا ممکن و مناسب نہیں ہے۔ اس لیے ان اشارات پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ تاہم اصل دیکھنے کی چیز قرآن و سنت و احادیث کی تعلیمات، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کا طریقہ و طرز عمل اور اسلام کا مقصد و نصب العین ہے جن کی روشنی میں اس طرح کی چیزوں کی گنجائش ثابت کرنا آسان کام نہیں ہے۔ اسلام خدا کی بندگی سکھانے اور انسان کو اس دنیا کی آلائشوں سے بچ کر پاکیزگی اختیار کرنے کی تعلیم دینے آیا ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام و مرتبہ اس سے بہت بلند و بالا ہے کہ ہم اس طرح کی وقتی و عارضی و نمائشی مجالس منعقد کرکے آپ کی شخصیت و کمالات کا غیر واقعی، خلاف حقیقت، مبالغہ آمیز اور خودساختہ نقشہ کھینچیں اور سمجھیں کہ ہم نے آپ کی محبت و اتباع کا حق ادا کردیا۔ یہ حق آپ کی پیروی میں ایمان و عمل صالح کی مجاہدانہ زندگی اختیار کرنے، دین کی نصرت و دعوت کو اپنی زندگی کا مشن بنانے اور اس راہ میں آنے والی تمام مشکلات، تکالیف اور پریشانیوں کا صبر و ہمت کے ساتھ سامنا کرتے ہوئے جمے رہنے سے ادا ہوگا۔ اس طرح کی وقتی مجالس اور نمائشی جلوسوں کی دھوم مچانے سے نہیں۔ (اسفندیار عظمت) Isfi22@gmail.com
isfi22

PAKISTAN
Posted - Wednesday, May 26, 2010  -  12:45 PM Reply with quote
quote:

25-05-2010

خدا کے آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے جاننے کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آپ نے انسانیت کے سامنے بندگی، انسانیت اور اعلیٰ اخلاق و بلند کردار و بہترین سیرت کا آخری آئیڈیل نمونہ پیش کیا ہے۔ خدا نے اپنی کتاب میں آپ کی اسی پہلو سے بڑی تحسین فرمائی ہے۔ آپ کے دشمن و مخالف بھی آپ کے برتر و بے مثل اخلاق کریمانہ کے گرویدہ تھے۔ بچوں کے ساتھ، خواتین کے ساتھ، بے زبان جانوروں کے ساتھ، ساتھیوں کے ساتھ، ماتحتوں کے ساتھ، دشمنوں کے ساتھ، زیردستوں کے ساتھ، حکمرانوں کے ساتھ غرض ہر طرح کے انسانی تعلقات و روابط و معاملات میں کون سا اخلاق و سلوک و برتاؤ آئیڈیل ہوسکتا ہے، یہ جاننے کے لیے کوئی بھی شخص دنیا کے کسی بھی کونے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے تربیت یافتہ صحابۂ کرام کی زندگیوں کی کتاب میں اس کا بہترین و اعلیٰ ترین و حسین ترین نمونہ دیکھ سکتا ہے۔

آپ سراپا محبت و شفقت تھے۔ اپنے ہوں یا غیر محمد عربی کا دامن ہر ایک کے لیے وسیع و کشادہ تھا۔ آپ ہر ایک کی دلداری، مہمان داری اور رعایت و پاسداری فرماتے تھے۔ آپ مجسم رأفت و عنایت تھے۔ انتہائی فیاض و سخی تھے۔ دشمنوں کی ایذاؤں اور مخالفتوں پر صبر کیسے کیا جاتا ہے اور دل کو بڑا اور کشادہ کرکے دشمنوں پر قابو پانے کے بعد انہیں سزا دینے اور ان سے بدلہ لینے کے بجائے انہیں معاف کرکے اور ان کے ساتھ عفو و درگزر کا معاملہ کرکے ان کا دل کس طرح جیتا جاتا ہے، اس کا بہترین آئینہ سیرت محمدی ہے۔

خدا کی بندگی و شکرگزاری کسے کہتے ہیں۔ خدا کے ساتھ گہرا عابدانہ و نیازمندانہ تعلق کیا ہوتا ہے۔ اپنے جذبات اور سرفروشیوں کو اپنے معبود و پرودگار کو کس جاں نثاری کے ساتھ ہدیہ و نذر کیا جاتا ہے۔ اور مشکل و آسان زندگی کی ہر ہر گھڑی میں کیسے خدا پر بھروسہ کیا جاتا اور اپنے اعتماد و توکل کو اس پر قائم رکھا جاتا ہے۔ سخت لمحات اور پر ہول و دہشت تجربات میں کیسے ثابت قدم رہا جاتا اور ڈٹا جاتا ہے ایسی ہر بات کے لیے آپ کی زندگی کے مبارک و پاکیزہ اوراق سبق اور مثالوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ اور سب سے بڑی سچائی یہ ہے جسے غیر مسلم محقیقن و مؤرخین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اسلام تلوار کے زور پر نہیں بلکہ آپ اور آپ کے تربیت یافتہ اصحاب کے مثالی اخلاق و کردار کے بل پر پھیلا اور دنیا کے کونے کونے میں پہنچا ہے۔

