Powered by UITechs
Get password? Username Password
 
 
Page 1 of 1

  Reply to Topic    Printer Friendly 

AuthorTopic
AbuTalha

SAUDI ARABIA
Topic initiated on Sunday, August 17, 2008  -  10:07 AM Reply with quote
"اسلام كا قانون خورونوش" كے بارے ميں سوالات


محترم استاد صاحب (صديق بخاري صاحب) ميں آپ كے كورس "اسلام كا قانون خورونوش" كا طالب علم ھوں. براہ مھرباني درج ذيل كے بارے ميں ميري راھنماي فرمايں .١. چنگال والے پرندے ٢. جلالہ ٣. مردہ مچھلي اور سمندر ميں رہنے والے دوسرے آبي جانوروں كے بارے ميں اسلام كي كيا ہدايات ہيں؟ ٤. تير اور بندوق سے جو شكار كيا جاتا ہے اگر وہ ذبح ہونے سے پہلےمر جاے تو اس كے بارے ميں اسلام كي كيا تعليمات ہيں. ٥. بہايا ہوا خون سے كيا مراد ہے؟ تفصيل سے بتاہيں. ٦. صيد سے كيا مراد ہے؟
ibrahim

PAKISTAN
Posted - Wednesday, August 20, 2008  -  5:28 AM Reply with quote
میں نے آپ كے سوال دیکھ لیے ہیں۔ جواب کچھ تفصیل مانگ رہے ہیں اور میں اسی کی کوشش کر رہا ہوں۔
بخاري صاحب ماشاءاللہ عمرے کے سفر پر ہیں۔
ibrahim

PAKISTAN
Posted - Saturday, August 23, 2008  -  7:49 AM Reply with quote
کچلی والے درندوں اور چنگال والے پرندوں کی حرمت سے متعلق نبيۖ کی حدیث میں دراصل ہماری فطرت ہی کا بیان ہے۔
چنگال والے پرندوں سے مراد وہ پرندے ہیں جو اپنے پنجوں سے شکار کرتے اور انہی سے کھاتے ہیں۔ ان سے متعلق اگر اور کوئی وضاحت درکار ہے تو از راہ کرم واضح کریں۔ شکریہ
جلالہ سے سے مراد وہ جانور ہیں جو گندگی کھنے کے باعث خود بھی بدبودار ہو جاتے ہیں۔
مچھلي کا شمار مردار میں نہیں ہوتا ہے اور اسے بغیر ذبح کیے مردہ ہی کھایا جاتا ہے۔
دوسرے آبي جانوروں كے بارے ميں چونکہ قرآن و سنت میں واضح الفاظ میں کوئی حکم بیان نہیں ہوا ہے لہذا اس بارے میں فقہا کا اختلاف ہے۔ اگرچہ بعض لوگ قرآن کے الفاظ " احل لکم صید البحر" (سمندر کا شکار تمہارے لیے حلال ہے) سے ہر قسم کے آبی جانوروں کی حلت کے قائل ہیں۔ تاہم قرآن کے بتاۓ ہوۓ حلت و حرمت کے واضح اصول کہ " تمام خبائث حرام ہیں اور صرف طیبات ہی حلال ہیں" کی بنیاد پر ان لوگوں کی راۓ زیادہ درست ہے کہ اس اصول کا اطلاق آبي جانوروں پر بھی کیا جاۓ گا۔ نیز ان آبي جانوروں کو علیحدہ کیٹیگری شمار کیا جاۓ گا جو پانی کے ساتھ ساتھ خشکی پر بھی رہتے ہیں۔
تير اور بندوق سے جو شكار كيا جاتا ہے اگر تير اور بندوق کو اللہ کا نام لے کر چلایا گیا ہو اور جانور کا خون بہہ جاۓ تو پھر اگر وہ ذبح ہونے سے پہلے بھی مر جاۓ تب بھی وہ حلال ہے۔
بہايا ہوا خون سے مراد ذبح کرتے وقت بہایا جانے والا خون ہے۔
صيد سے مراد شکار ہے۔

Reply to Topic    Printer Friendly
Jump To:

Page 1 of 1


Share |


Copyright Studying-Islam © 2003-7  | Privacy Policy  | Code of Conduct  | An Affiliate of Al-Mawrid Institute of Islamic Sciences ®
Top    





eXTReMe Tracker