Powered by
UI
Techs
Home
>
Forums
>
>
عمومی بحث و نظر
>
دینی تعلیم کب ، کہاں اور کیسے ؟
Post Reply
Username
Invalid Username or Password
Password
Format
Andale Mono
Arial
Arial Black
Book Antiqua
Century Gothic
Comic Sans MS
Courier New
Georgia
Impact
Tahoma
Times New Roman
Trebuchet MS
Script MT Bold
Stencil
Verdana
Lucida Console
1
2
3
4
5
6
Message Icon
Message
- Forum Code is ON
- HTML is OFF
Smilies
[quote]بسم اللہ سلام علیکم ماشاء اللہ یہ ایک بہت ہی اہم ٹاپک ہے جس پر مجھے بہت خوشی ہے کہ آپ حضرات غور فرما رہے ہیں۔ یہ آپ لوگوں کی وسعتِ نظر کی نشانی ہے۔ اللہ آپ کو اس کی جزائے خیر عطا فرمائے۔ امین۔ میری کم علمی اور محدود مشاہدے کے مطابق (جو کہ میں نے پاکستان میں اپنے چھوٹے کزنز کے کورسز کو دیکھ کر قائم کیا ہے) اسلامیات کا سبجیکٹ بالکل معیار کے مطابق نہیں ہے۔ اس کی جگہ بہت سے دیگر غیر ضروری مضامین پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ مثلاً انگلش کے کئی پیریڈ ہوتے ہیں اور مختلف ناموں سے ہوتے ہیں (مثلاً انگلش ادب اور انگلش گرامر اور انگلش ناول وغیرہ یعنی صرف انگلش کے تین مختلف مضامین ہیں)۔ لیکن اس کا آؤٹ پٹ کیا ہے؟ میرے خیال میں جو چیزیں پاکستان میں بچے اتنے عرصے میں کر رہے ہیں، وہی چیزیں ہم یہاں یورپ میں بہت جلد کر لیتے ہیں۔ مثلاً میرے سکول میں چھٹی کلاس سے انگلش کا پہلا کورس متعارف کرایا گیا، جس کا نام تھا "انگلش بطور فارن لینگوئج" ۔ اور صرف دو سال یہ کورس کرنے کے بعد ہماری انگلش ان پاکستانی بچوں سے بہت بہتر تھی جو کہ میڑک کا امتحان دیتے ہیں۔ لہذا میری رائے تو یہی ہے کہ انگلش ادب اور ناول کے نام سے کورسز کا اتنا فائدہ نہیں ہے جتنا کہ انگلش کو بطور فارن لینگوئج کے کورس کرنے کا ہے۔ (امید ہے کہ آپ لوگ میری بات کو سمجھ پا رہے ہوں گے کہ انگلش بطور فارن لینگوئج کورس سے میری کیا مراد ہے)۔ اسلامی کورسز کے حساب سے دیکھا جائے تو مجھے سعودی عرب کا نظامِ تعلیم بہت پسند آیا ہے۔ اگرچہ کہ میرا اس سلسلے میں ڈائریکٹ تجربہ نہیں ہے ، مگر میں نے سعودی عرب سے آنے والے برادران سے بھرپور طریقے سے اس سلسلے میں سوالات کیے ہیں اور ان کے پاس قران کے بہت سے کورسز تھے مثلاً حفظِ قران، فقہ، تاریخ وغیرہ۔ ہم یورپ میں سکول کے دوران کم از کم دو فارن لینگوئجز سیکھتے (ایک انگلش اور ایک کوئی دوسری زبان مثلاً فرینچ یا سپینش لینگوئج)۔ پاکستان میں بھی انگلش کے ساتھ ساتھ عربی کی تعلیم پہلی کلاس سے دینی چاہئے۔ اور یہ عربی کی تعلیم بھی "عربی بطور فارن لینگوئج" کے ہونی چاہیئے۔ اور اسکا دورانیہ دو سال تک کم از کم ہونا چاہئے (یورپ میں بھی انگلش چھ سے آٹھ سال پڑھائی جاتی ہے جبکہ دوسری فارن لینگوئج دو سال تک پڑھ کر دوسرا کورس بھی سلیکٹ کر سکتے ہیں۔ دو سال عربی بطور فارن لینگوئج پڑھنے کے بعد ایک بنیاد مہیا ہو جائے گی جس کے بعد اگر بچے کو انٹرسٹ ہے تو وہ زندگی میں کبھی بھی اس بنیاد پر عمارت تعمیر کر سکتا ہے۔ اور چونکہ لاکھوں کے تعداد میں پاکستانی عرب ممالک میں کام کر رہے ہیں تو بچوں کا عربی سیکھنا اس بات کی ضمانت بھی ہو گا کہ انہیں ان عرب ممالک میں روزگار کے مواقع دوسری اقوام سے زیادہ حاصل ہوں گے۔ پاکستانی بچوں کا بیگ کتابوں سے اتنا بھرا ہوتا ہے کہ میرے لیے اٹھانا مشکل ہو گیا تھا۔ لیکن اس کا آؤٹ پُٹ مجھے نظر نہیں آتا ہے۔ چھٹی اور ساتویں کلاس میں فارن لینگوئجز (انگلش اور عربی) پر زیادہ زور دینا چاہیے اور پھر آٹھویں سے لیکے میٹرک تک سائنسی مضامین پر زور رہنا چاہیے۔ یہ میری رائے ہے جو کہ یقیناً اتنی اہمیت نہیں رکھتی ہے کیونکہ میں پاکستان کے نظامِ تعلیم سے اتنی زیادہ واقفیت نہیں رکھتی ہوں۔ مگر اس سلسلے میں اگر ہم سعودی عرب اور یورپ کے دیگر ممالک کے نظامِ تعلیم کا جائزہ لیں تو کسی بہتر نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کیونکہ یہ تقابل ہمیں ہمارنے نظامِ تعلیم کی خامیوں سے آگاہ کر دے گا۔ َََََََََّّّّّّّ::::::::::::::::::::::::::::::::::::::: جہاں تک تعلیمِ بالغاں کا تعلق ہے، تو اس سلسلے میں میں نے کبھی غور نہیں کیا ہے۔ اور اسی لیے میں اس سلسلے میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔ والسلام۔[/quote]
Mode
Prompt
Help
Basic
Check here to be notified by email whenever someone replies to your topic
Show Preview
Share
|
Copyright
Studying-Islam
© 2003-7 |
Privacy Policy
|
Code of Conduct
|
An Affiliate of
Al-Mawrid Institute of Islamic Sciences ®
Top