مسلمانوں کے لیے ہمیشہ سے سب سے اہم بات یہ رہی ہے کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و کردار کو اپنی زندگیوں میں اپنانے اور لانے کی کوشش کریں۔ اسلام کے معاملے میں واحد مثالی جماعت جماعت صحابہ نے بھی اسی روش کو اپنایا اور نتیجتاً عروج و ترقی کو پایا تھا۔ آج بھی مسلمانوں کے لیے یہی سب سے بڑی ضرورت اور سعادت کی بات ہے کہ وہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے نقوش سیرت کو اپنے لیے مشعل راہ بنائیں، آپ کے روشن و پاکیزہ اسوے کو اپنائیں اور اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کو آپ کی تعلیمات اور آپ کی زندگی کے واقعات کے مطابق منظم کریں۔ (اسفندیار عظمت) Isfi22@gmail.com
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

http://www.al-mawrid.org/pages/dl.php?book_id=69

مذکورہ لنک جاوید احمد غامدی صاحب کی کتاب "مقامات" پی ڈی ایف فارمٹ میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے ہے۔ یہ کتاب ان کے سالوں پر محیط قلمی سفر کے دوران لکھی گئی متفرق تحریروں کا مجموعہ ہے۔ اس میں صفحہ نمبر ۹۲ پر ان کا ایک مضمون "دیدۂ صورت پرست ما ست" میلاد النبی کے حوالے سے ایک لائق مطالعہ آرٹیکل ہے۔ جو اس سلسلے میں کسی مؤقف یا راے قائم کرنے کے سلسلے میں کافی اسی لیے یہ لنک میں نے یہاں ایڈ کیا ہے۔ (اسفندیار عظمت)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس ٹاپک پر سب کی بات پڑھنے کے بعد میں براہِ راست طور پر کسی کو مخاطب کیے بغیر چند گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں:

میلاد النبی ایک باقاعدہ رسم و تہوار کی شکل میں بلاشبہ جدید چیز ہے۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ زمانے کی رفتار کے ساتھ ساتھ اس میں مزید جدتیں اور نئی نئی چیزیں شامل ہوتی چلی جارہی ہیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی ثابت شدہ بات ہے کہ اسلام کے اولین ادوار اور بعد کی بھی کئی صدیوں میں اس رسم و تہوار کا کوئی خاص تو کیا عام سے عام نشان و پتہ نہیں ملتا۔ پھر موجودہ زمانے میں بھی یہ ملت مسلمہ کی سطح پر رائج کوئی عمومی طریقہ نہیں ہے بلکہ بہت سے اسلامی ممالک اس طرح کی چیزوں سے آج بھی سراسر ناواقف و لاعلم ہیں۔ یہ تفصیل واضح کردیتی ہے کہ یہ ایک نو ایجاد شدہ چیز ہے جسے مسلمانوں کے ایک حصے اور چند گنے چنے ممالک کے مسلمانوں نے اپنی ذاتی حیثیت و پسندیدگی کی بنیاد پر اختیار کررکھا ہے۔

اس کے جواز کے لیے جو علمی و استدلالی گفتگو اور فقہی و استنباطی مواد پیش کیا جاتا ہے اس سے قطع نظر اگر اسے سادہ معنوں میں سیرتِ نبوی کے واقعات اور اسوۂ رسول کے نقوش بیان کرنے کی ایک مجلس کے انداز میں منعقد کیا جائے اور میلاد النبی اور جشن ولادت جیسے ناموں اور اصطلاحوں سے پرہیز کیا جائے تو پھر اس پر اعتراض کرنے کی کوئی ضرورت نہیں رہتی۔ اگرچہ یہ سوال پوری قوت کے ساتھ باقی رہتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہمارے ایمان کی جان اور شان ہے۔ آپ ہماری ایمانی و اسلامی زندگی کے صبح و شام کی روشنی اور آفتاب و ماہ تاب ہیں۔ آپ کا تذکرہ اور آپ کے سیرت و کردار کے نقوش وغیرہ کا بیان اسلامی معاشرے میں ہر لحظہ و آن جاری و ساری رہنا چاہیے۔ تو پھر یہ ایک خاص دن یا مہینے میں اس طرح کی باقاعدہ مجالس و محافل کا انعقاد کیا معنیٰ رکھتا ہے۔

تاہم اس انداز و اسلوب اور خرافات و بدعات سے پوری طرح پرہیز کے ساتھ اسے بہرحال گوارا کرلیا جاسکتا ہے۔ لیکن اصل مسئلہ میلاد النبی جیسی چیزوں کے انعقاد کا نہیں ہے۔ بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام و مرتبے اور آپ کے کمالات و اختیارات کے حوالے سے بعض مسلمان حلقوں کے جو خیالات و تصورات ہیں وہ اصلاح کے متقاضی ہیں۔ میلاد جیسی چیزیں تو اصل میں علامت اور مختلف نتائج میں سے ایک نتیجہ ہیں۔ اصل اساسات وہ تصورات و نظریات ہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی سے وابستہ کرلیے گئے ہیں اور انہیں ایمان و اسلام اور آپ کے ادب و احترام کی بنیاد و معیار بنالیا گیا ہے۔

اس تحریر میں زیادہ تفصیل میں جانا ممکن و مناسب نہیں ہے۔ اس لیے ان اشارات پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ تاہم اصل دیکھنے کی چیز قرآن و سنت و احادیث کی تعلیمات، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کا طریقہ و طرز عمل اور اسلام کا مقصد و نصب العین ہے جن کی روشنی میں اس طرح کی چیزوں کی گنجائش ثابت کرنا آسان کام نہیں ہے۔ اسلام خدا کی بندگی سکھانے اور انسان کو اس دنیا کی آلائشوں سے بچ کر پاکیزگی اختیار کرنے کی تعلیم دینے آیا ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام و مرتبہ اس سے بہت بلند و بالا ہے کہ ہم اس طرح کی وقتی و عارضی و نمائشی مجالس منعقد کرکے آپ کی شخصیت و کمالات کا غیر واقعی، خلاف حقیقت، مبالغہ آمیز اور خودساختہ نقشہ کھینچیں اور سمجھیں کہ ہم نے آپ کی محبت و اتباع کا حق ادا کردیا۔ یہ حق آپ کی پیروی میں ایمان و عمل صالح کی مجاہدانہ زندگی اختیار کرنے، دین کی نصرت و دعوت کو اپنی زندگی کا مشن بنانے اور اس راہ میں آنے والی تمام مشکلات، تکالیف اور پریشانیوں کا صبر و ہمت کے ساتھ سامنا کرتے ہوئے جمے رہنے سے ادا ہوگا۔ اس طرح کی وقتی مجالس اور نمائشی جلوسوں کی دھوم مچانے سے نہیں۔ (اسفندیار عظمت) Isfi22@gmail.com

aboosait

INDIA
Posted - Saturday, May 29, 2010  -  12:15 PM Reply with quote
Mods, why dont you move this to the Urdu section?
isfi22

PAKISTAN
Posted - Monday, May 31, 2010  -  8:46 AM Reply with quote
Dear Aboosait>>!!

Same reply and excuse as i have presented in front of you under some other topic>>>!!!
aboosait

INDIA
Posted - Monday, May 31, 2010  -  3:12 PM Reply with quote
quote:

Dear Aboosait>>!!

Same reply and excuse as i have presented in front of you under some other topic>>>!!!
Same here
isfi22

PAKISTAN
Posted - Wednesday, June 02, 2010  -  8:54 AM Reply with quote
haha...........

You are very strong <<Budy>>!

But only in objecting without strong reasons, not in accepting understandable and valid reasons>>!!
aboosait

INDIA
Posted - Wednesday, June 02, 2010  -  1:31 PM Reply with quote
quote:

haha...........

You are very strong <<Budy>>!

But only in objecting without strong reasons, not in accepting understandable and valid reasons>>!!
No more personal attacks please.

I have accepted your reasoning as valid but regret i will not be able to continue in this and other threads if it is converted into a multi lingual debate.


Edited by: aboosait on Wednesday, June 02, 2010 1:31 PM
isfi22

PAKISTAN
Posted - Wednesday, June 02, 2010  -  7:08 PM Reply with quote
I m sorry if i heart u dear. I did not meant it, but i request u again that plz let every one participate in different topics by his own lingual medium, convenient to him. You can carry on your discussion with the participant of a particular topic using same lingual medium as yours.

Don't take it so seriously and personally. Please try to understand and give some discounts to the weak or other language user participants.

Hope this will help u in understanding and letting us to go on with our own languages convenient to us.
aboosait

INDIA
Posted - Thursday, June 03, 2010  -  6:19 PM Reply with quote
quote:

........ but i request u again that plz let every one participate in different topics by his own lingual medium, convenient to him...........
Shall I post in Malayalam, Kannada or Tamil?
isfi22

PAKISTAN
Posted - Thursday, June 03, 2010  -  6:35 PM Reply with quote
Yes Sure>>>!!!

I dont think that there is any restriction in this>>!!

But this time you are showing only senseless behaviour. You can easlily understand that English and Urdu are understandable to the most of the participants of these forums, but Chinese, French etc languages are not on the same level and status.

I think that in this matter you have committed that you will not accept all rational and appealing to the concious arguments, and now you are showing your devotion to your commit.

But i m really sorry to say that this is not such a behaviour, we expect from a sincere, having common sense, educated, noble and wise person.

You are not only baseless and reasonless in this matter but also behaving like a tail of ........>>>!!!

Reply to Topic    Printer Friendly
Jump To:

1 2
Next page >>
Page 1 of 2


Share |


Copyright Studying-Islam © 2003-7  | Privacy Policy  | Code of Conduct  | An Affiliate of Al-Mawrid Institute of Islamic Sciences ®
Top    





eXTReMe Tracker